
سعودی عرب نے اسرائیلی طیاروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، سعودی ذریعہ
یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جب دبئی سے تل ابیب جانے والے طیارے کو سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی
ایک باخبر سعودی ذریعے نے جمعرات کو نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب نے فلائی دبئی کی ہنگامی طور پر اتاری گئی پرواز کے مسافروں کو واپس لے جانے کے لیے اپنے طیارے بھیجنے کی اسرائیل کی متعدد درخواستیں مسترد کر دیں۔
ذریعے کے مطابق اسرائیل نے پہلے تبوک ایئرپورٹ پر ’’دو یا تین‘‘ فوجی طیارے براہ راست بھیجنے کی اجازت مانگی، جو مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ال عال کا ایک تجارتی طیارہ بھیجنے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ ذریعے نے بتایا کہ پیغام رسانی اسرائیل سے براہ راست نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کے توسط سے ہوئی۔
یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جب دبئی سے تل ابیب جانے والے طیارے کو سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ الزام ہے کہ ایک پائلٹ نے طیارہ گرانے اور اس میں سوار تمام افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔
ذریعے نے کہا کہ مملکت نے اپنی ’’بین الاقوامی ذمہ داری‘‘ پوری کرتے ہوئے لینڈنگ کے بعد مسافروں کی مدد کی اور اس فیصلے پر مسافروں کی قومیت کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ ان کے بقول، ’’فلائی دبئی کے مسافروں کی قومیت جو بھی ہوتی، ہم یہی کرتے۔‘‘
سعودی عرب حالیہ برسوں میں امریکہ کے حمایت یافتہ ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے دباؤ کی مزاحمت کرتا رہا ہے۔ ریاض کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا واضح راستہ سامنے آئے بغیر وہ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔



