مشرق وسطیٰتازہ ترین

امریکی رپورٹ میں ایران اور حوثیوں کی جانب سے بچوں کی بھرتی کی تصدیق

جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں ایرانی حکام پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ "انسانی اسمگلنگ کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ایجنسیاں
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک نئی رپورٹ میں ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 12 سال کی عمر کے بچوں کو سکیورٹی اور فوجی سرگرمیوں میں بھرتی کر رہا ہے۔ رپورٹ میں یمن میں حوثی جماعت کے لیے تہران کی حمایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو خود بھی بچوں کو اپنے جنگجوؤں کی صفوں میں بطور سپاہی استعمال کرتی ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور یمن میں کم عمر افراد کی بھرتی پر انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی اسمگلنگ سے متعلق اپنی رپورٹ میں ایران کو بدستور تیسرے درجے میں رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق "تہران انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے مطلوبہ کم از کم معیارات پر پورا نہیں اترتا اور نہ ان معیارات کو پورا کرنے کے لیے خاطر خواہ کوششیں کرتا ہے”۔
جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں ایرانی حکام پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ "انسانی اسمگلنگ کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کے خلاف جواب دہی کے بغیر چشم پوشی کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان کی پالیسی یا طرزِ عمل میں مسلح گروہوں کے لیے بچوں کی جبری بھرتی بھی شامل ہے”۔
رپورٹ میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور باسیج فورس پر ایرانی بچوں کے علاوہ افغانستان، پاکستان اور شام سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکینِ وطن کو بھرتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جن کا استحصال کیے جانے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے گذشتہ مارچ میں بھرتی کی ایک مہم کا اعلان کیا تھا، جس میں بعض سکیورٹی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے کم از کم عمر 12 سال مقرر کی گئی تھی۔ اس اقدام پر بچوں کو فوجی سرگرمیوں سے متعلق کاموں میں شامل کرنے کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں کو مادی مدد فراہم کرتا ہے، جو بچوں کو اپنے جنگجوؤں کی صفوں میں بطور سپاہی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح رپورٹ میں مسلح گروہ کے لیے ایرانی حمایت اور کم عمر افراد کی بھرتی سے متعلق خلاف ورزیوں کے درمیان تعلق کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایرانی حکام پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کی قیادت میں چلائی جانے والی مہم کے تحت 12 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھرتی اور متحرک کرکے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدامات "جنگی جرائم اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آ سکتے ہیں”۔
رواں سال مارچ میں تہران میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے عہدیدار رحیم ناد علی نے "ایران کے لیے وطن کے محافظ” کے نام سے ایک مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مہم کے تحت انہوں نے 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے رضاکاروں سے اپیل کی تھی کہ وہ دار الحکومت کے مختلف علاقوں میں باسیج کے مراکز میں اپنے نام درج کرائیں۔
تاہم تنظیم کے پاس موجود شواہد صرف اس مہم کے اعلان تک محدود نہیں تھے، بلکہ اس نے انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی 16 تصاویر اور وڈیو کلپس کا بھی تجزیہ کیا۔ ان میں بچوں کو ہتھیار اٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا، جن میں AK طرز کی خود کار رائفلیں بھی شامل تھیں۔ بعض تصاویر اور وڈیوز میں بچے پاسدارانِ انقلاب اور دیگر فورسز کے اہل کاروں کے ساتھ چیک پوسٹوں پر، گشت کے دوران اور تہران، مشہد اور کرمان شاہ میں ریاست کے زیرِ اہتمام فوجی اجتماعات میں بھی نظر آئے۔
یمن میں بھی مسلح تنازع کے دوران بچوں کے استحصال کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل انتباہات سامنے آ رہے ہیں۔ حوثی جماعت پر کم عمر بچوں کو بھرتی کرکے جنگی محاذوں پر بھیجنے کے الزامات ہیں۔ یمن کی وزارتِ انسانی حقوق نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کریں اور انہیں بہلا پھسلا کر بھرتی کرنے یا تنازع میں شامل کرنے سے روکیں۔ وزارت نے تصدیق کی کہ بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
اسی طرح جنگی محاذوں سے سامنے آنے والی گردش کرتی وڈیوز میں یمن کی سرکاری افواج کو حوثی جنگجوؤں کو گرفتار کرتے دکھایا گیا ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس صورت حال نے حوثی جماعت کی جانب سے کم عمر افراد کو بھرتی کرنے اور انہیں فوجی جھڑپوں میں شامل کرنے پر انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید کو جنم دیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button