کالمزعلی عباس کاظمی

احتجاج مسئلے کا حل نہیں……..علی عباس کاظمی

یہاں ہماری اجتماعی نفسیات کا ایک اور تضاد سامنے آتا ہے۔ ہم حکومت کو قومی خزانے کا محافظ سمجھتے ہیں، لیکن قومی خزانے سے خریدی ہوئی چیزوں کو اپنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ہماری اجتماعی زندگی کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ جس خرابی سے نجات کے لیے ہم سڑک پر نکلتے ہیں، احتجاج کے دوران بعض اوقات اسی معاشرے کو مزید خراب کر دیتے ہیں جسے بہتر بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بجلی نہیں آتی تو غصہ سڑک پر نکلتا ہے، انصاف میں تاخیر ہو تو راستے بند کر دیے جاتے ہیں، کسی شہری کے ساتھ زیادتی ہو تو مشتعل ہجوم کسی دوسری املاک کو نقصان پہنچانے لگتا ہے۔ یوں ایک مسئلے کے خلاف اٹھنے والی آواز کئی نئے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ پھر ہم اطمینان سے کہتے ہیں کہ احتجاج ہمارا حق ہے۔ بلاشبہ حق ہے، لیکن ہر حق اپنے استعمال کا ایک اخلاقی دائرہ بھی رکھتا ہے۔ حق اگر دوسروں کے بنیادی حقوق روندنے لگے تو معاشرہ اپنے ہی ہاتھوں ایک ایسی گتھی پیدا کر لیتا ہے جسے بعد میں قانون، حکومت اور عدالت سب مل کر بھی آسانی سے نہیں سلجھا پاتے۔اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ احتجاج کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں احتجاج اکثر دلیل سے زیادہ غصے کی زبان کیوں بن جاتا ہے۔ کیا اس کی وجہ صرف عوام کا مزاج ہے؟ شاید نہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں شہری کو بار بار یہ احساس ہو کہ اس کی شکایت سنی نہیں جا رہی اور طاقتور آدمی کے لیے راستے عام شہری سے مختلف ہیں، وہاں غصہ پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن غصے کا پیدا ہونا اور غصے کو تباہی میں بدل دینا دو مختلف باتیں ہیں۔ ریاستی بے حسی عوامی اشتعال کی ایک وجہ ہو سکتی ہے، مگر وہ شہری کو یہ اخلاقی جواز نہیں دیتی کہ وہ کسی تیسرے شخص کی زندگی دشوار بنا دے یا قومی املاک کو نقصان پہنچائے۔
یہاں ہماری اجتماعی نفسیات کا ایک اور تضاد سامنے آتا ہے۔ ہم حکومت کو قومی خزانے کا محافظ سمجھتے ہیں، لیکن قومی خزانے سے خریدی ہوئی چیزوں کو اپنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ سرکاری بس، دفتر، سڑک، بجلی کا نظام، اسکول، اسپتال یا کوئی دوسری عوامی سہولت دراصل عوام ہی کے پیسے سے بنتی ہے۔ مگر جب غصہ بڑھتا ہے تو یہی چیزیں دشمن کی املاک محسوس ہونے لگتی ہیں۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ریاستی اور قومی ملکیت کے درمیان جذباتی تعلق پیدا ہی نہیں کیا۔ جس چیز کو ہم اپنا نہیں سمجھتے، اسے نقصان پہنچاتے ہوئے ضمیر بھی زیادہ مزاحمت نہیں کرتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج ایک شہری حق سے نکل کر اجتماعی خود تخریبی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔کسی گاڑی کو آگ لگانے والے شخص کے ذہن میں شاید یہ خیال ہو کہ وہ حکومت کے خلاف اپنی ناراضی ظاہر کر رہا ہے، مگر وہ گاڑی اگر کسی سرکاری ادارے کی ہے تو اس کی قیمت کسی وزیر یا افسر کی جیب سے نہیں جائے گی۔ مرمت کا خرچ پھر عوامی وسائل سے آئے گا۔ اگر کسی دفتر کا ریکارڈ ضائع ہو جائے تو اس میں صرف کاغذ نہیں جلتے، کسی شہری کا مقدمہ، کسی خاندان کا حق، کسی ادارے کی تاریخ اور کسی معاملے کی حقیقت بھی ضائع ہو سکتی ہے۔ اگر سڑک بند ہونے سے کوئی مریض اسپتال دیر سے پہنچے تو اس کی تکلیف احتجاج کے اصل مطالبے سے بالکل مختلف ایک انسانی المیہ بن سکتی ہے۔ کیا ایک جائز شکایت کو ایسے نتائج تک پہنچنے دینا واقعی اسی شکایت کے ساتھ انصاف ہے؟
عوامی غصہ ہمیشہ بے بنیاد نہیں ہوتا۔ بعض اوقات برسوں کی ناکامی، ناقص منصوبہ بندی، ناقص انتظام، مہنگائی، بنیادی سہولتوں کی کمی یا انصاف تک مشکل رسائی لوگوں کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں خاموش رہنا بھی انہیں اپنی توہین محسوس ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف عوام کو صبر کا درس دینا بھی ایک غیر منصفانہ رویہ بن سکتا ہے۔ اگر ریاست چاہتی ہے کہ شہری پرامن رہیں تو اسے پرامن شہری کی آواز سننے کا نظام بھی مؤثر بنانا ہوگا۔ شکایت کے لیے دروازہ موجود ہو مگر دروازے کے پیچھے کوئی سننے والا نہ ہو تو کاغذی جمہوریت شہری کے غصے کو کم نہیں کرتی۔لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت عوام کے سامنے بھی رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کی ناکامی شہری کی ذمہ داری ختم نہیں کرتی۔ اگر بجلی کا بحران ہے تو حکمرانوں سے سوال ہونا چاہیے، مگر غیر ضروری بجلی کے استعمال پر بھی سوچنا چاہیے۔ اگر صفائی کا نظام ناکام ہے تو اداروں سے جواب مانگا جائے، مگر شہری اپنے گھر کا کچرا گلی میں پھینک کر اسی نظام کی ناکامی کا حصہ نہ بنیں۔ اگر سڑک خراب ہے تو متعلقہ ادارے کو جواب دہ بنایا جائے، مگر احتجاج کے دوران وہی سڑک مزید توڑ دینا مسئلے کے حل کی طرف قدم نہیں۔ تبدیلی ہمیشہ دو طرفہ ذمہ داری مانگتی ہے۔ صرف ریاست کو قصوروار قرار دینے سے شہری معاشرہ مضبوط نہیں ہوتا اور صرف عوام کو ذمہ دار قرار دینے سے ریاستی ناکامیاں ختم نہیں ہوتیں۔
عوامی جذبات طاقتور ہوتے ہیں اور انہیں منظم شعوری دباؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر یہی جذبات اگر اشتعال میں بدل جائیں تو ہجوم دلیل کے بجائے اشارے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ ہجوم میں فرد کی ذمہ داری کا احساس کم ہو سکتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کر رہے ہیں۔ یہی نفسیاتی کیفیت معمول کے انسان کو ایسے عمل تک پہنچا سکتی ہے جسے وہ تنہائی میں شاید کبھی درست نہ سمجھے۔ اس لیے ہر احتجاج میں صرف مطالبے کی اخلاقی حیثیت نہیں بلکہ طریقۂ احتجاج کی اخلاقیات بھی اہم ہیں۔میڈیا بھی اس مسئلے سے الگ نہیں۔ جلتی ہوئی گاڑی ایک طاقتور تصویر ہے، ٹوٹتا ہوا شیشہ ایک فوری خبر ہے اور مشتعل ہجوم ٹیلی وژن پر توجہ حاصل کرتا ہے۔ مگر ایک سنجیدہ میڈیا کا کام صرف یہ دکھانا نہیں کہ کیا جل رہا ہے، بلکہ یہ بھی بتانا ہے کہ کیوں جل رہا ہے، مطالبہ کیا ہے، ذمہ دار کون ہے، متعلقہ ادارہ کیا کہتا ہے اور مسئلے کا قانونی راستہ کیا ہے۔ اگر احتجاج صرف مناظر کی جنگ بن جائے تو مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اشتعال مرکزی کردار بن جاتا ہے۔ خبر اگر شعور پیدا نہ کرے تو وہ معاشرے کے شور میں ایک اور آواز بن کر رہ جاتی ہے۔
شہریوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ حکمرانوں سے سوال کریں، پالیسیوں پر اختلاف کریں، اپنے مطالبات پیش کریں اور اجتماعی آواز بلند کریں۔ لیکن احتجاج ایسا ہونا چاہیے جو مخالف کو شکست دینے کے بجائے مسئلے کو نمایاں کرے۔ ہر شہر میں پرامن اجتماعات کے لیے مناسب مقامات، واضح قانونی طریقہ کار، انتظامیہ اور میڈیا کے درمیان رابطے اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام اس سمت میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ ریاست اگر احتجاج کو دشمنی سمجھے گی تو شہری سڑک کو واحد راستہ سمجھنے لگیں گے، اور شہری اگر ہر اختلاف کو تباہی کا جواز بنا لیں گے تو جمہوری حق خود اپنی معنویت کھو دے گا۔سب سے خطرناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب معاشرہ نقصان کو مزاحمت سمجھنے لگے۔ طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اصل طاقت یہ ہے کہ ہم اپنے مطالبے کو اس قدر واضح، منظم اور اخلاقی بنا سکیں کہ اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جائے۔ پتھر چند لمحوں کے لیے خوف پیدا کر سکتا ہے، دلیل دیر تک سوال بن کر رہتی ہے۔ ہمیں احتجاج سے پہلے ایک لمحے کے لیے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھنا چاہیے کہ ہم جس چیز کو توڑنے جا رہے ہیں، وہ آخر کس کی ہے۔ ممکن ہے جواب ملے کہ وہ بھی ہماری ہی ہے۔ پھر شاید ہمیں سمجھ آئے کہ قومی املاک کو نقصان پہنچا کر ہم کسی دور بیٹھے طاقتور شخص کو سزا نہیں دے رہے، بلکہ اپنے ہی مستقبل سے کچھ چھین رہے ہیں اور شاید یہی احساس احتجاج کو ہجوم کے غصے سے شہری شعور میں بدلنے کی پہلی سیڑھی بن سکے۔ معاشرے اس دن بدلنا شروع ہوتے ہیں جب لوگ صرف یہ نہیں سوچتے کہ انہیں کیا ملا یا کیا نہیں ملا، بلکہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ اپنے حق کے لیے کھڑے ہوتے ہوئے وہ دوسروں کے حق میں کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button