
ڈی پی اے کے ساتھ
بالٹک کی جمہوریہ ایسٹونیا کی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ اس سال اگست میں ایسٹونیا ہی کی ایک معروف اسلحہ ساز کمپنی پر حملہ روس نے کروایا تھا۔
یہ بات ٹالین حکومت کی طرف سے قومی سلامتی کے اداروں کی طرف سے کی جانے والی چھان بین کے نتائج کی روشنی میں منگل 29 ستمبر کے روز بتائی گئی۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ٹالین سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ایسٹونیا میں ملریم نامی ہتھیار ساز کمپنی پر یہ حملہ 15 اگست کی رات کیا گیا تھا۔ اس حملے کی چھان بین کرنے والے ملکی سکیورٹی ادارے جن نتائج پر پہنچے، ان کا اعلان منگل کے دن ملکی وزیر اعظم کرسیٹن میخال نے کیا۔
اس اعلان کے بعد ٹالین میں ملکی وزارت خارجہ نے روسی سفارت خانے کے ناظم الامور کو وضاحت کے لیے طلب بھی کر لیا۔
ساتھ ہی وزیر اعظم کرسٹین میخال نے کہا، ’’ایسٹونیا کا داخلی سلامتی کا ذمے دار ادارہ اس کے پاس موجود معلومات کے تجزیے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچا ہے۔‘‘
ماسکو کے خلاف ان الزامات کی کریملن کے ترجمان پیسکوف نے منگل کے روز تردید کر دی۔ ساتھ ہی دمتری پیسکوف نے کہا کہ ایسٹونیا کی حکومت کے روس کے خلاف یہ الزامات ’’بے بنیاد‘‘ ہیں۔
روسی نیوز ایجنسی تاس نے اپنی رپورٹوں میں ماسکو حکومت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان ’’الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا۔‘‘
اگست کے وسط میں ٹالین میں اس کمپنی کے مرکزی عمارات میں سے ایک میں اچانک آگ لگ گئی، جس پر ایمرجنسی سروسز کے کارکنوں نے فوراﹰ قابو پا لیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ملکی حکام نے اس آتش زدگی کو ایک دانستہ عمل قرار دے کر اس کی اور اس عمل میں روس کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی چھا ن بین شروع کر دی تھی۔


