
مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی، فلسطینی دکانداروں کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کیا گیا
مسجدِ اقصیٰ میں جاری سرگرمیوں اور فلسطینی کاروباروں کی بندش پر فلسطینی قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ایجنسیاں
مقبوضہ مشرقی یروشلم: سوکوت کے یہودی تہوار کے دوران مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی آبادکاروں کی آمد اور مذہبی رسومات کے ساتھ ساتھ قدیم شہر کے فلسطینی باشندوں اور تاجروں پر عائد پابندیوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ اسرائیلی حکام نے مسجدِ اقصیٰ کی جانب جانے والے تاریخی سوق القطانین (Cotton Merchants Market) میں درجنوں فلسطینی دکانداروں کو کاروبار بند رکھنے کا حکم دیا، جبکہ تقریباً 200 فلسطینی رہائشیوں کو عبادات کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی گئی۔
پیر، 28 ستمبر کو بھی اسرائیلی آبادکاروں کے گروہوں نے اسرائیلی پولیس کی سخت حفاظتی نگرانی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کیں۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اتوار کو تقریباً 1,143 آبادکار مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے، جبکہ فلسطینی ذرائع اور اسلامی وقف کے حوالے سے بعض رپورٹس میں یہ تعداد 1,500 سے زائد بتائی گئی ہے۔
اس دوران مسجدِ اقصیٰ کے مختلف حصوں، خصوصاً باب القطانین کے قریب، یہودی مذہبی رسومات، دعائیں اور دیگر سرگرمیاں کی گئیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق بعض افراد پودوں سے متعلق مذہبی نذرانے بھی احاطے میں لے کر آئے۔
سوکوت کے دوران کشیدگی میں اضافہ
یہ واقعات یہودی تہواروں کے جاری سلسلے کے دوران پیش آ رہے ہیں۔ رواں سال روش ہاشانہ 12 اور 13 ستمبر، یوم کپور 21 اور 22 ستمبر کو منایا گیا، جبکہ سوکوت 26 ستمبر سے 2 اکتوبر تک جاری ہے۔ اس کے بعد 3 اکتوبر کو سمچات توراہ منایا جائے گا۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق ان مذہبی ایام کے دوران مسجدِ اقصیٰ اور اس کے اطراف اسرائیلی پولیس کی سکیورٹی مزید سخت کی گئی ہے اور فلسطینی نمازیوں کی آمدورفت پر بھی مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ وفا کے مطابق ستمبر کے دوران مسجدِ اقصیٰ میں متعدد دراندازیوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
فلسطینی دکانداروں کو کاروبار بند رکھنے کا حکم
مسجدِ اقصیٰ سے متصل سوق القطانین میں صورتحال خاص طور پر حساس ہوگئی ہے۔ اسرائیل میں قائم ایسوسی ایشن فار سول رائٹس اِن اسرائیل (ACRI) کے مطابق اس بازار میں دکانوں، کیفے اور ریستورانوں سمیت 56 کاروباری مراکز موجود ہیں۔
تنظیم کے مطابق فلسطینی مالکان کو سوکوت کے دوران اپنے کاروبار بند رکھنے پر مجبور کیا گیا تاکہ بازار میں یہودی مذہبی عبادات کے لیے جگہ فراہم کی جا سکے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ تقریباً 200 فلسطینی رہائشیوں کو بھی عبادات کے اوقات میں گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی گئی۔
تاجروں کے مطابق یہ اقدام اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ ماضی میں ایسی پابندیاں مخصوص اوقات تک محدود رہتی تھیں، جبکہ اس مرتبہ انہیں تہوار کے زیادہ تر عرصے کے دوران کاروبار بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تحریری حکم کے بجائے زبانی ہدایات
ایسوسی ایشن فار سول رائٹس اِن اسرائیل کے مطابق پولیس نے گزشتہ ہفتے بعض تاجروں سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں بندش سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں پولیس اہلکاروں نے کاروباری مراکز کا دورہ کرکے مالکان کو براہِ راست بتایا کہ انہیں تہوار کے بیشتر دنوں میں اپنے کاروبار بند رکھنے ہوں گے۔
تنظیم کے مطابق تاجروں کو اس حوالے سے کوئی تحریری حکم یا باقاعدہ دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ کاروبار بند رکھنے کا مقصد بازار میں یہودی عبادات کے انعقاد کے لیے جگہ فراہم کرنا ہے۔
ACRI نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل کئی دنوں تک اس نوعیت کی پابندیوں کے لیے کسی مخصوص سکیورٹی واقعے کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔ تنظیم کے مطابق پولیس متبادل انتظامات کر سکتی تھی، جن میں عبادت کے راستے میں تبدیلی، عبادات کے اوقات محدود کرنا یا تاجروں اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے اضافی اہلکار تعینات کرنا شامل تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی شدید تنقید
ایسوسی ایشن کی وکیل تال ہاسن نے ان پابندیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی تاجروں کو پورے تہوار کے دوران کاروبار بند رکھنے اور سیکڑوں رہائشیوں کو اپنے گھروں تک محدود رکھنے سے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ رہائشیوں اور تاجروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی معمول کی زندگی بھی ممکن بنائی جائے، نہ کہ مذہبی اجتماعات کے لیے مقامی آبادی پر اضافی پابندیاں عائد کی جائیں۔
مسجدِ اقصیٰ پر دراندازیوں میں اضافہ
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ یہودی تہواروں کے دوران مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں آبادکاروں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔
وفا کے مطابق 13 ستمبر کو تقریباً 480 آبادکار مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوئے، جبکہ 20 ستمبر کو یوم کپور کے موقع پر تقریباً 100 آبادکاروں کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ فلسطینی گورنریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے اگست کے اختتام تک 40,661 آبادکار مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو چکے تھے، جبکہ فلسطینیوں کے مسجد میں داخلے پر پابندی سے متعلق تقریباً 800 احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔
یہ اعداد فلسطینی حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق دستیاب نہیں۔
فلسطینی قیادت کی مذمت
مسجدِ اقصیٰ میں جاری سرگرمیوں اور فلسطینی کاروباروں کی بندش پر فلسطینی قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے مسجدِ اقصیٰ میں مذہبی رسومات اور آبادکاروں کی آمد کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں مذہبی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
فلسطینی قیادت کا مؤقف ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی موجودہ مذہبی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مسجدِ اقصیٰ کی حیثیت
مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کے لیے اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک اور عام طور پر تیسرا مقدس ترین مقام شمار ہوتی ہے۔ یہ مقام مشرقی یروشلم کے قدیم شہر میں واقع ہے۔
یہودی مذہبی روایت میں اسی علاقے کو ٹیمپل ماؤنٹ کہا جاتا ہے اور یہودی مذہبی تاریخ میں یہاں قدیم یہودی ہیکلوں کی نسبت کی جاتی ہے۔ اسی مذہبی اور تاریخی اختلاف کے باعث یہ مقام اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے انتہائی حساس مراکز میں شامل ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کی موجودہ انتظامی اور مذہبی صورتِ حال کو عموماً اسٹیٹس کو کے نام سے بیان کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہودی عبادات اور مذہبی رسومات کے حوالے سے مختلف اقدامات اور واقعات نے اس انتظامی و مذہبی حیثیت پر بحث کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
پرانے شہر کی معیشت بھی متاثر
مسجدِ اقصیٰ کے اطراف پابندیوں کا اثر صرف مذہبی اور سیاسی سطح تک محدود نہیں بلکہ قدیم شہر کی مقامی معیشت بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔
مقبوضہ مشرقی یروشلم کے گورنریٹ نے 28 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ یہودی تہواروں کے دوران سڑکوں کی بندش، آمدورفت کی پابندیوں اور سکیورٹی اقدامات سے قدیم شہر کے دکانداروں، ریستورانوں، ہوٹلوں، سیاحتی کاروبار، دستکاروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔
گورنریٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی نے پہلے ہی یروشلم کے تاجروں کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ مذہبی تہواروں کے دوران اضافی پابندیاں ان مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ یہ مؤقف فلسطینی حکام کا ہے۔
مشرقی یروشلم کی متنازع حیثیت
مسجدِ اقصیٰ مشرقی یروشلم میں واقع ہے، جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اپنے کنٹرول میں لیا اور 1980 میں شہر کے الحاق کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ اور بیشتر عالمی برادری مشرقی یروشلم کی حیثیت کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقہ تصور کرتی ہے اور اسرائیلی الحاق کو تسلیم نہیں کرتی۔
فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں، جبکہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے۔ یہی متضاد دعوے شہر کی سیاسی حیثیت کو اسرائیل فلسطین تنازع کے بنیادی مسائل میں شامل رکھتے ہیں۔
مذہبی آزادی اور سکیورٹی کے درمیان تنازع
حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال نمایاں کیا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مذہبی رسومات، سکیورٹی انتظامات اور مقامی فلسطینی آبادی کے روزمرہ حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
اسرائیلی حکام عمومی طور پر حساس مذہبی مقامات کے اطراف سکیورٹی اقدامات کو امن و امان برقرار رکھنے سے جوڑتے ہیں، جبکہ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بعض پابندیوں کو فلسطینی آبادی کی نقل و حرکت، مذہبی رسائی اور معاشی سرگرمیوں پر غیر ضروری قدغن قرار دیتی ہیں۔
موجودہ سوکوت تہوار کے دوران مسجدِ اقصیٰ میں آبادکاروں کی آمد اور سوق القطانین کے کاروباروں کی بندش نے اس تنازع کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کی حساس مذہبی اور سیاسی حیثیت کے پیش نظر موجودہ کشیدگی میں معمولی اضافہ بھی وسیع تر علاقائی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سوکوت کے باقی ایام اور اس کے بعد سمچات توراہ کے موقع پر سکیورٹی انتظامات، فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور مسجدِ اقصیٰ تک رسائی کی صورتحال اہم توجہ کا مرکز رہے گی۔



