اہم خبریںیورپ

جرمنی میں حالیہ انتخابی نتائج کے بعد سکیورٹی ادارے مخمصے میں

اے ایف ڈی کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت ''رائے دہندگان کی نظر میں ہمیں بدنام کرنے کی کوشش میں تنکے کا سہارا لے رہی ہے۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
روئٹرز کے ساتھ

جرمنی میں حالیہ ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی کامیابی کے بعد یہ بحث شدید ہو گئی ہے کہ آیا سکیورٹی ادارے روس یا جرائم پیشہ گروہوں تک پہنچنے والی خفیہ معلومات کی ترسیل محدود کر سکتے ہیں۔

جرمنی کے وفاقی نظام کے تحت ریاستوں میں مقامی حکومتوں کے ماتحت اپنی داخلی انٹیلیجنس ایجنسیاں موجود ہیں، جو ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتی ہیں اور داخلی سلامتی کے ذمے دار ‘وفاقی دفتر برائے تحفظ آئین‘ (بی ایف وی) کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہیں۔

مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سابق سکیورٹی عہدیداروں نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اگر یہ ادارے انتہائی دائیں یا انتہائی بائیں بازو کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزراء کے ماتحت آ گئے تو خفیہ معلومات ماسکو یا برلن میں منظم جرائم سے روابط کے شبے میں زیر تفتیش گروہوں تک پہنچ سکتی ہیں۔

وفاقی چانسلر فریڈرش میرس کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی یو) کی باویریا میں اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ نے کہا، ”اس میں منظم جرائم سے متعلق معلومات شامل ہیں، جو برلن کے حوالے سے ایک مسئلہ ہو گا اور روس سے متعلق معاملات بھی ہیں، جو سیکسنی انہالٹ کے حوالے سے مسئلہ بنیں گے۔‘‘

انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کے رہنما (فائل فوٹو)
انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) 6 ستمبر کو مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں مطلق اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئی تھیتصویر: Danny Gohlke/AFP

اے ایف ڈی کا ردعمل

اے ایف ڈی نے مخالف جماعتوں کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ وہ عملی طور پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی اتحادی ہے۔ اس جماعت کا کہنا ہے کہ وہ صرف جنگ سے بچنے کی کوشش کرتی ہے اور جرمنی کی جانب سے یوکرین کو فوجی مدد فراہم کیے جانے کی مخالفت کرتی ہے۔

اے ایف ڈی کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت ”رائے دہندگان کی نظر میں ہمیں بدنام کرنے کی کوشش میں تنکے کا سہارا لے رہی ہے۔‘‘

پارٹی ترجمان نے ای میل کے ذریعے جاری کردی ایک بیان میں کہا، ”یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہمیں کئی برس سے ایسی قیاس آرائیوں اور الزامات کا سامنا ہے، تاہم مخالف فریق آج تک ایک بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘‘

لیفٹ پارٹی نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہ دیا۔ تاہم اس جماعت کے رہنما ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ برلن میں منظم جرائم میں ملوث کرد، لبنانی اور فلسطینی برادریوں کے بعض گروہوں سے جرمن پولیس کی جانب سے منسوب ‘کلان اسٹرکچرز‘ کے ساتھ کسی بھی تعلق کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔

ایسے گروہوں سے روابط کے الزامات اکثر سامیت مخالف رویوں کے الزامات سے بھی جڑے ہوتے ہیں، جنہیں لیفٹ پارٹی سختی سے مسترد کرتی ہے۔

سی ڈی یو کے رہنما اور جرمن چانسلر فریڈرش میرس (فائل فوٹو)
انتہائی دائیں بازو اور انتہائی بائیں بازو کی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت حکمراں جماعت سی ڈی یو کے لیے تشویش کا باعث ہے۔تصویر: Annegret Hilse/REUTERS

سکیورٹی ادارے منصوبے تیار کر رہے ہیں، ذرائع

خفیہ معلومات کے تبادلے پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق بحث اس وقت سے جاری ہے، جب رائے عامہ کے جائزوں میں سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کی ممکنہ کامیابی کے آثار سامنے آئے تھے۔ اس ریاست میں اے ایف ڈی کی مقامی شاخ کو داخلی انٹیلیجنس ادارے نے انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت قرار دے رکھا ہے۔

وفاقی صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ریاستی وزیر اعلیٰ اور سی ڈی یو کے رہنما ہینڈرک وُسٹ نے رواں ماہ وفاقی اور ریاستی سطح پر ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تا کہ اے ایف ڈی کی قیادت میں حکومت بننے کی صورت میں معلومات کے تبادلے سے متعلق معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر غور کیا جا سکے۔

ایک سکیورٹی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ”یقیناً تیاریاں جاری ہیں، لیکن لوگ ابھی یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ ہوتا کیا ہے، کیونکہ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اے ایف ڈی اور لیفٹ پارٹی میں سے کوئی جماعت کوئی ریاستی حکومت تشکیل دے بھی پائے گی یا نہیں۔‘‘

سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود اے ایف ڈی مطلق اکثریت حاصل نہ کر سکی، جبکہ دوسری بڑی جماعتوں نے اس کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے باعث اس کے حکومت بنانے کے امکانات محدود ہیں۔

دوسری جانب لیفٹ پارٹی کی جانب سے مرکز سے بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) اور ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوشش متوقع ہے، تاہم دونوں جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیفٹ پارٹی اپنی صفوں سے یہود مخالف رجحانات ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

حکام کو لاحق خدشات

حکام کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اے ایف ڈی کی قیادت میں بننے والی کسی بھی آئندہ ریاستی حکومت کی جانب سے اے ایف ڈی سے متعلق تحقیقات کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی اداروں کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہے، تاہم معلومات کے تبادلے سے منظم انداز میں کسی جماعت کو خارج کرنے کا تصور اس تقسیم کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

وفاقی اخلی سکیورٹی ادارے بی ایف وی کے علاوہ دیگر سکیورٹی ادارے اور ریاستی حکومتیں بھی اب معلومات کے تبادلے پر ممکنہ پابندیوں پر غور کر رہی ہیں۔ تاہم سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ معلومات کے تبادلے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ دہشت گردانہ حملوں کے ممکنہ خطرات سے متعلق اطلاعات سمیت اہم معاملات میں تعاون ناگزیر ہے۔

لیفٹ پارٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ”کلان سے متعلق جرائم‘‘ جیسی اصطلاحات اکثر پوری نسلی برادریوں کو بدنام کرتی ہیں اور مقامی رہائشیوں سے رابطے کا مطلب جرائم پیشہ سرگرمیوں کی حمایت نہیں ہوتا۔

اے ایف ڈی کی طرح لیفٹ پارٹی بھی طویل عرصے سے بی ایف وی کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتی ہے۔ لیفٹ پارٹی کے برلن انتخابی منشور میں ریاستی انٹیلیجنس ادارے کو ختم کر کے اس کی جگہ ”شفاف، جمہوری طور پر زیر نگرانی اور عوام کے قریب ادارہ‘‘ قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button