
سید عاطف ندیم-ادارت
پارلیمنٹ ہاؤس میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال کو تشویش ناک قرار دے کر صوبے میں غیر معمولی اقدامات کے نفاذ کا عندیہ دیا ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی دہشت گردی سے نمٹنے میں عدم دلچسپی اور ناکامی کے باعث وفاقی حکومت آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرے گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’اگر حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو آئین اور قانون میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے فیصلے کا طریقہ کار موجود ہے۔‘
وزیر قانون نے کہا کہ ’گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کسی کابینہ رکن کا نہیں بلکہ وزیراعظم اور صدر مملکت کا ہو گا۔‘
گورنر راج یا ایمرجنسی کی آئینی بنیاد کیا ہے؟
آئین پاکستان کے مطابق وفاق اگر کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ کرنا چاہے تو آئین کے دسویں حصے کی چھ شقیں یعنی آرٹیکل 232 سے 237 تک تمام آرٹیکلز ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ، عمل درآمد، ایمرجنسی کے دوران اختیارات کے تعین اور مدت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 وفاق کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے طریقہ کار فراہم کرتے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 232 وفاق کو کسی صوبے میں ایمرجنسی جبکہ آرٹیکل 234 گورنر راج کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے۔
آرٹیکل 232 کے تحت ملک بھر یا ملک کے کسی حصے میں اندرونی خلفشار یا بیرونی جنگ کے نتیجے میں صدر مملکت ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
آرٹیکل 232 کے تحت اگر اندرونی خلفشار کے تحت ایمرجنسی لگانا مقصود ہو تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے قرارداد کی منظوری لازم ہو گی تاہم اگر بیرونی جنگ مسلط ہونے کی صورت میں صدر مملکت ایمرجنسی ڈکلئیر کرتے ہیں تو مجلس شوریٰ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے صدر مملکت کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی کی توثیق 10 دن میں لازمی ہے۔
آئین کا آرٹیکل 234 وفاق کو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ آئین کی اس شق کے مطابق اگر صوبے کا گورنر یہ سمجھے کہ صوبے کا انتظام آئین کے مطابق نہیں چل رہا تو وہ مناسب توجہیات کے ساتھ صدر مملکت کو رپورٹ ارسال کر سکتا ہے۔
صدر مملکت اس رپورٹ سے مطمئن ہونے کی صورت میں متعلقہ صوبے میں انتظامی اختیارات کسی نامزد کردہ فرد یا گورنر کو سونپ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں بھی مجلس شوری کے دونوں ایوانوں کی منظوری لازمی ہو گی۔
کسی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے دوران صوبے کا انتظامی کنٹرول وفاق کے نامزد کردہ منتظم کے پاس رہے گا تاہم قانون سازی کے اختیارات مجلس شوری یا پارلیمنٹ کے پاس رہیں گے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں 30 دن میں صدر مملکت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کریں گے جس میں ایمرجنسی کی توثیق سادہ اکثریت سے حاصل کرنا لازم ہو گی۔
ان دونوں صورتوں کے علاوہ آئین پاکستان میں مالی ایمرجنسی کے نفاذ کی گنجائش بھی موجود ہے۔
اگر ملک میں معاشی صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائے تو آئین کے آرٹیکل 235 کے تحت صدر مملکت تمام صوبوں کے گورنررز ، یاکسی ایک متعلقہ صوبے کے گورنر سے مشاورت کے بعد معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
اس صورت میں وفاق کی جانب سے انتظامی امور کی بجائے صوبوں کے مالی امور کو اپنے کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے۔
آئین کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے لگائی جا سکتی جبکہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دو مرتبہ دو ماہ کی توسیع بھی لی جا سکتی ہے یعنی وفاق کسی صوبے میں کل 6 ماہ کے لیے انتظامی کنٹرول اپنے پاس لے سکتا ہے۔
معروف قانون دان حافظ حسان احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پاکستان کا آئین ایک وفاقی نظام قائم کرتا ہے جس میں صوبائی خودمختاری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، تاہم اسی آئینی نظام میں وفاق کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ ملک کے ہر صوبے میں آئینی حکومت کا تسلسل برقرار رہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب کسی صوبے میں آئینی مشینری اس انداز میں کام کرنے سے قاصر ہو جائے کہ حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے تو ایسے غیرمعمولی حالات کے لیے آئین کا آرٹیکل 234 ایک مخصوص اور محدود آئینی طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔‘
حافظ حسان احمد کے مطابق ’اگر صدر مملکت، کسی صوبے کے گورنر کی رپورٹ موصول ہونے پر، اس امر سے مطمئن ہوں کہ ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے جس میں صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا تو صدر ایک پروکلیمیشن جاری کر سکتے ہیں۔ آئین پارلیمنٹ کے ذریعے بھی اس معاملے میں ایک آئینی راستہ فراہم کرتا ہے، جب دونوں ایوان الگ الگ قرارداد کے ذریعے اس نوعیت کی صورتِ حال کی توثیق کریں۔‘



