
غزہ امن منصوبہ: جنگ بندی سے پائیدار امن تک سب سے مشکل مرحلہ اب شروع ہوا…….سید عاطف ندیم
لیکن ایک سال کے قریب عرصے میں بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا غزہ کو جنگ سے نکال کر ایک ایسے سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی نظام تک پہنچایا جا سکتا ہے
غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی جامع منصوبے نے گزشتہ ایک برس کے دوران جنگ بندی، یرغمالیوں کی واپسی، انسانی امداد، عبوری انتظامِ حکومت اور تعمیرِ نو کے حوالے سے ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی قرارداد 2803 کے ذریعے توثیق دی۔ تاہم 2026 کے دوران سامنے آنے والی پیش رفت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی جنگ کو روک دینا اور ایک پائیدار سیاسی امن قائم کرنا دو بالکل مختلف مراحل ہیں۔
سلامتی کونسل نے 17 نومبر 2025 کو قرارداد 2803 منظور کی، جس میں ٹرمپ کے جامع منصوبے کی توثیق کی گئی اور فریقین سے اس پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد نے غزہ کی عبوری انتظامیہ اور تعمیرِ نو کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو مرکزی کردار دیا، جبکہ مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مؤثر اور محفوظ طور پر غزہ کا انتظام سنبھالنے کی گنجائش بھی رکھی گئی۔
لیکن ایک سال کے قریب عرصے میں بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا غزہ کو جنگ سے نکال کر ایک ایسے سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی نظام تک پہنچایا جا سکتا ہے جہاں دوبارہ مسلح تصادم کا امکان کم سے کم ہو؟
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں سب سے نمایاں کامیابی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی تھی۔ اصل منصوبے کے تحت تمام یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے اسرائیل کو 250 عمر قید کے سزا یافتہ قیدی اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد زیرحراست 1,700 غزہ کے باشندے رہا کرنا تھے۔ یعنی منصوبے میں مجموعی طور پر 1,950 فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل تھی، جبکہ ہلاک یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی کے بدلے بھی فلسطینیوں کی باقیات حوالے کرنے کا تناسب طے کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے بورڈ آف پیس سے متعلق تازہ رپورٹ کے مطابق یرغمالیوں کا بحران اب مکمل طور پر حل ہو چکا ہے اور آخری یرغمالی جنوری 2026 میں واپس آیا۔ رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں نے 251 اسرائیلی اور غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنایا تھا، جن میں سے 168 زندہ واپس آئے۔
انسانی امداد میں بھی جنگ کے بدترین دور کے مقابلے میں بہتری آئی، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ غزہ کا انسانی بحران ختم ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کی تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 1.9 ملین افراد بے گھر ہوئے ہیں، 60 فیصد سے زیادہ آبادی اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے اور انسانی ترقی تقریباً 77 سال پیچھے چلی گئی ہے۔
غزہ کی تعمیرِ نو کا اصل امتحان اس کے مالی حجم سے ظاہر ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور یورپی یونین کے مشترکہ Rapid Damage and Needs Assessment کے مطابق غزہ میں جنگ کے نتیجے میں براہِ راست جسمانی نقصانات کا تخمینہ 35.2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ اقتصادی اور سماجی نقصانات تقریباً 22.7 ارب ڈالر ہیں۔
مجموعی طور پر اگلے دس برس میں بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس رقم میں سے ابتدائی 18 ماہ کے دوران ہی تقریباً 26.3 ارب ڈالر ضروری ہوں گے تاکہ بنیادی خدمات، اہم انفراسٹرکچر اور معاشی سرگرمی بحال کی جا سکے۔
رہائش کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ تقریباً 371,888 مکانات تباہ یا نقصان زدہ ہوئے، جبکہ نصف سے زیادہ اسپتال غیر فعال ہو چکے ہیں اور تقریباً تمام اسکول متاثر ہوئے ہیں۔ غزہ کی معیشت بھی جنگ کے دوران تقریباً 84 فیصد سکڑ گئی۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ غزہ کی تعمیرِ نو صرف عمارتیں دوبارہ بنانے کا منصوبہ نہیں، بلکہ ایک مکمل معاشی اور سماجی بحالی کا عمل ہوگا۔
فروری 2026 میں واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے دوران غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 17 ارب ڈالر کے وعدوں کا اعلان کیا گیا۔
تاہم یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: pledge اور actual disbursement ایک چیز نہیں۔
بورڈ آف پیس کی اپنی رپورٹ کے مطابق 17 ارب ڈالر کے وعدے موصول ہوئے، لیکن committed اور disbursed رقم کے درمیان فرق اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یعنی کاغذ پر موجود رقم اور غزہ میں خرچ ہونے والی حقیقی رقم میں نمایاں فرق موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بورڈ آف پیس نے تعمیرِ نو کے ابتدائی مرحلے کے لیے 2.45 ارب ڈالر کا چھ ماہ کا منصوبہ پیش کیا۔
یہ منصوبہ 66 پروگراموں پر مشتمل ہے، جن میں بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، رہائش، توانائی، پانی، معیشت اور حکمرانی کی بحالی شامل ہے۔
یوں 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ 71.4 ارب ڈالر کی مجموعی ضرورت کا مکمل حل نہیں بلکہ ابتدائی بحالی کا مرحلہ ہے۔
غزہ امن منصوبے کا سب سے مشکل سوال یہی ہے۔
اس منصوبے میں جنگ کے خاتمے کو صرف جنگ بندی تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ غزہ کو غیر عسکری بنانے، مسلح گروہوں کی فوجی سرگرمیاں ختم کرنے اور سول انتظامیہ کو مکمل اختیار منتقل کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
2026 میں اس مقصد کے لیے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکہ نے مل کر ایک 15 نکاتی روڈ میپ تیار کیا۔ اقوام متحدہ کی دستاویز کے مطابق اس روڈ میپ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ غزہ میں ایک اختیار، ایک قانون اور ایک ہتھیار کا نظام قائم ہو اور نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کو عبوری سول و سکیورٹی انتظام کا مرکزی اختیار حاصل ہو۔
روڈ میپ کے مطابق مسلح گروہوں کے ہتھیار مرحلہ وار جمع، محفوظ اور غیر فعال کیے جانے ہیں۔ اس عمل کی نگرانی بین الاقوامی تصدیقی نظام کے ذریعے ہونی ہے۔
یہاں سے معاملہ دوبارہ اسی بنیادی تضاد تک پہنچ جاتا ہے۔
حماس کا مؤقف رہا ہے کہ اسرائیل کو بھی معاہدے کے مطابق اپنی فوجی موجودگی کم کرنا اور غزہ سے مرحلہ وار انخلا کرنا ہوگا۔
اسرائیل دوسری جانب یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے اسرائیلی فوج ’’یلو لائن‘‘ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اگست 2026 میں بورڈ آف پیس نے بھی واضح کیا کہ اسرائیلی انخلا حماس اور دیگر مسلح گروہوں کی غیر مسلح کاری کی تکمیل سے منسلک ہے۔
یوں مسئلہ محض ’’ہتھیار ڈالنے‘‘ کا نہیں بلکہ اعتماد، نگرانی، ضمانت اور ترتیبِ عمل کا ہے۔
دنیا کے مختلف تنازعات میں Disarmament, Demobilization and Reintegration — DDR یعنی غیر مسلح کاری، عسکری گروہوں سے علیحدگی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کا تصور استعمال کیا گیا ہے۔
اس ماڈل کا بنیادی خیال یہ ہے کہ صرف ہتھیار چھین لینا کافی نہیں۔ جنگجوؤں کو مسلح تنظیم سے الگ کرنے، انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے، روزگار یا تربیت دینے اور دوبارہ شہری زندگی میں شامل کرنے کے لیے ایک متبادل راستہ بھی ضروری ہے۔
اگر کسی سابق جنگجو کے پاس ہتھیار چھوڑنے کے بعد نہ روزگار ہو، نہ معاشرتی تحفظ، نہ سیاسی مستقبل اور نہ ہی کسی ادارے پر اعتماد، تو غیر مسلح کاری پائیدار ثابت ہونا مشکل ہو سکتی ہے۔
غزہ میں یہ مسئلہ اس لیے مزید پیچیدہ ہے کہ یہاں مسلح گروہوں، مقامی خاندانوں، سیاسی دھڑوں، پولیس، سول اداروں اور بیرونی سکیورٹی فورسز کے کردار کو ایک نئے نظام میں یکجا کرنا ہوگا۔
بورڈ آف پیس کے روڈ میپ میں بھی اسی مسئلے کا ایک ادارہ جاتی حل تجویز کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نئے تربیت یافتہ پولیس اہلکاروں کی جانچ پڑتال کی جائے، اہلکاروں کو موجودہ سول پولیس ڈھانچے میں شامل کیا جائے اور جو افراد مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتریں انہیں غیر مسلح سول کردار یا قانونی معاوضے کے راستے فراہم کیے جائیں۔
منصوبے کا دوسرا اہم ستون International Stabilisation Force (ISF) ہے۔
فروری میں پیش کیے گئے منصوبے کے مطابق طویل مدت میں تقریباً 20,000 بین الاقوامی اہلکاروں پر مشتمل فورس اور تقریباً 12,000 فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ سمیت پانچ ممالک نے فورس کے لیے اہلکار فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
یہ فورس صرف امن برقرار رکھنے والی طاقت نہیں ہوگی بلکہ اس کا تعلق جنگ بندی کی نگرانی، ہتھیاروں کی غیر عسکری کاری، نئے فلسطینی پولیس ڈھانچے کی تربیت اور بعض علاقوں میں سکیورٹی کی منتقلی سے بھی ہوگا۔
لیکن یہاں بھی سوال یہی ہے کہ اسرائیل، حماس، فلسطینی عوام اور بین الاقوامی فورس ایک دوسرے کے اختیارات کو کس حد تک قبول کریں گے۔
غزہ کا مستقبل صرف سکیورٹی کے ذریعے طے نہیں ہو سکتا۔
اسی لیے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ، یعنی NCAG، کو عبوری سول انتظامیہ کے طور پر اہم کردار دیا گیا ہے۔
اس کمیٹی کا مقصد روزمرہ شہری خدمات، بلدیاتی امور، انتظامیہ اور بحالی کے معاملات کو سیاسی و عسکری تنازع سے الگ رکھنا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق NCAG تشکیل پا چکی ہے اور غزہ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم مکمل نفاذ کے لیے اسے عملی رسائی اور مطلوبہ سکیورٹی ماحول درکار ہے۔
یہ مرحلہ اس لیے اہم ہے کہ اگر غزہ میں ایک قابلِ اعتماد سول انتظامیہ قائم نہیں ہوتی تو نہ بین الاقوامی امداد مؤثر طریقے سے تقسیم ہو سکے گی اور نہ تعمیرِ نو کے اربوں ڈالر طویل المدت ترقی میں تبدیل ہو سکیں گے۔
غزہ کی تعمیرِ نو کو صرف عمارتوں کی بحالی سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔
71.4 ارب ڈالر کی تخمینی ضرورت میں صحت، تعلیم، پانی، بجلی، رہائش، زراعت، صنعت، تجارت، روزگار اور سماجی تحفظ سب شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 70 ملین ٹن ملبہ صاف کرنا ہوگا اور بڑی مقدار میں غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد سے نمٹنا ہوگا۔ تقریباً 350 کلومیٹر سرنگوں کو بھی غیر مؤثر بنانے کا چیلنج موجود ہے۔
اس لیے تعمیرِ نو کا پہلا مرحلہ دراصل تعمیر سے پہلے صفائی، ملبہ ہٹانے، بارودی خطرات ختم کرنے اور بنیادی خدمات بحال کرنے کا مرحلہ ہوگا۔
اس سوال کا قطعی جواب اس وقت دینا ممکن نہیں۔
البتہ موجودہ حقائق سے یہ واضح ہے کہ منصوبے نے کئی ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے ضرور پیدا کر دیے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے: سلامتی کونسل کی توثیق، بورڈ آف پیس، NCAG، بین الاقوامی استحکام فورس کا تصور، تعمیرِ نو کا فنڈ اور 15 نکاتی عمل درآمد روڈ میپ۔
لیکن ان اداروں کا وجود بذاتِ خود امن کی ضمانت نہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ عمل درآمد کا باہمی تسلسل ہے۔ اگر حماس کے ہتھیار جمع کرنے کا عمل اسرائیلی انخلا سے پہلے شروع ہوتا ہے تو حماس کو سکیورٹی ضمانت درکار ہوگی۔ اگر اسرائیل پہلے انخلا کرتا ہے تو اسرائیل کو یہ ضمانت درکار ہوگی کہ حماس دوبارہ مسلح ہو کر خلا کو استعمال نہیں کرے گی۔
اسی لیے روڈ میپ نے ایک اہم اصول متعارف کرایا ہے: عمل درآمد کیلنڈر کے بجائے کارکردگی اور تصدیق سے منسلک ہوگا۔ یعنی اگلا مرحلہ اس وقت شروع ہوگا جب پچھلے مرحلے کی تکمیل کی تصدیق ہو جائے۔
یہی اصول شاید موجودہ تعطل سے نکلنے کی سب سے اہم کوشش ہے۔
غزہ میں امن صرف اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی سے قائم نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ایک ایسا نظام درکار ہوگا جس میں سکیورٹی، سول حکمرانی، تعمیرِ نو، معاشی بحالی اور فلسطینی سیاسی مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔
اگر ہتھیار ختم ہو جائیں لیکن سیاسی مسئلہ باقی رہے تو تنازع دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔
اگر تعمیرِ نو شروع ہو لیکن سکیورٹی نہ ہو تو اربوں ڈالر دوبارہ تباہ ہو سکتے ہیں۔
اگر سول حکومت قائم ہو لیکن فلسطینی عوام اسے نمائندہ اور قابلِ قبول نہ سمجھیں تو انتظامی خلا پیدا ہو سکتا ہے۔
اور اگر اسرائیلی سکیورٹی خدشات دور نہ ہوں تو مستقل فوجی موجودگی یا دوبارہ کارروائیوں کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔
اسی لیے غزہ کے لیے اصل چیلنج ’’جنگ بندی‘‘ نہیں بلکہ جنگ کے بعد ایک قابلِ عمل سیاسی نظام بنانا ہے۔
ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ اور اس کے بعد سامنے آنے والا 15 نکاتی روڈ میپ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سفارتی اعلانات سے زیادہ عملی اقدامات کی اہمیت ہے۔
71.4 ارب ڈالر کی تعمیرِ نو، 35.2 ارب ڈالر کے جسمانی نقصانات، 1.9 ملین بے گھر افراد، تقریباً 371,888 متاثرہ مکانات، 17 ارب ڈالر کے مالی وعدے اور ابتدائی 2.45 ارب ڈالر کے بحالی منصوبے اس بحران کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں۔
اب سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ منصوبہ کاغذ پر کتنا جامع ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا فریقین ایک دوسرے کے وعدوں کی قابلِ تصدیق ضمانت قبول کر سکتے ہیں؟
اگر ہتھیاروں کی غیر عسکری کاری، اسرائیلی انخلا، فلسطینی سول انتظامیہ، بین الاقوامی نگرانی اور تعمیرِ نو کو ایک مربوط اور مرحلہ وار عمل میں جوڑ دیا گیا تو غزہ کو جنگ سے بحالی کی طرف لے جانے کا راستہ بن سکتا ہے۔
لیکن اگر ہر فریق دوسرے سے پہلے قدم اٹھانے کا مطالبہ کرتا رہا تو 20 نکاتی منصوبہ، 15 نکاتی روڈ میپ اور اربوں ڈالر کے وعدے بھی صرف کاغذی فریم ورک بن کر رہ سکتے ہیں۔
غزہ میں امن کا اصل امتحان اب معاہدہ کرنے کا نہیں، معاہدے پر بیک وقت اور قابلِ تصدیق عمل کرنے کا ہے۔

