پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، پولیس تربیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور

محسن نقوی نے ہدایت کی کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں جاری تمام ترقیاتی اور اپ گریڈیشن منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اکیڈمی میں جاری ترقیاتی اور اپ گریڈیشن منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے زیرِ تربیت پولیس افسران کے لیے تیار کیے گئے ماڈل رومز کا بھی معائنہ کیا اور تربیتی سہولیات کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت نیشنل پولیس اکیڈمی میں ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں اکیڈمی کے مختلف اپ گریڈیشن منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے جاری منصوبوں، تعمیراتی کام اور تربیتی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی۔

محسن نقوی نے ہدایت کی کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں جاری تمام ترقیاتی اور اپ گریڈیشن منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں کی تکمیل میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور تعمیراتی و ترقیاتی کام مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اعلیٰ معیار کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچائے جائیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اکیڈمی کے کانفرنس روم اور آڈیٹوریم کی ازسرِنو تعمیر کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی ادارے میں موجود سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ پولیس افسران کو بہتر ماحول میں تربیت فراہم کی جا سکے اور اہم تربیتی، انتظامی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولیات دستیاب ہوں۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وزیرِ مملکت برائے داخلہ نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن منصوبوں کی پیش رفت کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے جاری منصوبوں کی نگرانی اور بروقت تکمیل کے لیے مؤثر مانیٹرنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

محسن نقوی نے زیرِ تربیت پولیس افسران کے لیے جدید تربیتی آلات کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سواٹ ٹیموں کے طرز پر جدید تربیتی آلات فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید وسائل، عملی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے لیے بہترین اور ماہر فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی پروگراموں میں تجربہ کار اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ تربیت حاصل کرنے والے افسران کو جدید انتظامی اور پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل ہوں۔

اجلاس میں مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ اجلاس میں ایم سی ایم سی کے نصاب میں ڈیجیٹل پولیسنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ماڈیولز شامل کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ پولیس افسران کی تربیت کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا پولیس فورس کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ڈیجیٹل پولیسنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت نئے شعبوں سے متعلق مہارتیں پولیس افسران کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس امر پر زور دیا کہ پولیس تربیتی اداروں میں بنیادی تربیت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، انتظامی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری تربیت پر بھی توجہ دی جائے۔

اس موقع پر کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے افسران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف مبینہ کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے شدت پسند عناصر کے مذموم عزائم ناکام بنانے میں مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق ضلع کچھی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 6 شدت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ شمالی وزیرستان میں بھی متعدد شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ محسن نقوی نے ان کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ خدمات قابلِ قدر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر قوم کو ناز ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

نیشنل پولیس اکیڈمی میں پولیس افسران کی جدید تربیت اور بلوچستان و خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے استعدادِ کار بہتر بنانے پر توجہ نمایاں رہی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button