
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 اہم کمانڈروں سمیت 9 خوارج ہلاک
ہلاک ہونے والے دہشت گرد علاقے میں خوارج کی سرگرمیوں، حملوں کی منصوبہ بندی اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے 4 اہم کمانڈروں سمیت 9 خوارج کو ہلاک کر دیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری آپریشنز کا حصہ ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں خوارج کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کیں۔
پلنگ زئی، ندیم کوٹ اور کوٹ خضری میں آپریشن
سکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقوں پلنگ زئی، ندیم کوٹ اور کوٹ خضری میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں۔
کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور فتنہ الخوارج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں 9 خوارج ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تنظیم کے 4 اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد علاقے میں خوارج کی سرگرمیوں، حملوں کی منصوبہ بندی اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ تاہم ان افراد کی شناخت اور ان کے عہدوں سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
برآمد ہونے والے اسلحے اور دیگر جنگی سامان کو قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد خوارج کے ان نیٹ ورکس اور ٹھکانوں کو ختم کرنا ہے جو علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
خوارج کے متعدد ٹھکانے تباہ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت جاری کارروائیوں میں فتنہ الخوارج کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ان کے زیر استعمال پناہ گاہوں اور دیگر سہولت کاری کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس سے علاقے میں خوارج کی نقل و حرکت اور کارروائیوں کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے۔
انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری
سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مخصوص اہداف کی نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران خوارج کے اہم کمانڈروں کی ہلاکت اور متعدد ٹھکانوں کی تباہی دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں اہم پیش رفت ہے۔
عزمِ استحکام کے تحت کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حکام کا مؤقف ہے کہ دہشت گردوں کو منظم ہونے، محفوظ ٹھکانے بنانے یا شہری و سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شمالی وزیرستان میں حالیہ کارروائیوں کے بعد بھی ممکنہ دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے خاتمے کے لیے علاقے میں نگرانی اور سرچ آپریشنز جاری رکھنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزمِ استحکام کے تحت انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کا بنیادی مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔



