
کییف کے میئر ویتالی کلِچکو نے جمعرات کو بتایا کہ روس کے دو ڈرون شہر کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ملانے والے اہم ’’جنوبی پل‘‘ کے سہارا دینے والے حصے کے قریب لگے۔
کلِچکو نے ٹیلی گرام پر لکھا، ’’فی الحال پل پر میٹرو سروس اور زمینی عوامی ٹرانسپورٹ روک دی گئی ہے۔‘‘
ان کے مطابق ماہرین ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے پل کا معائنہ کر رہے ہیں۔ دریائے دنیپرو پر واقع یہ پل شہر کی ایک اہم شہ رگ ہے اور اس سے سڑک کی ٹریفک اور میٹرو ٹرینیں دونوں گزرتی ہیں۔
یوکرین کو طویل عرصے سے خدشہ تھا کہ روس دنیپرو کے پلوں کو نشانہ بنائے گا، جو کییف کے اندازاً تیس لاکھ باشندوں کے لیے ’’زندگی کی شہ رگ‘‘ ہیں۔
حالیہ مہینوں میں روس نے کییف پر ڈرون اور میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے شہر تقریباً مسلسل الرٹ پر رہتا ہے۔ روس اب جیٹ انجن والے تیز رفتار ڈرون بھی استعمال کر رہا ہے، جنہیں ایرانی شاہد پر مبنی روایتی ڈرونز کے مقابلے میں مار گرانا زیادہ مشکل ہے۔
بدھ کو روس نے کہا کہ اس نے یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ کییف کے مطابق یہ آنے والے موسم سرما میں بجلی اور حرارتی نظام منقطع کرنے کی متوقع مہم کا پہلا وار ہے۔



