
فریداللہ خان، پشاور
پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے وفاق پر دباو ڈالنے کیلئے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ دوسری جانب اس احتجاج کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، جس کےمنفی اثرات عام لوگوں پر مہنگائی کی شکل میں پڑ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی میں بعض عہدیدار احتجاجی تحریک کو موخر کرنے کے حق میں ہیں لیکن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ 4 اکتوبر کو ضرور نکلیں گے۔
سہیل آفریدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "4 اکتوبر کو پرامن مارچ کیلئے پہلے سے زیادہ لوگ نکلیں گے ہم پرامن طریقےسے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئےاپنے حق کیلئے مارچ کریں گے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ” 28 لاکھ سے زیادہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ملک چھوڑ چکے ہیں 44 فیصد لوگوں کو دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ہوتا، لیکن حکمران اربوں روپے کے جہاز اور من پسند لگژری گاڑیاں منگوا رہے ہیں۔‘‘

لانگ مارچ ملتوی کرنے کیلئے جرگہ متحرک
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کیلئے صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور مشیران نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کر کے انہیں وفاق اور پختونخوا میں کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔
سو افراد پر مشتمل جرگہ کی قیادت قبائلی رہنما ملک خان مرجان وزیر کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبے کے مابین تناو کا فائدہ کسی اور کو ہو گا دونوں کشیدگی کم کر کےعوام کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دیں۔
اس دوران پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت علی یوسفزئی نے ایک خط کے ذریعے پارٹی چیرمین کو مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
شوکت علی یوسفزی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بعض ایشوز کو بنیاد بناتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے لہٰذا ٹکراو سے بچنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔ تاہم وزیراعلیٰ سمیت پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
خیال رہے کہ بعض وفاقی وزرا نے پاکستان تحریک انصاف کو تحریک طالبان کی بی ٹیم قراردینے سے بھی گریز نہیں کیا۔

معاشی بحران اورسکیورٹی صورت حال
وزیر خزانہ مزمل اسلم نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ”خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ کا 10 فیصد سکیورٹی کیلئے مختص کیا ہے تین سالہ دور میں سکیورٹی بجٹ 65 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب کر دیا ہے۔ پولیس کیلئے بجٹ میں 41 فیصد اور آپریشنل بجٹ دوسال کے دوران 15 ارب سے بڑھا کر 30 ارب روپے سے زیادہ کر دیا ہے۔ 22 ستمبر تک پولیس کو 137 ارب روپے سے زیادہ ریلز کی گئی ہے، پولیس کے آلات کے لئے 3 ارب روپے سے بڑھا کر ساڑھے 14 ارب کر دیا ہے، 3 ہزار سے زیادہ نئی آسامیوں کی منظوری دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”جولائی 2026 میں پولیس اہلکاروں کے لئے رسک الاونس بھی اضافہ کردیا ہے”۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال رواں کے جنوری سے ستمبر تک صوبے میں 680 حملے ریکارڈ کئے گئے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد اضافہ ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کے ان واقعات میں پولیس کے 122 اہلکار ہلاک ہوئے۔
سیاسی بے یقینی نے انتظامی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا
خیبر پختونخوا کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے پی ٹی آئی ایک نکاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی اور صوبے کے مسائل کے لئے کسی اور سیاسی جماعت سے کوئی رائے یا اتحاد پربات تک نہیں کی۔
جب اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار سے ڈی ڈبلیو نے بات کی تو ان کا کہنا تھا، "ملک میں آئین اورقانون نہیں ہمارے منتخب ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ہم 4 اکتوبر کو ہر حال میں نکلیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جن حالات سے ملک کو دو چار کیا گیا ہے سارے سیاسی جماعتوں کو نکلنا ہو گا، جو الزامات وفاقی وزرا لگا رہے ہیں چند روز بعد ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں اس کے نتائج آنے کا خطرہ موجود ہے۔”
کارخانے بند، مزدور بے روزگار
خیبر پختونخوا میں 60 فیصد سے زائد کارخانے یا تو مکمل بند ہیں یا جزوی طور پر چل رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند ہیں، جس سے گزشتہ سال 8 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ صوبے میں 12 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹیکسز میں اضافہ اور قدرتی گیس کی بندش اور خام مال کی رسائی میں مشکلات کی وجہ سے کارخانہ داروں کو عملہ فارغ کرنا پڑ رہا ہے۔
مالی مشکلات کی وجہ سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے اشتہارات میں کمی کی گئی جس کی وجہ سے نجی ٹی وی چینلز، اخبارات نے اپنے 20 سے 30 فیصد عملے کو فارغ کر دیا ہے۔ یہی حال مقامی اور بین الااقوامی این جی اوز کا بھی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اگر دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات، سیاسی استحکام اور توانائی کے بحران کا حل نہ نکالا گیا توخیبرپختونخوا میں بے روزگاری کی شرح میں مزید 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے معاشرتی نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔



