اسلم ندار سلہریکالمز

6نومبریومِ شہدائے جموں……..اسلم ندارسلہری

مسلمان آبادی کو مسلسل محصور کیا جا رہا تھا، ان کے راشن اور وسائل بند کیے جا رہے تھے اور انہیں یہ احساس دلایا جا رہا تھا کہ اس زمین پر اب ان کے لیے کوئی تحفظ باقی نہیں رہا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

6 نومبر کی تاریخ برصغیر کی مسلم تاریخ کا وہ باب ہے جس کے صفحات پر سیاہی نہیں بلکہ بے گناہ مظلوموں کا سرخ خون بکھرا ہوا ہے۔ یہ دن صرف ایک گزرے ہوئے واقعے کی یاد دہانی نہیں، بلکہ اس عظیم المناک سانحے کا تاریخی ماتم ہے جس نے جموں کے خطے میں آبادی کا تناسب بدلنے اور ایک پوری نسل کو تاریخ کی لامتناہی تاریکیوں میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ نومبر 1947ء کے ان ابتدائی ایام میں جب تقسیمِ ہند کا عمل جاری تھا اور لاکھوں انسان اپنے مستقبل کی تلاش میں سرگرداں تھے جموں کی وادیوں میں بے دردی اور بربریت کا ایک ایسا خونچکاں ڈرامہ رچایا گیا جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی ریاست جموں و کشمیر کے مسلم اکثریت والے اس خطے میں تناؤ کی فضا پیدا ہو چکی تھی۔ جموں کے مسلمان اپنے حقِ خودارادیت اور آزادی کی امید لگائے بیٹھے تھے لیکن مہاراجہ کی ریاستی طاقت اور اس کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرنے والے انتہا پسند گروہوں نے ان کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اکتوبر کے آخری دنوں اور نومبر کے ابتدائی ہفتے میں پورے جموں خطے کو ایک کھلے مقتل میں تبدیل کر دیا گیا۔ گلی کوچوں میں خوف کی سنسناتی ہوئی خاموشی تھی اور فضا میں دھوئیں کے بادل تیر رہے تھے۔ مسلمان آبادی کو مسلسل محصور کیا جا رہا تھا، ان کے راشن اور وسائل بند کیے جا رہے تھے اور انہیں یہ احساس دلایا جا رہا تھا کہ اس زمین پر اب ان کے لیے کوئی تحفظ باقی نہیں رہا۔اس تمام تر المیے کا سب سے دلسوز پہلو وہ فریب تھا جو 6 نومبر کے دن ان بے بس انسانوں کے ساتھ کھیلا گیا۔ جموں پولیس لائنز اور مختلف پناہ گزین کیمپوں میں جمع ہزاروں مسلمان خاندانوں سے یہ وعدہ کیا گیا کہ انہیں مکمل سرکاری حفاظت اور احترام کے ساتھ پاکستان کی سرحد یعنی سیالکوٹ کے قریب پہنچا دیا جائے گا۔ مسلسل خوف اور فاقہ کشی کے شکار ان مسلمانوں نے اس خبر کو اپنی زندگی کی نئی کرن سمجھا۔ معصوم بچوں کو گود میں لیے ماؤں، بوڑھے اور لاغر باپوں، اور نوجوانوں نے اپنے آبائی گھروں اور جائیدادوں کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہا اور لاریوں پر سوار ہو گئے۔ ان کے دلوں میں اپنے مستقبل کے لیے امیدیں تھیں اور وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید ان کا امتحان اب ختم ہونے والا ہے لیکن وہ اس خوفناک جال سے بے خبر تھے جو ریاستی پشت پناہی کے ساتھ ان کے لیے بچھایا جا چکا تھاجیسے ہی یہ قافلے شہر سے باہر نکلے اور جموں سیالکوٹ شاہراہ پر چھٹانی، روپہ وال اور سامبا کے مقام پر پہنچے پہلے سے گھات لگائے ہوئے مسلح گروہوں اور ڈوگرہ فورسز نے ان بے یارو مددگار مسافروں کو گھیر لیا۔ لاریوں کو روکا گیا نہتے لوگوں کو نیچے اتارا گیا اور پھر وہ بربریت شروع ہوئی جس کا تصور کر کے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ نہ معصوم بچوں کی چیخوں نے ظالموں کے دل موم کیے اور نہ ہی بوڑھوں اور خواتین کی التجاوں کا ان پر کوئی اثر ہوا۔ گھنٹوں کے اندر ہزاروں انسانوں کو تڑپا تڑپا کر شہید کر دیا گیا۔ جو دریا اور ندی نالے کبھی اس خطے کی خوبصورتی کا استعارہ تھے وہ اس دن ان بے گناہوں کے خون سے لال ہو گئے۔ ہزاروں خواتین کی عصمتیں پامال ہوئیں اور لاتعداد بچوں کو ان کے والدین کی آنکھوں کے سامنے ختم کر دیا گیا۔یہ صرف ایک دن کا قتلِ عام نہیں تھا بلکہ نومبر کے اس پورے مہینے میں جموں، سانبا، کٹھوعہ، ادھم پور اور ریسی کے اضلاع میں منظم طریقے سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مؤرخین اور عینی شاہدین کے مطابق اس عرصے میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور اتنی ہی تعداد میں لوگ شدید زخمی اور اپنا سب کچھ لٹا کر بالآخر سیالکوٹ کے پناہ گزین کیمپوں میں پہنچے۔ اس سانحے نے جموں کی آبادی کے ڈیموگرافک نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ وہ شہر اور دیہات جو مسلمانوں کی اذانوں، ثقافت اور تجارت سے آباد تھے، راتوں رات ویران کر دیے گئے اور ان کی جائیدادوں پر جبری قبضہ کر لیا گیا۔آج سات دہائیاں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی سانحہ جموں کا زخم تازہ ہے۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا وہ بنیاد پرست باب ہے جو ہر سال 6 نومبر کو کشمیریوں اور دنیا بھر کے باضمیر انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ آزادی کی قیمت کتنی سنگین اور خونچکاں رہی ہے۔ ان شہداء کا خون محض ایک تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ مظلوموں کی وہ چیخیں جو 1947ء کے ان خونیں ایام میں فضا میں گونجی تھیں، آج بھی انسانیت کے ضمیر پر دستک دے رہی ہیں اور سوال کر رہی ہیں کہ عالمی انصاف کے ادوار میں ان بے گناہوں کے خون کا حساب کب ہوگا۔6 نومبر کا دن ہمیں اس بات کا سبق دیتا ہے کہ قومیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو فراموش کر کے کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں۔ جموں کے ان لاکھ سے زائد شہداء نے اپنی جانیں دے کر جس جدوجہد کی بنیاد رکھی تھی، وہ آج بھی اپنے حق، عزت اور خودارادیت کی صورت میں قائم ہے۔ اس دن کی یاد منانا صرف آنسو بہانے کا نام نہیں بلکہ ان تمام مظلوموں کے عزم کو زندہ رکھنا ہے جنہوں نے ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کا راست انتخاب کیا۔ جب تک تاریخ زندہ ہے، سانحہ جموں کے شہداء کا لہو انسانی تاریخ کی پیشانی پر آزادی کی قیمت کی ناقابلِ فراموش دلیل بن کر چمکتا رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button