
حزب اللہ کے لیے ایران سے 20 کروڑ ڈالر امداد کا دعویٰ
''امریکہ پابندیوں کے ذریعے حزب اللہ کے مالی وسائل کو محدود کرتا رہے گا اور ساتھ ہی لبنان کی قانونی حکومت کی جنوبی علاقوں کی تعمیر نو کی صلاحیت کی حمایت کرے گا۔‘‘
روئٹرز کے ساتھ
امریکی محکمہ خزانہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایران ”رقم اور اسے منتقل کرنے کے ذرائع، دونوں سے محروم ہوتا جا رہا ہے‘‘ اور تہران کے پاس ”اپنی دہشت گردی کی مہم کی مالی معاونت کے لیے رقم نہیں ہے۔‘‘
ذرائع کے مطابق حزب اللہ کو گزشتہ ماہ یہ رقم اس وقت ملی جب ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ مزید سخت ہو چکا تھا اور تہران سے لبنان میں اس کے اتحادی گروپ تک رقم پہنچانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ رقم منتقل کرنے والے ثالثوں نے اس لین دین کے خطرات کے باعث 20 فیصد فیس وصول کی، جو عام فیس سے چار گنا زیادہ تھی۔
تبصرے کے لیے رابطہ کیے جانے پر حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ایک رقم کا انتظام کر لیا گیا ہے اور اسے تقسیم کرنے کا منصوبہ آنے والے دنوں میں اعلان کیا جائے گا، تاہم انہوں نے رقم کے ذریعے کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائیں۔
ایرانی وزارت خارجہ، جنیوا میں ایران کے مستقل مشن اور لبنانی حکومت نے فوری طور پر اس بارے میں تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری اور زمینی کارروائی کے نتیجے میں لاکھوں حزب اللہ حامی شیعہ لبنانی شہری بے گھر ہوئے۔ حزب اللہ نے 2 مارچ کو ایران کی حمایت میں علاقائی جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
تاہم بے گھر افراد کو اب تک حزب اللہ کی جانب سے بہت کم یا کوئی امداد نہیں ملی۔ حزب اللہ کو ایران کے پاسداران انقلاب نے 1982 میں قائم کیا تھا اور 2024 کے بعد سے دو جنگوں میں اسے اسرائیل کے شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پیگوٹ نے کہا کہ حزب اللہ نے لبنانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں اور خود بھی شدید نقصان اٹھا چکی ہے، جبکہ اس کا حامی ایران امریکی جانب سے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ”امریکہ پابندیوں کے ذریعے حزب اللہ کے مالی وسائل کو محدود کرتا رہے گا اور ساتھ ہی لبنان کی قانونی حکومت کی جنوبی علاقوں کی تعمیر نو کی صلاحیت کی حمایت کرے گا۔‘‘

پچاس ہزار خاندانوں کی مدد
ذرائع کے مطابق حزب اللہ ابتدائی طور پر ہر خاندان کو 3,000 ڈالر فراہم کرے گی، جبکہ ترجیح ان خاندانوں کو دی جائے گی جن کے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں یا اسرائیلی قبضے کے باعث وہاں رسائی ممکن نہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق ایسے خاندانوں کی تعداد تقریباً 50 ہزار ہے۔
امریکہ کی جانب سے عائد سخت پابندیوں کے باوجود ایران برسوں سے حزب اللہ کو مالی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق تہران نے 2025 کے پہلے 10 ماہ کے دوران حزب اللہ کو ایک ارب ڈالر منتقل کیے تھے۔
ایران نے کبھی کھلے عام حزب اللہ کی مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا۔ خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی ایرانی پالیسی ماضی میں ملک کے اندر مذہبی حکمرانوں کے خلاف احتجاج کا سبب بھی بنتی رہی ہے اور ایران میں معاشی مشکلات بڑھنے کے موجودہ دور میں یہ معاملہ مزید حساس ہو سکتا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے گزشتہ ماہ ایک تقریر میں کہا تھا کہ تنظیم جلد ہی جنگ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کے لیے رہائش کی ایک منصوبہ بندی میں حصہ لے گی، جس کے لیے ”دستیاب وسائل اور عطیات‘‘ استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

مہنگی جنگ
دونوں ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ رقم لبنان تک کیسے پہنچی۔ ان میں سے ایک کے مطابق حزب اللہ کے لیے ان مالیاتی کمپنیوں کے ذریعے رقم منتقل کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے جو پہلے اس نوعیت کی منتقلی میں معاونت کرتی تھیں۔
ذریعے نے بتایا کہ عراق اور دبئی میں قائم ایسی کمپنیاں اب قابلِ استعمال نہیں رہیں، جبکہ ترکی میں بھی ان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اس ذریعے کے مطابق حزب اللہ کے مخالفین کے خیال میں اس وقت رقم ہی تنظیم کے لیے ”آکسیجن‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ تب بھی مالی وسائل کے حصول میں مشکلات کے باوجود حزب اللہ نے اپنے جنگجوؤں اور لڑائی میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو ادائیگیاں بند نہیں کیں۔
لبنان میں جنگ نے اس شیعہ مسلم برادری کو بھاری نقصان پہنچایا ہے جس سے حزب اللہ کو حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں میں متعدد دیہات تباہ کر دیے ہیں جن پر اس کا قبضہ ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شمالی اسرائیل کو حزب اللہ کے حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔



