پاکستاناہم خبریں

سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی تعیناتی پر رائٹرز کی رپورٹ حقائق کا نامکمل اور یک طرفہ تاثر پیش کرتی ہے، پاکستان کا دفاعی فیصلہ کسی ایک شخصیت کا انفرادی اقدام نہیں

پاکستان کی خارجہ پالیسی کو فوج کے تسلط سے جوڑنا درست نہیں، قومی سلامتی کے فیصلوں کو آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی تناظر میں دیکھا جائے، دفاعی تعاون قومی مفادات اور مشترکہ مشاورت کا معاملہ ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): سعودی عرب میں پاکستانی مسلح افواج کی تعیناتی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کے حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی حالیہ رپورٹ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، سول و عسکری تعلقات اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان کے قومی مفادات اور دفاعی پالیسی کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کو محض کسی ایک عسکری شخصیت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ یا فوج کی خارجہ پالیسی پر گرفت کے تناظر میں پیش کرنا حقائق کی نامکمل اور یک طرفہ تصویر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

رائٹرز نے 8 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اپنی تجزیاتی رپورٹ میں سعودی عرب کے لیے اضافی پاکستانی افواج کی تعیناتی کو پارلیمانی منظوری کے بغیر کیے گئے اقدام اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تحت فوج کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے جوڑا۔ رپورٹ میں 2015 کے پارلیمانی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ صورت حال کو پاکستان میں سول و عسکری تعلقات کی تبدیلی کی علامت قرار دیا گیا۔ تاہم اس تجزیے میں دفاعی معاہدوں، مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں، پاکستان کے نئے کمانڈ ڈھانچے اور سرکاری سطح پر بیان کیے گئے مؤقف کو بھی مکمل تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

پاکستان کے دفاعی مؤقف کے حامی حلقوں کے مطابق سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کو ’’منیر کی فوج‘‘ یا کسی ایک فرد کا ذاتی فیصلہ قرار دینا درست نہیں۔ مسلح افواج ریاستی ادارہ ہیں اور ان کی ذمہ داریاں قومی دفاع، ریاستی سلامتی اور قانونی و آئینی نظام کے تحت انجام دی جاتی ہیں۔ اسی طرح خارجہ پالیسی کے کسی فیصلے کو صرف ایک عہدے دار کے اثرورسوخ سے منسوب کرنے کے بجائے اس کے قانونی، سفارتی، دفاعی اور ادارہ جاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سعودی عرب میں تعیناتی: دفاعی معاہدے اور علاقائی سلامتی کا تناظر

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی تعاون موجود ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے 9 اکتوبر 2026 کی بریفنگ میں واضح کیا کہ پاکستانی مسلح افواج 1982 سے مختلف انتظامات کے تحت سعودی عرب میں موجود رہی ہیں، جن میں لاجسٹک معاونت اور تربیتی مشنز شامل ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق گزشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد بھی فوجی تعیناتی سے متعلق انتظامات کیے گئے، جبکہ حالیہ اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں ضرورت کے مطابق مناسب عسکری وسائل کی تعیناتی پر اتفاق کیا گیا۔

یہ سرکاری مؤقف اس امر کو واضح کرتا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی کو صرف کسی ایک حالیہ فیصلے یا ایک شخصیت کے اقدام کے طور پر دیکھنا تاریخی تناظر کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید منظم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 5 اکتوبر 2026 کو ریاض میں ہونے والے اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں تینوں ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر عملی پیش رفت کے لیے اقدامات کی منظوری دی۔ اعلامیے میں متعلقہ قومی قوانین اور منظور شدہ انتظامات کے مطابق ضروری عسکری صلاحیتوں اور افواج کی تعیناتی کا بھی ذکر کیا گیا۔

اس تناظر میں سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی تعیناتی کو محض ایک شخص کے سیاسی یا عسکری اثرورسوخ کی توسیع قرار دینے کے بجائے دفاعی معاہدے، علاقائی خطرات اور دونوں ممالک کے طویل المدتی تعاون کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر فوج کا تسلط ہے؟

رائٹرز کی رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں اضافی افواج کی تعیناتی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم اس نوعیت کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے محض کسی دفاعی فیصلے یا عسکری عہدے دار کی اہمیت کا حوالہ کافی نہیں؛ اس کے لیے فیصلہ سازی کے اصل طریقۂ کار، حکومتی مشاورت اور متعلقہ آئینی و قانونی اختیارات کا جائزہ ضروری ہے۔

پاکستان کے مؤقف کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور دفاعی تعاون سے متعلق فیصلے کئی سطحوں پر اثرات رکھتے ہیں۔ ان میں عسکری ضروریات، علاقائی صورت حال، بین الاقوامی معاہدے، سفارتی تعلقات، قومی مفادات اور ممکنہ خطرات کا جائزہ شامل ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ رائے اہم ہوتی ہے، لیکن اس رائے کی اہمیت بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ پورا فیصلہ کسی ایک شخصیت نے تنہا کیا۔

یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے: عسکری قیادت کا دفاعی امور میں مؤثر کردار ادا کرنا اور فوج کا ریاست کی خارجہ پالیسی پر مکمل تسلط قائم ہونا دو مختلف دعوے ہیں۔ پہلے دعوے کا تعلق دفاعی نظام کی ذمہ داریوں سے ہے، جبکہ دوسرے کے لیے وسیع تر شواہد درکار ہیں۔

لہٰذا رائٹرز کے تجزیے پر تنقید کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے دفاعی فیصلوں کو صرف فوج کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی علامت بنا کر پیش کرنا ناکافی ہے، خصوصاً جب معاملہ ایک موجودہ دفاعی معاہدے اور طویل عرصے سے جاری دوطرفہ تعاون سے متعلق ہو۔

تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ فیصلہ سازی میں پارلیمانی نگرانی، حکومتی جواب دہی اور آئینی بالادستی سے متعلق سوالات کو محض تنقید کہہ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ قومی سلامتی اور جمہوری جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ مؤثر ریاستی نظام کے اہم تقاضے ہیں۔

2015 کا یمن معاملہ اور موجودہ سعودی تعیناتی: دونوں حالات میں فرق

رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں 2015 کے پارلیمانی فیصلے کا حوالہ دیا، جب پاکستان کی پارلیمان نے یمن میں جاری تنازع کے دوران سعودی قیادت میں ہونے والی فوجی مداخلت سے پاکستان کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ تعیناتی کے معاملے میں پارلیمانی ووٹ سامنے نہ آنے سے دونوں ادوار کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔

پاکستان کے دفاعی تعاون کے حامی حلقوں کے مطابق دونوں معاملات کا موازنہ کرتے وقت اس وقت کے حالات، موجودہ دفاعی معاہدوں، تعیناتی کے مقاصد اور عملی ذمہ داریوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

2015 میں بحث کا مرکز یمن میں جاری جنگ اور سعودی قیادت میں فوجی کارروائی میں پاکستان کی ممکنہ شرکت تھا۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کا ایک نیا فریم ورک موجود ہے، جس کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس فرق کے باوجود پارلیمانی مشاورت کا سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ کسی دفاعی معاہدے کی موجودگی اور کسی مخصوص تعیناتی کے لیے پارلیمانی منظوری کی قانونی ضرورت دو الگ معاملات ہیں۔ یہ طے کرنے کے لیے کہ موجودہ تعیناتی کے لیے پارلیمانی ووٹ لازمی تھا یا نہیں، متعلقہ آئینی دفعات، قانون، معاہدے کی شرائط اور حکومتی فیصلوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اس لیے نہ 2015 کے فیصلے کو غیر متعلق قرار دینا درست ہوگا اور نہ دونوں صورتوں کو مکمل طور پر یکساں سمجھنا۔ بہتر تجزیہ وہی ہوگا جو تاریخی اور قانونی اختلافات کو سامنے رکھے اور غیر مصدقہ نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کرے۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ: مشترکہ کمان میں ہم آہنگی کا نیا ڈھانچہ

پاکستان کے دفاعی نظام میں اہم تبدیلی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سامنے آئی، جس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کیا گیا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ متعارف کرایا گیا۔

سرکاری معلومات کے مطابق صدرِ پاکستان نے 4 دسمبر 2025 کو وزیراعظم کی سفارش پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داری بھی پانچ سال کے لیے سونپنے کی منظوری دی۔

اس کے بعد حکومت نے دفاعی کمان کے نئے ڈھانچے کے انتظامی اور قانونی پہلوؤں کو منظم کرنے کے لیے قانون سازی کی۔ وفاقی کابینہ نے 20 اگست 2026 کو ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ 2026 کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی۔ پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق متعلقہ قوانین اسی تاریخ کو منظور ہوئے۔

اس ادارہ جاتی تبدیلی کا بنیادی پہلو مسلح افواج کے درمیان مشترکہ کمان اور رابطہ کاری کے ڈھانچے کی تنظیمِ نو ہے۔ جدید عسکری کارروائیوں میں بری، بحری اور فضائی افواج کے ساتھ معلوماتی نظام، بغیر پائلٹ طیاروں، میزائلوں اور دیگر دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنا اہم ہوتا ہے۔

مشترکہ کمان کے حامیوں کے مطابق ایک مربوط نظام مختلف سروسز کے درمیان عملی تعاون بہتر بنانے، ذمہ داریوں کی تقسیم واضح کرنے اور ہنگامی حالات میں فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تاہم نئے کمان ڈھانچے کی موجودگی کو خودبخود اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر خارجی دفاعی تعیناتی کسی ایک افسر کے ذاتی اختیار سے طے ہوتی ہے۔ کسی مخصوص فیصلے کے طریقۂ کار کا تعین متعلقہ قانونی اختیارات اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

آئینی بالادستی اور حکومتی جواب دہی کی اہمیت

پاکستان کے آئینی نظام میں مسلح افواج کے انتظام اور کمان سے متعلق بنیادی آئینی دفعات اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ آرٹیکل 243 کے تحت وفاقی حکومت کے آئینی اختیارات اور صدر کی جانب سے تقرریوں کے متعلق طریقۂ کار دفاعی نظام کی قانونی بنیاد کا حصہ ہیں۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے اور متعلقہ قوانین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان آئینی دفعات، پارلیمان سے منظور شدہ قانون سازی اور حکومتی ذمہ داریوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔

پاکستان کے دفاعی نظام کی حمایت کرنے والے حلقوں کا مؤقف ہے کہ مشترکہ کمان کے قیام سے عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی آئینی حیثیت اور حکومتی جواب دہی ریاستی نظام کے بنیادی تقاضے رہتے ہیں۔

دوسری جانب، اس امر کی بھی اہمیت ہے کہ قومی سلامتی کے حساس معاملات میں عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے حکومت دستیاب قانونی حدود کے اندر مناسب وضاحت فراہم کرے۔ آپریشنل رازداری اور جمہوری جواب دہی میں توازن قائم کرنا کسی بھی ریاست کے لیے ضروری ہے۔

اس لیے پاکستان کے دفاعی نظام کا دفاع کرتے ہوئے سب سے مضبوط مؤقف یہی ہے کہ فیصلوں کو آئین، قانون اور متعلقہ اداروں کے کردار کی بنیاد پر پرکھا جائے، نہ کہ محض شخصیات کے ناموں یا سیاسی مفروضوں کی بنیاد پر۔

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے قومی مفاد کا معاملہ

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ سفارتی، اقتصادی، مذہبی اور عوامی روابط بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت نے مختلف ادوار میں باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون اس شراکت داری کو ایک منظم سہ فریقی فریم ورک میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ ایسے معاہدوں کا عملی مقصد مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا اور متعلقہ ممالک کے درمیان دفاعی رابطہ کاری کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی سلامتی اہم ہے، لیکن کسی بھی دفاعی تعیناتی کے عملی تقاضوں، دائرۂ کار اور ذمہ داریوں کا تعین متعلقہ معاہدوں اور قومی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے 9 اکتوبر کی بریفنگ میں یہ بھی کہا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں کے سرحد پار کارروائیوں میں حصہ لینے سے متعلق خبریں قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور وزیر اطلاعات بھی ان کی تردید کر چکے ہیں۔ اس سرکاری وضاحت کو فوجی تعیناتی کی نوعیت پر بحث کرتے وقت مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

یہ وضاحت ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی اور کسی مخصوص جنگی کارروائی میں براہِ راست شرکت کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان دونوں کے درمیان فرق واضح رکھنا ذمہ دارانہ صحافت اور قومی مفاد کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ پر بنیادی اعتراض: تجزیے اور ثابت شدہ حقیقت میں فرق

رائٹرز کی رپورٹ میں پارلیمانی منظوری کے فقدان اور فوج کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے درمیان تعلق قائم کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ کا تجزیاتی مؤقف ہے، جسے پاکستان کے قانونی، سفارتی اور دفاعی تناظر میں مزید جانچنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے حق میں مضبوط اور قابلِ دفاع مؤقف یہ ہے کہ سعودی عرب میں افواج کی تعیناتی کو کسی ایک شخصیت کی ذاتی پالیسی قرار دینے کے لیے فیصلہ سازی کے عمل کے متعلق قابلِ تصدیق شواہد درکار ہیں۔ اسی طرح اگر رپورٹ یہ تاثر دیتی ہے کہ پاکستان کے دفاعی تعاون کی پوری تاریخ یا موجودہ پالیسی صرف ایک فرد کے اختیار سے تشکیل پا رہی ہے تو یہ تاثر دستیاب تاریخی اور سرکاری معلومات کے مقابلے میں نامکمل سمجھا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ کہنا بھی مناسب نہیں ہوگا کہ رائٹرز کی ہر بات لازماً غلط ہے، کیونکہ رپورٹ نے پارلیمانی نگرانی اور سول و عسکری تعلقات سے متعلق حقیقی سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ان سوالات کا جواب سرکاری ریکارڈ، قانونی تشریح اور متعلقہ حکومتی وضاحتوں سے دیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی پوزیشن کا مؤثر دفاع جذباتی ردعمل یا کسی خبر کو بلا ثبوت جھوٹا قرار دینے کے بجائے دستاویزی حقائق، آئینی اصولوں اور واضح سفارتی مؤقف کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ: پاکستان کے دفاعی فیصلوں کا جائزہ مکمل قومی اور قانونی تناظر میں لیا جائے

سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی تعیناتی پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دفاعی تعلقات، نئے مشترکہ دفاعی معاہدے اور علاقائی سلامتی کی صورت حال سے متعلق ایک اہم معاملہ ہے۔ اس فیصلے کو صرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ذاتی کردار یا فوج کی خارجہ پالیسی پر مکمل گرفت سے منسوب کرنا ایک ایسا تجزیاتی نتیجہ ہے جس کے لیے مزید ٹھوس شواہد درکار ہیں۔

پاکستان کے قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ ملک کے دفاعی اداروں، سفارتی پالیسی اور آئینی نظام سے متعلق معاملات پر بحث حقائق اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر ہو۔ مسلح افواج کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، حکومت کے آئینی اختیارات اور پارلیمانی نگرانی کی اہمیت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

پاکستان کا مضبوط مؤقف یہ ہے کہ قومی سلامتی اور دفاعی تعاون کے فیصلوں کو شخصیات کے گرد گھمانے کے بجائے ان کے اصل قانونی، سفارتی اور ادارہ جاتی تناظر میں پرکھا جائے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے یک طرفہ یا نامکمل پہلوؤں پر تنقید ضرور کی جا سکتی ہے، لیکن اس تنقید کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سرکاری شواہد، متعلقہ قوانین اور شفاف وضاحتوں کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کے قومی مفادات، دفاعی وقار اور ذمہ دارانہ صحافت کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button