کاروبارتازہ ترین

پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 نافذ، ڈیجیٹل خریداری اور شفافیت کے نئے تقاضے متعارف

حکومت نے سرکاری خریداری کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرا دیں، شکایات اور اپیلوں کے لیے آزاد کمیٹیوں کا نظام بھی شامل

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
احسان احمد-ادارت

اسلام آباد: حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے نئے قواعد کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دے دیا ہے۔ نئے فریم ورک میں سرکاری خریداری کے نظام کو زیادہ شفاف، مسابقتی اور مؤثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل پروکیورمنٹ، تیسرے فریق کی نگرانی، سخت شفافیت تقاضوں اور متبادل طریقہ ہائے خریداری کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔

نئے قواعد کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کی جانب سے اشیا، خدمات اور ترقیاتی کاموں کی خریداری کے عمل میں شفافیت بڑھانا، مسابقت کو فروغ دینا اور ایسے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے جس کے ذریعے بولی دہندگان کو غیر منصفانہ فیصلوں کے خلاف مؤثر داد رسی حاصل ہوسکے۔

ڈیجیٹل خریداری کو مرکزی حیثیت

پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 میں ڈیجیٹل خریداری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خریداری کے عمل کو زیادہ قابلِ نگرانی بنانا اور کاغذی کارروائی، انسانی مداخلت اور غیر ضروری تاخیر کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

نئے نظام کے تحت خریداری کے مختلف مراحل کو ڈیجیٹل ذرائع سے منظم کرنے سے بولیوں، فیصلوں اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کی نگرانی آسان ہونے کی توقع ہے۔ اس سے نہ صرف پروکیورنگ ایجنسیوں کے لیے ریکارڈ برقرار رکھنا آسان ہوگا بلکہ خریداری کے عمل میں شفافیت اور جواب دہی بھی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تیسرے فریق کی نگرانی کا نظام

نئے قواعد میں تیسرے فریق کی نگرانی کو بھی اہم جزو بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد خریداری کے عمل کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پروکیورنگ ایجنسی اپنے ہی فیصلوں کی واحد نگران نہ ہو۔

حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ طریقہ کار بالخصوص بڑے اور حساس نوعیت کے خریداری کے معاملات میں نگرانی اور شفافیت کے اضافی تقاضے پیدا کرسکتا ہے۔

شکایات کے ازالے کے لیے نیا طریقہ کار

پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 میں شکایات کے ازالے کے نظام کو بھی نمایاں طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت شکایات کو ایسی کمیٹیوں کے ذریعے نمٹانے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جو متعلقہ پروکیورنگ ایجنسی سے باہر کام کریں گی۔

اس اقدام کا مقصد شکایات کے ازالے کے عمل کو زیادہ غیر جانب دار بنانا اور بولی دہندگان کو یہ اعتماد فراہم کرنا ہے کہ ان کی شکایت کا فیصلہ اسی ادارے کے اندر نہیں ہوگا جس کے فیصلے کے خلاف شکایت کی گئی ہے۔

یہ خصوصیت خاص طور پر ان بولی دہندگان کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے جو یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ انہوں نے مسابقتی عمل میں بہتر یا کم ترین بولی پیش کی لیکن اس کے باوجود انہیں غیر منصفانہ طور پر نظر انداز کردیا گیا۔

اپیل کا حق بھی فراہم کردیا گیا

نئے قواعد میں شکایات کے بعد اپیل کا طریقہ کار بھی شامل کیا گیا ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق شکایت کنندگان متعلقہ معاملے پر اپیلیٹ کمیٹی سے رجوع کرسکیں گے۔

اس طرح نئے نظام میں شکایت اور اپیل کے لیے ایک باقاعدہ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے بولی دہندگان کو خریداری کے فیصلوں کے خلاف قانونی و انتظامی سطح پر مؤثر داد رسی کا موقع مل سکے گا۔

شفافیت اور جواب دہی پر زور

حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے فریم ورک میں شفافیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت کی کمی، اختیارات کے غلط استعمال، مفادات کے ٹکراؤ اور غیر مسابقتی فیصلوں کے خدشات طویل عرصے سے پالیسی مباحث کا حصہ رہے ہیں۔

نئے قواعد کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خریداری کے عمل کو محض کم ترین قیمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مجموعی طور پر ایک منظم اور قابلِ نگرانی عمل کے طور پر دیکھا جائے۔

آئی ایم ایف پروگرام سے ممکنہ تعلق پر سوالات

حکومت کی جانب سے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا نفاذ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے۔

حکومتی اقدامات کے ناقدین اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ نئے قواعد ان اصلاحات کا حصہ ہوسکتے ہیں جن پر پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اتفاق کیا ہے۔ تاہم کسی بھی مخصوص اقدام کو براہ راست آئی ایم ایف کی پیشگی شرط قرار دینے کے لیے سرکاری طور پر تصدیق شدہ تفصیلات کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔

موجودہ صورتحال میں یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان کے لیے جاری پروگرام کے جائزوں میں گورننس، شفافیت، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور پبلک فنانشل مینجمنٹ سے متعلق اصلاحات مسلسل اہم موضوعات رہے ہیں۔

ماضی کی اصلاحات پر عمل درآمد کا سوال

پاکستان میں قانون سازی اور اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج صرف نئے قوانین یا قواعد بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد بھی رہا ہے۔

ماضی میں متعدد قوانین اور انتظامی اصلاحات متعارف کرائی گئیں لیکن ان کے عملی نفاذ میں تاخیر، ادارہ جاتی کمزوریوں اور نگرانی کے فقدان کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

اسی تناظر میں پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کی کامیابی کا انحصار بھی اس بات پر ہوگا کہ نئے قواعد کو وفاقی اور صوبائی اداروں، سرکاری محکموں اور خریداری کرنے والی دیگر ایجنسیوں میں کس حد تک مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ کا حوالہ

پاکستان میں گورننس اور کرپشن سے متعلق اصلاحات کے حوالے سے آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ بھی اہم بحث کا حصہ رہی ہے۔

رپورٹ میں مختلف ادارہ جاتی اور انتظامی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں معلومات تک رسائی، اداروں کی جواب دہی اور عدالتی و انتظامی نظام میں قواعد کے یکساں اطلاق جیسے معاملات شامل تھے۔

اس پس منظر میں ماہرین کے نزدیک نئے پروکیورمنٹ قواعد اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے جب انہیں وسیع تر گورننس اصلاحات کے ساتھ مربوط کیا جائے۔

حقِ معلومات کے قانون پر عمل درآمد بھی اہم چیلنج

گورننس سے متعلق بحث میں حقِ معلومات کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد ایک اہم مسئلہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

دستیاب مواد کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران مختلف سرکاری اداروں میں معلومات کے حصول سے متعلق متعدد درخواستیں اور اپیلیں زیر التوا یا بند رہیں۔ ان اداروں میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، وزارت داخلہ، قومی احتساب بیورو، وزارت اطلاعات اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت دیگر ادارے شامل تھے۔

یہ اعداد و شمار اس وسیع تر سوال کو جنم دیتے ہیں کہ اگر شہریوں اور اداروں کو سرکاری معلومات تک بروقت رسائی حاصل نہ ہو تو شفافیت کے قوانین کا عملی فائدہ کس حد تک حاصل ہوسکتا ہے۔

عدالتی تقرریوں کے اصول بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ

گورننس اصلاحات کے ایک اور اہم پہلو کے طور پر عدالتی تقرریوں اور مدتِ ملازمت سے متعلق معیاری اصول وضع کرنے کی تجاویز کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

ایسی تجاویز کا بنیادی مقصد عدالتی اداروں، انتظامی ٹریبونلز اور خصوصی عدالتوں میں تقرری کے لیے واضح اور یکساں اصول وضع کرنا اور ان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم دیگر اصلاحات کی طرح یہاں بھی اصل چیلنج سفارشات اور اصول وضع کرنے کے بجائے ان پر عملی طور پر عمل درآمد ہے۔

معاشی پالیسی اور سیاسی ترجیحات میں توازن کی ضرورت

پاکستان میں معاشی پالیسی سازی کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی معاشی ترجیحات کو طویل مدتی قومی ترقی کی ضروریات کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔

ماضی کی مختلف حکومتوں نے مختلف شعبوں کو معاشی ترقی کا محرک قرار دیا۔ ایک دور میں تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم ذریعہ سمجھا گیا، جبکہ دوسری جانب سرکاری ملکیتی اداروں، انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسی پالیسیوں کی کامیابی کا جائزہ سیاسی وابستگی کے بجائے اعداد و شمار، پیداوار، روزگار، برآمدات اور مجموعی معاشی قدر میں اضافے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

سرکاری اداروں میں ضرورت سے زیادہ بھرتیوں کا مسئلہ

پاکستان میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی بھی طویل عرصے سے معاشی بحث کا اہم موضوع رہی ہے۔

مختلف ادوار میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں، اداروں میں ضرورت سے زیادہ افرادی قوت اور انتظامی اخراجات میں اضافے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر سرکاری اداروں میں میرٹ، کارکردگی اور مالی نظم و ضبط کو بنیادی اصول نہ بنایا جائے تو یہ ادارے قومی خزانے پر اضافی بوجھ بن سکتے ہیں۔

اسی لیے پبلک پروکیورمنٹ میں اصلاحات کے ساتھ سرکاری اداروں کے انتظام، گورننس اور مالیاتی نظم و ضبط میں بھی اصلاحات ضروری قرار دی جاتی ہیں۔

سڑکوں پر زیادہ توجہ یا متوازن ٹرانسپورٹ نظام؟

پاکستان کی ترقیاتی منصوبہ بندی میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو طویل عرصے سے نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ سڑکیں شہری و دیہی علاقوں کو جوڑنے، تجارت بڑھانے اور نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق محدود مالی وسائل کے حامل ملک میں مختلف ذرائع نقل و حمل کے درمیان مناسب توازن بھی ضروری ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان اور بھارت کے ٹرانسپورٹ نظام کا تقابلی جائزہ بھی اہمیت اختیار کرتا ہے۔

بھارت میں ریل اور آبی راستوں کا بڑھتا کردار

حالیہ مطالعات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارت نے اپنے ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نظام میں ریل، سڑک اور اندرونِ ملک آبی راستوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنے پر توجہ دی ہے۔

بھارت میں کارگو کی نقل و حمل کے لیے ریل اور اندرونِ ملک آبی راستوں کو نسبتاً کم لاگت والے ذرائع کے طور پر وسعت دی جارہی ہے، جبکہ کارگو فریٹ کوریڈور کے ذریعے ریل کے ذریعے مال برداری کا حصہ بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان میں مال برداری کا بڑا حصہ سڑکوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جبکہ ریل کا حصہ نسبتاً محدود ہے۔

پاکستان میں 96 فیصد کارگو سڑکوں کے ذریعے منتقل ہونے کا دعویٰ

پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 96 فیصد کارگو سڑکوں کے ذریعے جبکہ صرف تقریباً 4 فیصد ریل کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اسی طرح مسافروں کی نقل و حمل میں بھی سڑکوں کا حصہ تقریباً 93 فیصد بتایا گیا ہے۔

یہ صورتحال اس سوال کو اہم بناتی ہے کہ کیا پاکستان کو مستقبل میں ریل، سڑک اور آبی راستوں پر مشتمل متوازن ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نظام کی طرف بڑھنا چاہیے۔

ریل کے ذریعے زیادہ مقدار میں مال برداری نہ صرف سڑکوں پر دباؤ کم کرسکتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں ایندھن، لاجسٹکس اور طویل فاصلے کی نقل و حمل کے اخراجات کو بھی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ویژن 2025 میں ریل فریٹ کا ہدف

پاکستان کے ویژن 2025 میں بھی ریل کے ذریعے مال برداری کا حصہ بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں ریل فریٹ کے حصے کو 20 فیصد تک بڑھانے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔

تاہم اصل چیلنج اہداف مقرر کرنے کے بعد ان کے حصول کے لیے درکار سرمایہ کاری، ریلوے انفراسٹرکچر، سگنلنگ، ٹریک کی بہتری، جدید انجنوں اور کارگو ٹرمینلز کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔

تجرباتی مطالعات کو پالیسی سازی سے جوڑنے کی ضرورت

ماہرین کے مطابق پاکستان میں مختلف وزارتوں، محکموں اور تحقیقی اداروں کی جانب سے وقتاً فوقتاً مطالعات اور رپورٹس تیار کی جاتی ہیں، تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان مطالعات کے نتائج کو عملی پالیسی سازی میں کس حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر تحقیقی مطالعات صرف سرکاری فائلوں اور وزارتوں کی الماریوں تک محدود رہیں تو ان پر خرچ ہونے والے وسائل مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرسکتے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی سازی کو شواہد، اعداد و شمار، تجرباتی نتائج اور لاگت و فوائد کے تجزیے سے مربوط کیا جائے۔

محدود وسائل میں ترجیحات کا درست تعین ضروری

پاکستان کو ایک طرف بنیادی ڈھانچے، روزگار، توانائی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جبکہ دوسری طرف حکومت کو محدود مالی وسائل کا سامنا ہے۔

ایسی صورتحال میں ہر بڑے منصوبے سے قبل یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اس منصوبے سے قومی معیشت کو کتنی قدر حاصل ہوگی، کتنے روزگار پیدا ہوں گے، پیداواری صلاحیت میں کتنا اضافہ ہوگا اور طویل مدت میں قومی آمدن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق سڑکوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم صرف ایک شعبے پر غیر معمولی توجہ دینے کے بجائے ایسی پالیسی درکار ہے جس میں ریل، سڑک، آبی راستوں، صنعتی انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں کو معاشی ضرورت کے مطابق ترجیح دی جائے۔

نئے پروکیورمنٹ رولز کا اصل امتحان عمل درآمد

پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کے نفاذ کے بعد اب اصل امتحان ان قواعد پر مؤثر اور یکساں عمل درآمد کا ہے۔

ڈیجیٹل نظام، تیسرے فریق کی نگرانی، شکایات کے آزاد طریقہ کار اور اپیلیٹ کمیٹی جیسے اقدامات اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں جب انہیں مضبوط ادارہ جاتی نگرانی، تربیت یافتہ عملے، شفاف ریکارڈ اور مؤثر احتساب کے ساتھ نافذ کیا جائے۔

اگر نئے قواعد صرف نوٹیفکیشن تک محدود نہ رہیں اور عملی سطح پر خریداری کے پورے نظام میں شفافیت اور مسابقت کو فروغ دیں تو یہ پاکستان کے سرکاری خریداری کے نظام میں ایک اہم اصلاحاتی قدم ثابت ہوسکتے ہیں۔

مجموعی طور پر پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 کا نفاذ پاکستان میں شفاف سرکاری خریداری، بہتر نگرانی اور شکایات کے مؤثر ازالے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس اصلاح کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب نئے قواعد کاغذی دستاویز سے نکل کر وفاقی، صوبائی اور سرکاری اداروں کے روزمرہ خریداری کے عمل میں مؤثر طور پر نافذ ہوں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button