
رائٹرز کے ساتھ
اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بحیرہ روم اور بلقان کے راستوں سے یورپ پہنچنے والے مہاجر اور پناہ گزین بچوں میں دو تہائی سے زائد تنہا سفر کر رہے تھے، جبکہ ان میں سے بہت سے بچوں کو استحصال کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے مقابلے میں خشکی اور سمندری راستوں سے یورپ پہنچنے والے بچوں کی مجموعی تعداد میں 25 فیصد کمی آئی، تاہم تنہا سفر کرنے والے بچوں کا تناسب 51 فیصد سے بڑھ کر 67 فیصد ہو گیا۔
2025 میں بلغاریہ، قبرص، یونان، اٹلی، مالٹا اور اسپین سمیت یورپی ممالک پہنچنے والے 31 ہزار 100 بچوں میں سے 20 ہزار سے زائد اپنے والدین یا سرپرست کے بغیر سفر کر رہے تھے یا ان سے بچھڑ گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اٹلی اور اسپین پہنچنے والے بچوں میں 86 فیصد تنہا یا والدین اور سرپرست کے بغیر تھے ، جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تناسب ہے۔ اٹلی پہنچنے والے بچوں کی تعداد میں 12 فیصد اضافہ ہوا اور ان میں سے بڑی تعداد کا تعلق مصر، اریٹیریا، بنگلہ دیش اور صومالیہ سے تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت، تنازعات اور ماحولیاتی خطرات لوگوں کو پُرخطر سمندری سفر پر مجبور کرنے والی اہم وجوہات ہیں۔ محفوظ طریقوں سے نقل مکانی کے مواقع محدود ہونے کے باعث زیادہ بچے خطرناک راستے اختیار کرنے اور انسانی اسمگلروں کے ہاتھ لگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ محفوظ راستوں کی عدم دستیابی کے باعث بچے تشدد اور استحصال کے سنگین خطرات سے دوچار ہوتے ہیں اور انہیں اسمگلروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے نابالغ بچوں کو نشانہ بنانے والے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے یورپی ممالک اور مہاجرت کے راستوں میں آنے والے ملکوں کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا ہے۔



