
رشوت خور کلچر اور خاموش معاشرہ……علی عباس کاظمی
کبھی رشوت کا تعلق کسی ناجائز کام سے سمجھا جاتا تھا۔ اب صورت حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ شہری کو اپنا جائز کام بھی اس وقت تک نامکمل دکھائی دیتا ہے
اگر کسی شہری کو اپنے حق کے لیے بھی کسی کی جیب گرم کرنا پڑے تو مسئلہ صرف ایک بدعنوان اہلکار کا نہیں رہتا، پورا نظام سوال بن جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں رشوت نے اب غیر معمولی برائی کا درجہ بھی کھو دیا ہے۔ بہت سے لوگ اسے برا ضرور سمجھتے ہیں مگر اس کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یوں ایک جرم آہستہ آہستہ معاشرتی معمول میں تبدیل ہو جاتا ہے اور معمول بن جانے والی برائی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔کبھی رشوت کا تعلق کسی ناجائز کام سے سمجھا جاتا تھا۔ اب صورت حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ شہری کو اپنا جائز کام بھی اس وقت تک نامکمل دکھائی دیتا ہے جب تک وہ کسی میز، کسی فائل یا کسی دستخط کے ساتھ پیسے نہ جوڑ دے۔ درخواست جمع کرانے سے لے کر تصدیق، منظوری اور دستاویز کے حصول تک چھوٹے چھوٹے مرحلے ایسے بنا دیے گئے ہیں جہاں اختیار معمولی سا ہے مگر اس اختیار کو استعمال کرنے کی قیمت بڑی ہے۔ جس شخص کے پاس پیسہ نہیں، وقت نہیں یا سفارش نہیں، وہ اپنے ہی حق کے متعلقہ دفتر میں اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔
یہاں ایک اور خطرناک تبدیلی بھی آئی ہے۔ رشوت لینے والا اب ہمیشہ مجرم کی طرح شرمندہ نہیں ہوتا۔ بعض جگہوں پر وہ اسے اپنے منصب کا حصہ سمجھتا ہے۔ شہری کی مجبوری اس کے لیے موقع بن جاتی ہے اور سرکاری اختیار ذاتی آمدنی کا ذریعہ۔ جس شخص کو ریاست نے عوام کی خدمت کے لیے مقرر کیا تھا، اگر وہ عوام کی ضرورت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لے تو دراصل وہ ریاست اور شہری کے درمیان موجود اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔لیکن صرف اہلکار کو مورد الزام ٹھہرا دینا بھی مسئلے کا مکمل جواب نہیں۔ رشوت کا نظام ایک ایسے جال کی طرح ہوتا ہے جس میں لینے والا، دینے والا، خاموش رہنے والا، سفارش کرنے والا اور بعض اوقات اوپر بیٹھا نگرانی کا ذمہ دار بھی کسی نہ کسی درجے میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہاں شہری کے سامنے اخلاقی اصول اور عملی مجبوری آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ طاقت ہمیشہ اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس کے پاس اختیار ہے، جبکہ ضرورت مند کے پاس اکثر صرف وقت کی کمی اور بے بسی ہوتی ہے۔
اس خرابی کو برقرار رکھنے میں ایک اور طبقہ بھی خاموش کردار ادا کرتا ہے۔ وہ لوگ جو بدعنوانی کو برا تو کہتے ہیں مگر اپنے کام کے لیے سفارش ڈھونڈتے ہیں، اپنے تعلقات استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کی باری آنے پر نظام کی خرابی پر افسوس کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے لوگ اس تضاد کو محسوس کرتے ہیں کہ جب ہمارا کام سفارش سے ہو جائے تو اسے ذہانت سمجھا جاتا ہے اور جب کسی دوسرے کا کام اسی طریقے سے ہو تو اسے کرپشن کہا جاتا ہے؟ معاشرتی برائی کی جڑیں ہمارے اجتماعی رویوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔عدالتی اور انتظامی اداروں میں بدعنوانی کا تصور اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ وہاں شہری انصاف کی امید لے کر پہنچتا ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ اس کی درخواست، دستاویز، نقل یا معاملہ بھی غیر رسمی ادائیگی کے بغیر آگے نہیں بڑھے گا تو قانون کی موجودگی کے باوجود اس کے دل میں انصاف کا اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔ عدالت کی عمارت پر ترازو انصاف کی علامت ضرور بن سکتا ہے، مگر شہری کے دل میں انصاف کی اصل تصویر اس وقت بنتی ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کی بات بغیر کسی ذاتی فائدے کے بھی سنی جائے گی۔ ادارے علامتوں سے نہیں، اپنے عمل سے اعتبار پیدا کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایماندار شخص بعض اوقات ہمارے معاشرے میں قابل احترام ہونے کے بجائے قابل رحم سمجھا جاتا ہے۔ جو سرکاری ملازم اپنی محدود آمدنی میں زندگی گزارے، غیر ضروری آسائشیں جمع نہ کرے اور ناجائز آمدنی سے دور رہے، اسے بعض لوگ ناکام انسان سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف اچانک دولت مند ہونے والے شخص سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ دولت کہاں سے آئی، اس کے گھر، گاڑی اور معاشرتی حیثیت سے متاثر ہوا جاتا ہے۔ جب معاشرہ کردار کے بجائے نمود کو کامیابی کا پیمانہ بنا لے تو بدعنوانی کے لیے زمین خود تیار ہو جاتی ہے۔سرکاری ملازمین کی مناسب تنخواہیں یقیناً ضروری ہیں، کیونکہ معاشی دباؤ انسان کو مشکلات میں مبتلا کر سکتا ہے، لیکن کم تنخواہ کو رشوت کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح اچھی تنخواہ بھی ایمانداری کی ضمانت نہیں۔ اصل ضرورت ایسے نظام کی ہے جہاں کام کا طریقہ واضح ہو، ہر مرحلے کی مدت مقرر ہو، شہری اپنے معاملے کی پیش رفت دیکھ سکے، شکایت کا آزاد راستہ موجود ہو اور شکایت کرنے والے کو انتقام کا خوف نہ ہو۔ ٹیکنالوجی بہت سے انسانی رابطے کم کر سکتی ہے، مگر اگر بدعنوانی صرف کاغذ سے نکل کر ڈیجیٹل نظام میں منتقل ہو جائے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ نظام کی اصلاح کے ساتھ نیت اور نگرانی دونوں ضروری ہیں۔
اس کے ساتھ سیاسی اور انتظامی قیادت کی ذمہ داری بھی کم نہیں ہوتی۔ جس معاشرے میں قانون بنانے والے، قانون نافذ کرنے والے اور قانون کی نگرانی کرنے والے ادارے خود احتسابی سے دور ہوں، وہاں عام آدمی سے صرف ایمانداری کی توقع کرنا ایک ادھورا مطالبہ ہے۔ احتساب کا آغاز نیچے سے نہیں بلکہ وہاں سے ہونا چاہیے جہاں اختیار زیادہ ہے۔ کیونکہ طاقت کے بغیر کرپشن کی بڑی زنجیریں نہیں ٹوٹتیں۔ ایک کلرک کی غیر قانونی وصولی روکنا ضروری ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہے کہ وہ اتنے اعتماد سے یہ کام کیوں کرتا ہے کہ اسے کسی بڑے نقصان کا خوف نہیں ہوتا۔ رشوت کا سب سے بڑا نقصان رقم کا ضیاع نہیں۔ اس کا اصل نقصان اعتماد کا خاتمہ ہے۔ جب شہری ریاست پر اعتماد کھو دیتا ہے تو وہ قانون سے دور، سفارش کے قریب اور اداروں سے بدظن ہونے لگتا ہے۔ پھر تعلیم، قابلیت اور حق سے زیادہ تعلقات، پیسہ اور طاقت اہم ہو جاتے ہیں۔ ایسی فضا میں نئی نسل یہ سبق سیکھتی ہے کہ کامیابی محنت سے نہیں بلکہ راستہ نکالنے سے ملتی ہے۔ اس سے خطرناک سبق شاید کوئی اور نہیں کہ معاشرہ اپنے بچوں کو دیانت داری کی تلقین کرے اور عملی زندگی میں انہیں اس کے برعکس منظر دکھائی دے۔
رشوت کے خلاف جنگ کسی ایک محکمے، ایک افسر یا ایک حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ریاستی نظم، ادارہ جاتی نگرانی، شہری شعور اور اجتماعی کردار کا مشترکہ امتحان ہے۔ ہر وہ شخص جو ناجائز فائدہ لیتا ہے، ہر وہ شخص جو مجبوری سے دیتا ہے، ہر وہ شخص جو دیکھ کر خاموش رہتا ہے اور ہر وہ صاحب اختیار جو شکایت کے باوجود کارروائی نہیں کرتا، اس مسئلے کی تصویر کا ایک حصہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کے ہاتھ میں اختیار ہے اور کسی کے ہاتھ میں مجبوری۔ بات پھر اسی عام آدمی تک پہنچتی ہے جو ایک فائل، ایک درخواست، ایک دستخط یا ایک حق کے لیے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ وہ رشوت نہیں دینا چاہتا مگر اپنا کام بھی نہیں رکوانا چاہتا۔ وہ قانون پر یقین کرنا چاہتا ہے مگر اسے بار بار غیر رسمی راستے کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ شاید کسی معاشرے کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر ایک دن ایسا آ جائے کہ کسی شخص کو اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے کسی کی مٹھی گرم نہ کرنی پڑے تو شاید ہم کہہ سکیں گے کہ تبدیلی واقعی شروع ہو چکی ہے۔


