پاکستاناہم خبریں

رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ یافتگان میں جلیلہ حیدر بھی شامل ہیں

رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ کا اعلان روایتی طور پر نوبل انعامات سے کچھ روز قبل کیا جاتا ہے، جن کے اعلانات آئندہ پیر سے شروع ہوں گے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ 2026 دو خواتین اور خواتین کی زیرِ قیادت دو تنظیموں کو دیا گیا ہے۔ ان میں پاکستانی وکیل جلیلہ حیدر، ایتھوپین نژاد اے آئی محقق، جارجیا کی حقوق تنظیم اور جنوبی افریقی خواتین کسان نیٹ ورک شامل ہیں۔

اس بین الاقوامی اعزاز کے لیے  پاکستان  کی ایک خاتون وکیل جلیلہ حیدر، ایتھوپیا کی  مصنوعی ذہانت کی محقق، جارجیا کی قانونی حقوق کی ایک تنظیم اور جنوبی افریقہ کے خطے میں خواتین کسانوں کے ایک نیٹ ورک کو منتخب کیا گیا ہے۔

اس سالانہ ایوارڈ کی تقسیم کا سلسلہ  1980 میں سویڈش نژاد جرمن سماجی کارکن اور مخیر شخصیت جیکب فان اُکسکُل کے ایما پر شروع ہوا تھا ۔ اس کا مقصد ایسی کوششوں کو سراہنا ہے جو دنیا کو زیادہ منصفانہ اور پُرامن بنانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اس ایوارڈ کو متبادل نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے۔

رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ کا اعلان روایتی طور پر نوبل انعامات سے کچھ روز قبل کیا جاتا ہے، جن کے اعلانات آئندہ پیر سے شروع ہوں گے۔

پاکستان | 4 جنوری 2021 کو کوئٹہ کے مضافات میں مشرقی بائی پاس پر ایک دھرنے کے دوران، پہاڑی مچھ کے علاقے میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والے کان کنوں کے تابوتوں کے ساتھ جمع ہونے پر شیعہ ہزارہ برادری کی سوگوار خواتین کا بین

جلیلہ حیدر اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل ہیں اور طویل عرصے سے ریاستی جبر، خواتین کے خلاف امتیاز اور نسلی تشدد کا سامنا کرنے والے افراد کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیںتصویر: Banaras KHAN/AFP

پاکستانی وکیل جلیلہ حیدر کے لیے عالمی اعزاز

معاشرے کے کمزور طبقے کے حقوق کے لیے سرگرم پاکستانی وکیل جلیلہ حیدر کو ملک کی  پسماندہ اور امتیازی سلوک کی شکار برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد پر رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ  سے نوازا گیا ہے۔

جلیلہ حیدر اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل ہیں اور طویل عرصے سے ریاستی جبر، خواتین کے خلاف امتیاز اور نسلی تشدد کا سامنا کرنے والے افراد کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ایوارڈ دینے والی تنظیم کے مطابق انہوں نے قانونی معاونت کے ساتھ برادریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل بنایا اور نسلی ، مذہبی و صنفی اقلیتوں اور پناہ گزینوں سمیت ہزاروں افراد کو انصاف دلانے میں مدد کی۔

ان کی لا فرم نے 600 سے زائد سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو آزادانہ سفر کا حق واپس دلانے میں بھی معاونت کی۔

جنوبی افریقہ میں خواتین کسانوں کا نیٹ ورک

اس کے علاوہ جنوبی افریقہ کے خطے میں سرگرم خواتین کسانوں کے نیٹ ورک ”رورل ویمنز اسمبلی‘‘ کو بھی اس معتبر ایوارڈ سے نوازا گیا۔  یہ تنظیم دیہی خواتین کو متحد کرکے زمین، بیج اور اپنے جسم پر اپنے اختیار کے حقوق کے تحفظ اور کارپوریٹ و پدرشاہی استحصال کے خلاف کام کرتی ہے۔

’رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے فراہم کردہ اس تصویر میں ’رورل ویمنز اسمبلی‘ (دیہی خواتین کی تنظیم) کے ایسواتینی چیپٹر کی سربراہ اور 2026 کی  ایوارڈ یافتہ زاکیتھی سباندزے کو 15 ستمبر 2026 کو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں دیکھا جا سکتا ہے
رورل ویمنز اسمبلی جنوبی افریقہ کے 11 ممالک میں ایک لاکھ 78 ہزار سے زائد چھوٹے کسانوں پر مشتمل خواتین کی خود منظم کردہ تحریک ہےتصویر: Uhuru Productions/Right Livelihood Award Foundation/AP Photo/picture alliance

رورل ویمنز اسمبلی جنوبی افریقہ کے 11 ممالک میں ایک لاکھ 78 ہزار سے زائد چھوٹے کسانوں پر مشتمل خواتین کی خود منظم تحریک ہے۔ اس تنظیم نے 24 مراکز قائم کیے ہیں جہاں کسان آئندہ کاشت کے لیے بیج تیار اور محفوظ کرتے ہیں۔ تنظیم نے مقامی بیجوں کی سینکڑوں اقسام کو دستاویزی شکل بھی دی ہے، جس سے روایتی بیج محفوظ رکھنے اور ان کے باہمی تبادلے کی روایت کے تحفظ میں مدد ملی ہے۔

جارجیا میں جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد

جارجیا کی انسانی حقوق کی تنظیم ”جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن‘‘ کو بھی رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ تنظیم کو یہ اعزاز جارجیا میں جمہوریت کے قیام اور تحفظ، اور آمرانہ کریک ڈاؤن کے باوجود شہری طاقت اور حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے پر دیا گیا۔

رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے فراہم کردہ اس تصویر میں جارجیا کے شہر تبلیسی میں  ایوارڈ یافتگان نونا کردووانیدزے (بائیں جانب، GYLA کی سابق چیئرپرسن) اور تمار اونیانی (دائیں جانب، GYLA کی موجودہ چیئرپرسن) دکھائی دے رہی ہیں
جارجیا کی انسانی حقوق کی تنظیم ’’جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن‘‘ کو بھی رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نوازا گیا ہےتصویر: Leli Blagonravova/Right Livelihood Award Foundation/AP Photo/picture alliance

یہ تنظیم 1994 میں رضاکار وکلا نے قائم کی تھی، جنہوں نے آزادی کے بعد جارجیا کے پہلے آئین کی تیاری میں بھی معاونت کی۔

رائٹ لائیولی ہُڈ کے مطابق تنظیم نے کئی اہم قانونی کامیابیاں حاصل کیں، جن کے نتیجے  میں قومی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ ان میں معذور افراد کے حقوق کا تحفظ، تمام بچوں کے لیے مفت تعلیم اور سوویت دور کے جبر کے متاثرین کے لیے معاوضے کی فراہمی شامل ہے۔

رائٹ لائیولی ہڈ فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع کردہ غیر تاریخ شدہ  اس تصویر میں ایتھوپیا میں پیدا ہونے والی امریکی کمپیوٹر سائنس دان ٹمنیٹ گیبرو کو دکھایا گیا ہے، جو اسٹاک ہوم رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ کی وصول کنندہ ہیں
اے آئی محقق ٹمنیِٹ گیبرو کو مصنوعی ذہانت کی صنعت میں چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے اور اے آئی کے باعث امتیاز اور سماج سے الگ تھلگ کیے جانے جیسے سلوک کا سامنا کرنے والوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کے صلے میں یہ اعزاز دیا گیا ہےتصویر: Right Livelihood/dpa/picture alliance

مصنوعی ذہانت کے نقصانات بے نقاب کرنے والی محقق

ایتھوپیا میں پیدا ہونے والی اے آئی محقق ٹمنیِٹ گیبرو کو مصنوعی ذہانت کی صنعت میں چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے اور اے آئی کے باعث امتیاز اور سماج سے الگ تھلگ کیے جانے جیسے سلوک کا سامنا کرنے والی کمیونٹیز کو پہنچنے والے نقصانات اجاگر کرنے پر رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button