
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے پاکستان اور بحرین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ پاکستان نے بحرین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی حجم کو دوگنا کرکے ایک ارب ڈالر تک لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے وزارت خارجہ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خارجہ پہنچنے پر نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ کا مرکزی دروازے پر پرتپاک استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بحرین کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
ملاقات میں تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ دوطرفہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
بعد ازاں پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرکے ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ اقتصادی تعاون، دفاعی و سکیورٹی امور، بحری شعبے، افرادی قوت اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس
اسلام آباد میں پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور اعلیٰ سطحی روابط میں ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ دونوں جانب سے مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے اور موجودہ شعبہ جات میں عملی اقدامات کو تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے پروٹوکول پر دستخط کیے۔
دفاع، سکیورٹی اور بحری تعاون
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو بھی مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں موجود روابط کو مزید فروغ دینے اور باہمی تجربات سے استفادہ کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بحری امور اور افرادی قوت کے شعبوں کو بھی دوطرفہ تعاون کے اہم شعبوں میں شامل قرار دیا گیا، جبکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تنازعات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنا ضروری ہے۔
بحرین کی جانب سے پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف
بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مخلص جذبات پر مبنی ہیں۔
انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار اور سفارتی کوششوں کو سراہا۔ بحرینی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی مسائل اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری پر اتفاق
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکالمہ، مذاکرات اور سفارتکاری مؤثر اور قابلِ عمل ذرائع ہیں۔
دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر ایک دوسرے سے مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان اور بحرین کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط اور مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ دونوں جانب سے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ ایک ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کا حصول آئندہ مرحلے میں اقتصادی تعاون کے لیے اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔




