
ڈی پی اے کے ساتھ
برسلز: یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کجا کالس نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یورپی ممالک میں مزید تخریبی کارروائیوں اور جمہوری نظام کو متاثر کرنے کی کوششوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ممکنہ ہائبرڈ حملوں کے خطرات کے مقابلے کے لیے زیادہ چوکس رہیں اور کسی واقعے کے رونما ہونے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پیشگی اقدامات کی صلاحیت پیدا کریں۔
کجا کالس نے یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے قبل دیا، جہاں رکن ممالک کے وزرائے دفاع نے یورپ کو درپیش سکیورٹی خطرات، ہائبرڈ حملوں، دفاعی تیاری، یوکرین کے لیے حمایت اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
کالس کے مطابق یورپی انٹیلی جنس معلومات میں ایسے اشارے موجود ہیں کہ روس یورپی معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے، یوکرین کے لیے یورپی حمایت کو کمزور کرنے اور یورپی جمہوری اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے مزید سرگرمیوں کی تیاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کو ان خطرات کو سنجیدگی سے مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی اور سکیورٹی پالیسیوں میں پیشگی اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔
یورپی معاشروں میں تقسیم کا خدشہ
کالس نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ یورپی معاشروں میں اختلافات اور تقسیم کو بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے تاکہ یوکرین کی حمایت کے حوالے سے یورپی ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے متاثر ہو۔
ان کے مطابق روس کی مبینہ حکمت عملی میں روایتی فوجی کارروائیوں کے علاوہ ایسے طریقے بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہیں یورپی ممالک ہائبرڈ خطرات یا ہائبرڈ حملے قرار دیتے ہیں۔
ہائبرڈ خطرات میں سائبر حملے، حساس بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوششیں، تخریبی کارروائیاں، معلوماتی مہمات، جعلی یا گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ اور سیاسی یا سماجی تقسیم کو بڑھانے کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں۔
کالس نے زور دیا کہ یورپ کو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے محض ردعمل کی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسے اقدامات کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے جو ممکنہ حملے یا تخریبی کارروائی سے پہلے کیے جا سکیں۔
ہائبرڈ حملوں کے خلاف مشترکہ یورپی ردعمل
یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں ہائبرڈ حملوں کے خلاف یورپی بلاک کے مشترکہ ردعمل پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں ایک مجوزہ ہنگامی پروٹوکول پر بھی تبادلہ خیال متوقع تھا، جس کا مقصد کسی رکن ملک کو درپیش ہائبرڈ خطرے یا حملے کی صورت میں یورپی یونین کے اندر رابطہ کاری اور مشترکہ ردعمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
کالس کے مطابق یورپی ممالک کو اس نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ اقدامات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب یورپی حکومتیں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے وسیع تر اثرات کے ساتھ ساتھ اپنی سرزمین پر ممکنہ سائبر، تخریبی اور دیگر غیر روایتی سرگرمیوں کے خدشات پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔
یوکرین کے لیے یورپی حمایت بھی ایجنڈے میں شامل
یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں یوکرین کے لیے یورپی حمایت بھی اہم موضوع رہی۔
کالس کے مطابق یورپ کو ایک طرف اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا اور دوسری طرف یوکرین کے لیے جاری حمایت کے حوالے سے بھی اپنی پالیسی کو برقرار رکھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی سلامتی کے موجودہ ماحول میں دفاعی تیاری کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے، کیونکہ خطے کو صرف روایتی فوجی خطرات ہی نہیں بلکہ نئے نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
یورپی دفاعی صلاحیتوں میں خلا برقرار
یورپی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے کالس نے کہا کہ دفاع کے شعبے میں یورپی یونین کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود کئی اہم شعبوں میں صلاحیتوں کے خلا موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب توجہ ان خلا کو دور کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ یورپی ممالک کسی بھی ممکنہ سکیورٹی بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر طور پر تیار ہو سکیں۔
یورپی دفاعی تیاری کے حوالے سے اس بحث میں رکن ممالک کے درمیان وسائل، دفاعی سازوسامان، انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی اور دیگر دفاعی صلاحیتوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی اہم ہیں۔
کالس کے مطابق صرف دفاعی اخراجات میں اضافہ کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ سرمایہ کاری ان شعبوں میں کی جائے جہاں یورپی دفاعی نظام میں عملی خلا موجود ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی بھی اجلاس کا اہم موضوع
یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے ایجنڈے میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال بھی شامل تھی۔
کالس نے خصوصی طور پر یورپی یونین کے بحری آپریشن ایسپائڈز (ASPIDES) کی ضروریات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس آپریشن کو اضافی وسائل اور اثاثوں کی ضرورت ہے، خصوصاً ایسے بحری جہاز جو آبنائے باب المندب کے راستے تجارتی جہازوں کو محفوظ انداز میں لے جانے یا ان کی حفاظت کرنے میں معاون ثابت ہو سکیں۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب کا راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ خطے میں مسلح حملوں اور سکیورٹی خطرات کے باعث تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت اور عالمی سپلائی چین پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
آپریشن ایسپائڈز کے لیے مزید بحری جہازوں کی تجویز
کالس نے کہا کہ یورپی یونین اس امکان پر بھی غور کرے گی کہ بعض ایسے بحری جہاز جو الگ سے قائم کیے جانے والے "رضامند ممالک کے اتحاد” کے لیے پیش کیے گئے ہیں، انہیں عارضی طور پر آپریشن ایسپائڈز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے یورپی یونین کے بحری آپریشن کو اضافی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے اور باب المندب سمیت اہم سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں کی حفاظت میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ تجویز یورپی یونین کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے دوران اہم تجارتی بحری راستوں کو کھلا رکھنے اور یورپی مفادات سے منسلک بحری آمدورفت کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
روس کے خلاف الزامات اور یورپی تشویش
کجا کالس کا تازہ بیان روس کے ساتھ یورپی یونین کے بڑھتے ہوئے سکیورٹی اختلافات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد یورپی ممالک نے روس سے منسلک یا روس کی جانب منسوب مختلف ہائبرڈ سرگرمیوں، سائبر واقعات اور مبینہ تخریبی کارروائیوں کے خطرات پر اپنی توجہ بڑھائی ہے۔
تاہم روس کی جانب سے کسی مخصوص نئی کارروائی کی منصوبہ بندی کے بارے میں کالس کے دعوے کو آزادانہ طور پر ثابت کرنے والی تفصیلات ان کے بیان میں پیش نہیں کی گئیں۔ اس لیے ان دعوؤں کو یورپی یونین کی جانب سے پیش کیے گئے سکیورٹی جائزے اور خدشات کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ کسی ثابت شدہ آئندہ کارروائی کی اطلاع کے طور پر۔
یورپی یونین کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف ممکنہ خطرات کے خلاف اپنی دفاعی اور سکیورٹی صلاحیتوں کو مضبوط کرے اور دوسری طرف رکن ممالک کے درمیان مشترکہ پالیسی اور فوری ردعمل کے طریقہ کار کو بھی مؤثر بنائے۔
یورپ کی سکیورٹی پالیسی میں وسیع تر تبدیلی
کالس کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یورپی یونین کی دفاعی ترجیحات اب صرف روایتی جنگ اور فوجی خطرات تک محدود نہیں رہیں۔ سائبر سکیورٹی، اہم بنیادی ڈھانچے کا تحفظ، سمندری راستوں کی سلامتی، معلوماتی جنگ اور ممکنہ تخریبی کارروائیاں بھی یورپی دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی بحری تجارت کو درپیش خطرات کے باعث یورپی ممالک اپنی دفاعی تیاری اور مشترکہ سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کالس نے اسی تناظر میں یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کے خلاف پہلے سے تیاری کریں اور ایسے نظام تشکیل دیں جن کے ذریعے کسی ممکنہ حملے یا تخریبی کارروائی کی صورت میں فوری اور مشترکہ ردعمل دیا جا سکے۔
مجموعی طور پر یورپی یونین کے موجودہ دفاعی ایجنڈے میں روس سے منسوب ہائبرڈ خطرات، یوکرین کی حمایت، یورپی دفاعی صلاحیتوں میں موجود خلا اور مشرق وسطیٰ میں بحری سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہم چیلنجز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔



