پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کی لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت، پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر

پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے ڈوئل ٹرنچ یورو بانڈز کی لسٹنگ بھی پیش کی گئی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم -ادارت

لندن، 29 ستمبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کی اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ پہلے پاکستانی وزیراعظم ہیں جنہیں لندن اسٹاک ایکسچینج کی ٹریڈنگ اوپننگ کی تقریب میں شرکت اور مارکیٹ اوپن کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

لندن اسٹاک ایکسچینج آمد پر لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ شوئمر اور دیگر سینئر حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے 3 ارب ڈالر مالیت کے ڈوئل ٹرنچ یورو بانڈز کی لسٹنگ کی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو اجاگر کیا گیا۔

لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب اس کے پیٹرنوسٹر اسکوائر میں واقع ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوتی ہے اور اس کے ذریعے لندن میں کاروباری دن کی ٹریڈنگ کا باقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم: پاکستان کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت اور اعزاز ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ موقع پاکستان کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی مالیاتی اداروں و سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے معاشی اشاریوں کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور مستقبل کے حوالے سے یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے وزیر خزانہ اور ان کی اقتصادی ٹیم کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز اور خودمختار قرضوں کے انتظام میں کامیابی کو حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات کا اہم نتیجہ قرار دیا۔

ان کے مطابق حکومت نے معیشت کو دوبارہ درست سمت میں لانے، بنیادی نوعیت کی ساختی اصلاحات کرنے اور معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

خلیجی بحران اور پاکستان کی معاشی ترجیحات

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خطے کی موجودہ صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خلیجی بحران پیدا نہ ہوا ہوتا تو پاکستان بھی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک طرف علاقائی بحران کے معاشی اثرات سے نمٹنا ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کردار بھی ادا کرنا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی اور قیامِ امن کی کوششوں میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور معاشی استحکام کی جانب پیش رفت جاری رکھے گا تاکہ ملک ایک محفوظ اور مستحکم معاشی مقام کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کر سکے۔

وزیراعظم کی اقتصادی ٹیم کی کاوشوں کی تعریف

شہباز شریف نے وزیر خزانہ، متعلقہ اقتصادی وزراء، سیکریٹریز اور دیگر حکومتی افسران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت پاکستان کی معیشت کی تعمیر نو اور بہتری کے لیے اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے حکومت کی کوششوں میں مالیاتی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات اور عالمی مالیاتی منڈیوں سے روابط بڑھانا اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش منڈی ہے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ علاقائی بحران سے سرمایہ کاری کے حوالے سے نئے اسباق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عالمی سرمایہ کار اب نسبتاً محفوظ اور مستحکم منڈیوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور پاکستان ان سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں اور ایسی سرمایہ کاری باہمی مفاد کے ساتھ ساتھ منافع بخش اور طویل المدتی بنیادوں پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ قریبی رابطے جاری رکھے گی۔ انہوں نے لندن کی مالیاتی برادری سے رہنمائی اور مشاورت طلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کو پاکستان میں مزید فعال کردار ادا کرنے کے لیے کس طرح راغب کیا جا سکتا ہے۔

سرمایہ کاری کو صرف خودمختار قرضوں تک محدود نہ رکھا جائے

شہباز شریف نے کہا کہ عالمی مالیاتی منڈیوں کا پاکستان کے ساتھ تعاون صرف خودمختار قرضوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری کے میدان میں بھی کردار بڑھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع مختلف شعبوں میں موجود ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کے لیے اقتصادی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

نجکاری پروگرام میں پیش رفت کا ذکر

وزیراعظم نے حکومت کے نجکاری پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے مشیر نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے عمل میں پیش رفت کی ہے، جبکہ دیگر سرکاری اداروں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی سمت اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے ادارے جنہیں نجی شعبہ زیادہ مؤثر انداز میں چلا سکتا ہے، انہیں نجی شعبے کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے اس شعبے میں لندن کے مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون اور تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

لندن اسٹاک ایکسچینج حکام کو پاکستان کے دورے کی دعوت

وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ لندن اسٹاک ایکسچینج کے حکام پاکستان سے واقفیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو ہدایت کی کہ لندن اسٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور متعلقہ حکام کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ دورے کے ذریعے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان مالیاتی و اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان اور لندن کی مالیاتی منڈیوں کے درمیان روابط

وزیراعظم کی لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کو پاکستان اور برطانیہ کے اہم مالیاتی اداروں کے درمیان روابط کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔

تقریب کے دوران پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں موجودگی، یورو بانڈز کی لسٹنگ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات اور اقتصادی اصلاحات جیسے موضوعات نمایاں رہے۔

3 ارب ڈالر کے ڈوئل ٹرنچ یورو بانڈز کی لسٹنگ بھی اس دورے کا اہم حصہ تھی، جس کے ذریعے پاکستان نے عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے اپنی مالیاتی منڈیوں سے وابستگی کو اجاگر کیا۔

لندن اسٹاک ایکسچینج میں وزیراعظم کی شرکت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت پاکستان عالمی سرمایہ کاری، نجکاری، مالیاتی اصلاحات اور برآمدی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی مراکز سے روابط کو وسعت دینے پر زور دے رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button