
سیاسی جنگ میں ہار ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے…….علی عباس کاظمی
ہماری سیاست میں ایک اور خطرناک بیماری پیدا ہو چکی ہے۔ ہر فریق اپنے کارکنوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ اصولوں کی جنگ لڑ رہا ہے اور دوسرا فریق صرف اقتدار یا ذاتی مفاد کے لیے کھڑا ہے
پاکستان میں سیاست کا سب سے بڑا بحران شاید اختلاف نہیں بلکہ اختلاف کو برداشت نہ کرنے کی عادت ہے۔ یہاں حکومت اقتدار میں آتے ہی یہ سمجھنے لگتی ہے کہ اسے ہر حال میں اقتدار قائم رکھنے کا حق حاصل ہے اور اپوزیشن اقتدار سے باہر ہوتے ہی یہ تصور کر لیتی ہے کہ حکومت کو چلنے کا حق نہیں۔قومی اسمبلی میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت اسی طویل سیاسی کشمکش کا ایک اور باب ہے۔ دونوں فریق مذاکرات کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں، مگر ان کے رویے اب بھی یہ بتاتے ہیں کہ وہ مسئلے کا حل تلاش کرنے سے زیادہ اپنی سیاسی پوزیشن بچانے میں مصروف ہیں۔حکومت کی تشویش اپنی جگہ موجود ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ایک حقیقی خطرہ ہے اور ریاست کسی بھی صوبائی یا سیاسی اختلاف کو قومی سلامتی کے معاملات پر حاوی نہیں ہونے دے سکتی۔ اسی طرح تحریک انصاف کے مطالبات بھی محض سیاسی نعرے نہیں کہہ کر نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ عمران خان کی صحت، جیل میں بنیادی سہولتیں، ملاقاتوں کی اجازت اور سیاسی کارکنوں کے معاملات انسانی اور سیاسی دونوں پہلو رکھتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر جائز مطالبے کے ساتھ سیاسی سودے بازی جڑ جائے اور ہر ریاستی خدشے کو سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا جانے لگے۔ پھر کوئی فریق دوسرے کی بات کو مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ چال کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔
ہماری سیاست میں ایک اور خطرناک بیماری پیدا ہو چکی ہے۔ ہر فریق اپنے کارکنوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ اصولوں کی جنگ لڑ رہا ہے اور دوسرا فریق صرف اقتدار یا ذاتی مفاد کے لیے کھڑا ہے۔ اس سوچ میں سیاسی مخالف انسان نہیں رہتا بلکہ دشمن بن جاتا ہے۔ جب مخالف دشمن بن جائے تو اس کے ساتھ سمجھوتا کرنا اپنے کارکنوں کو دھوکا دینے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قیادت مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بھی اپنے پیچھے موجود جذباتی ہجوم سے آزاد نہیں ہو پاتی۔ وہ سمجھوتا کرنا چاہتی ہے مگر اس کے لیے الفاظ نہیں ملتے، کیونکہ اس نے اپنے ہی کارکنوں کو اتنا یقین دلا دیا ہوتا ہے کہ صرف ہماری مکمل کامیابی ہی حق ہے۔تحریک انصاف کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی سیاست کو مستقل احتجاج کے گرد رکھنا چاہتی ہے یا اسے ایک سنجیدہ پارلیمانی قوت کے طور پر آگے لے جانا چاہتی ہے۔ احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن احتجاج کو ہر سیاسی مسئلے کا واحد علاج بنا دینا سیاست کو کمزور کرتا ہے۔ اگر ہر اختلاف کا جواب مارچ ہو، ہر حکومتی فیصلے کا جواب دھرنا ہو اور ہر مذاکراتی عمل کے ساتھ سڑکوں پر طاقت دکھانے کی تیاری بھی جاری رہے تو پھر مذاکرات کی ساکھ خود متاثر ہوتی ہے۔ سیاسی دباؤ ایک حد تک مؤثر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ خوف اور بے یقینی پیدا کرنے لگتا ہے۔ ایک بڑی سیاسی جماعت سے زیادہ سنجیدگی کی توقع اس لیے بھی کی جاتی ہے کہ اس کے فیصلے صرف اس کے کارکنوں پر نہیں بلکہ پورے ملک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
لیکن حکومت بھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہو سکتی کہ سخت رویہ ہی مضبوط حکومت کی علامت ہے۔ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اس بات میں نہیں کہ وہ کتنی جلدی احتجاج روک سکتی ہے بلکہ اس میں ہے کہ وہ اختلاف کو تشدد میں تبدیل ہونے سے پہلے سیاسی راستہ فراہم کر سکتی ہے یا نہیں۔ حکومت اگر ہر رعایت کو سیاسی شکست سمجھنے لگے تو پھر مذاکرات صرف دکھاوا بن جاتے ہیں۔ ایک جمہوری حکومت کے لیے اپنے مخالف کو کچھ دینا ضروری نہیں، لیکن اپنے مخالف کی جائز بات سننا ضرور ضروری ہے۔ اسی طرح کسی سیاسی رہنما کو طبی سہولت فراہم کرنا سیاسی احسان نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ہے۔ صحت کو سیاسی سودے بازی کا موضوع بنانا کسی بھی فریق کے لیے اخلاقی طور پر قابل دفاع رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مسئلہ عدالت میں زیر سماعت ہے تو حکومت کے لیے عدالتی فیصلے کا احترام بنیادی ذمہ داری ہے اور اپوزیشن کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عدالت کو سیاسی دباؤ کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پاکستان میں اداروں کے درمیان حدود پہلے ہی دھندلی ہیں۔ ہر ادارہ دوسرے کے میدان میں داخل ہوتا ہے اور عوام درمیان میں کھڑے رہ جاتے ہیں۔
9 مئی کے واقعات کا سایہ اب بھی قومی سیاست پر موجود ہے۔ ایسے واقعات کو بھلانا نہ انصاف ہے نہ ممکن، لیکن ہر سیاسی مستقبل کو ماضی کی سزا بنا دینا بھی کسی ملک کو آگے نہیں لے جاتا۔ اگر قانون شکنی ہوئی ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے، ذمہ دار افراد کا تعین ہو اور انصاف ہو۔ مگر سیاسی اختلاف کو مستقل دشمنی میں تبدیل کرنے سے ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔ اسی طرح تحریک انصاف کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے سیاسی کارکنوں کو یہ فرق سمجھائے کہ ریاستی اداروں پر تنقید اور ریاستی اداروں سے تصادم دو مختلف چیزیں ہیں۔ اختلاف کی شدت جتنی بھی ہو، تشدد کی اجازت کسی جمہوری سیاست میں نہیں دی جا سکتی۔ ریاستی اداروں کو امن و امان قائم رکھنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی گروہ کو تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن یہاں حکومت کے لیے بھی ایک اہم ذمہ داری پیدا ہوتی ہے کہ پُرامن سیاسی احتجاج اور پُرتشدد انتشار میں واضح فرق رکھا جائے۔ اگر ہر احتجاج کو خطرہ سمجھا جائے گا تو جمہوری آزادی محدود ہوگی اور اگر ہر ریاستی اقدام کو جبر کہہ کر ہر قسم کی مزاحمت جائز قرار دی جائے گی تو ریاستی نظم کمزور ہوگا۔ دونوں انتہائیں ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس سیاسی کشمکش میں عوام کی حیثیت تقریباً تماشائی کی رہ جاتی ہے۔ حکومت اپنی بقا کی فکر میں ہے، اپوزیشن اپنی سیاسی واپسی کی جدوجہد میں ہے، ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار اور قومی سلامتی کے سوالات میں مصروف ہیں، مگر عام آدمی مہنگائی، روزگار، بجلی، تعلیم، صحت اور امن کے مسائل کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسے اس بات سے زیادہ دلچسپی ہے کہ اس کا گھر کیسے چلے گا، بچے کہاں پڑھیں گے اور کل کا دن آج سے بہتر ہوگا یا نہیں۔ سیاسی جماعتیں اگر عوام کے نام پر سیاست کرتی ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ مسلسل کشیدگی سے عوام کو حاصل کیا ہوا۔اصل مسئلہ شاید مذاکرات کی ناکامی نہیں بلکہ سیاسی نظام میں اعتماد کی کمی ہے۔ حکومت اپوزیشن کو خطرہ سمجھتی ہے، اپوزیشن حکومت کو ناجائز رکاوٹ سمجھتی ہے اور دونوں کے درمیان اعتماد کا پل بار بار تعمیر ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی معاہدہ دیرپا نہیں ہوتا کیونکہ معاہدے کے الفاظ سے زیادہ نیت پر شک کیا جاتا ہے۔ سیاسی حل صرف کاغذ پر نہیں بنتا، اس کے لیے ذہن بدلنے پڑتے ہیں۔ حکومت کو یہ ماننا ہوگا کہ مضبوط حکومت وہ نہیں جو مخالف کو دبائے بلکہ وہ ہے جو مخالف کے وجود کو برداشت کرے۔ اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبولیت اسے قانون سے بالاتر نہیں کرتی۔
پاکستان کو اس وقت ایک اور سیاسی فتح نہیں بلکہ سیاسی بلوغت کی ضرورت ہے۔ اگر تحریک انصاف احتجاج کے بجائے مذاکرات کو اپنی طاقت بناتی ہے اور حکومت رعایت کو شکست سمجھنے کے بجائے اسے سیاسی دانش مندی تصور کرتی ہے تو شاید اس بحران سے کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن اگر دونوں فریق اپنے اپنے کارکنوں کے غصے کو اپنی پالیسی بناتے رہے تو مذاکرات کی میز صرف اگلے تصادم کی تیاری گاہ بن جائے گی۔ تاریخ میں حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، جماعتیں کمزور اور مضبوط ہوتی رہتی ہیں، مگر ریاست اور معاشرہ باقی رہتے ہیں۔ اس لیے فیصلہ سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے مخالف کو شکست دینا چاہتی ہیں یا اس ملک کو ایک اور شکست سے بچانا چاہتی ہیں۔


