اہم خبریںپاکستان

پاکستان میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد خرچ ہو رہا ہے: کیس لاہور کے گول میز مباحثے میں انکشاف

انسانی سرمایہ خطرے میں، تعلیمی بحران پاکستان کے ترقیاتی مستقبل کے لیے بڑا چیلنج بن گیا، تعلیمی نظام میں اصلاحات، اساتذہ کی تربیت، فنی مہارتوں اور مؤثر حکومتی نظم و نسق پر زور

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور، 7 اکتوبر 2026: سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (کیس)، لاہور کے زیرِ اہتمام ’’انسانی سرمایہ خطرے میں: تعلیم، ریاستی صلاحیت اور پاکستان کا ترقیاتی چیلنج‘‘ کے عنوان سے ایک اہم گول میز مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے پاکستان کے تعلیمی بحران، انسانی سرمایہ کی ترقی، ریاستی صلاحیت اور ملک کے طویل المدتی معاشی و سماجی مستقبل سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

مباحثے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ تعلیم محض اسکولوں میں داخلوں کی تعداد بڑھانے یا تعلیمی اداروں کی دستیابی تک محدود معاملہ نہیں، بلکہ یہ قومی ترقی، معاشی استحکام، سماجی مساوات، افرادی قوت کی استعداد اور ریاستی اداروں کی کارکردگی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ شرکاء کے مطابق پاکستان کو اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے تعلیم کے معیار، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی سرمایہ کاری، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں اور مؤثر پالیسی سازی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

ایک آزاد تھنک ٹینک کے طور پر کیس لاہور باقاعدگی سے علمی نشستوں اور پالیسی مباحثوں کا اہتمام کرتا ہے، جن میں ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق امور کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس نشست میں تعلیم اور انسانی سرمایہ کو پاکستان کی قومی صلاحیت، مستقبل کی افرادی قوت اور پائیدار ترقی کے تناظر میں زیرِ بحث لایا گیا۔

پاکستان کا تعلیمی بحران اور انسانی سرمایہ کو درپیش خطرات

مباحثے کی افتتاحی کارروائی کیس لاہور کی ریسرچ اسسٹنٹ محترمہ فائزہ عابد کے کلمات سے شروع ہوئی۔ انہوں نے نشست کے موضوع اور پاکستان کے ترقیاتی مستقبل کے لیے انسانی سرمایہ کی اہمیت کے تناظر میں گفتگو کا آغاز کیا۔

مباحثے کی مرکزی مقرر لمز اسکول آف ایجوکیشن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ انیس صدیقی نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو درپیش بنیادی مسائل کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ کے درمیان ہے، جبکہ انسانی سرمایہ اشاریے (ہیومن کیپیٹل انڈیکس) کی سطح 0.4 ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 0.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے، جو تعلیمی ضروریات اور انسانی ترقی کے وسیع اہداف کے تناظر میں ایک اہم تشویش کا باعث ہے۔

ڈاکٹر صوفیہ انیس صدیقی نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کا تعلیمی مسئلہ صرف بچوں کو اسکولوں تک پہنچانے تک محدود نہیں، بلکہ تعلیم کے دوران مؤثر سیکھنے، علم کے عملی استعمال اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے حوالے سے بھی گہری کمزوریاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر بچے اسکولوں میں داخل تو ہو جائیں لیکن انہیں معیاری تعلیم، بنیادی فہم اور عملی زندگی میں کام آنے والی مہارتیں حاصل نہ ہوں تو محض داخلوں میں اضافہ انسانی سرمایہ کی مؤثر تشکیل کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی پالیسی کی تشکیل میں اس بنیادی سوال پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں تعلیم کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سے معاشرے، معیشت اور مستقبل کی افرادی قوت کو کیا فائدہ پہنچنا چاہیے۔

انسانی سرمایہ کا محدود تصور ترقی کی راہ میں رکاوٹ

ڈاکٹر صوفیہ انیس صدیقی نے انسانی سرمایہ کے تصور پر محدود توجہ اور تعلیم کے محدود سماجی مقصد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق تعلیم کو صرف ملازمت کے حصول یا معاشی پیداوار میں اضافے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر عمل کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جو انسان کی فکری صلاحیت، سماجی شعور، مسئلہ حل کرنے کی استعداد اور بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی قابلیت کو بھی فروغ دے۔

انہوں نے اساتذہ اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم سے وابستہ راستوں کو معاشرے میں مناسب اہمیت نہ ملنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان انسانی سرمایہ کی مکمل استعداد سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کے مختلف راستوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور طلبہ کو ان کی دلچسپی، صلاحیت اور معاشی ضروریات کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

ڈاکٹر صوفیہ انیس صدیقی نے ابلاغ، موافقت پذیری اور ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی کو بھی ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق جدید دور میں صرف روایتی نصابی علم کافی نہیں، بلکہ طلبہ کو ایسی صلاحیتوں سے بھی آراستہ کرنا ضروری ہے جو انہیں ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے ماحول، روزگار کی نئی صورتوں اور معاشی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دے سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو تعلیم کا ایسا جامع تصور اپنانا چاہیے جو ملک کی آبادیاتی ساخت، سماجی حالات، معاشی ضروریات اور تکنیکی تبدیلیوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی نظام کو موجودہ ضروریات کے ساتھ ساتھ مستقبل کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔

مؤثر تعلیمی نظم و نسق انسانی سرمایہ سازی کی بنیاد قرار

چیف ایگزیکٹو ایڈوائزر، اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ سندھ، ڈاکٹر فوزیہ خان نے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں طویل المدتی انسانی سرمایہ کی تشکیل کے لیے مؤثر تعلیمی نظم و نسق کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے انسانی سرمایہ کی ترقی کو ایک مسلسل تعلیمی عمل قرار دیا، جس کے چار باہم مربوط مراحل ہیں: داخلہ، تسلسل، پیش رفت اور سیکھنا۔ ان کے مطابق ان چاروں مراحل کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ بچوں کا اسکول میں داخلہ، ان کی تعلیم جاری رہنے کی صلاحیت، تعلیمی مراحل میں ان کی ترقی اور حقیقی طور پر علم حاصل کرنا ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر فوزیہ خان کے مطابق کسی بھی مؤثر تعلیمی نظام کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کے ساتھ ساتھ ان کی حاضری، تعلیم جاری رکھنے، تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے پر بھی مسلسل توجہ دی جائے۔ اگر ان میں سے کسی مرحلے پر کمزوری موجود ہو تو پورے تعلیمی عمل کی افادیت متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اصلاحات کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلہ سازی، اساتذہ کے پیشہ ورانہ انتظام، مناسب وسائل کی فراہمی اور مقامی کمیونٹیز کی بامعنی شمولیت ضروری ہے۔

شواہد پر مبنی پالیسیاں اور پائیدار اصلاحات ناگزیر

ڈاکٹر فوزیہ خان نے کہا کہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں حکومتی ڈھانچوں، واضح ذمہ داریوں، شواہد پر مبنی نفاذ اور مربوط شراکت داریوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔

ان کے مطابق محض نئی پالیسیاں متعارف کرانا یا اصلاحاتی اعلانات کرنا کافی نہیں، بلکہ ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد، کارکردگی کی نگرانی اور نتائج کا باقاعدہ جائزہ لینا بھی ناگزیر ہے۔ تعلیمی نظام میں بہتری اسی وقت ممکن ہے جب پالیسی سازی اور عملی نفاذ کے درمیان مضبوط رابطہ قائم ہو اور دستیاب وسائل کو حقیقی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے۔

انہوں نے اساتذہ کے پیشہ ورانہ انتظام اور استعداد میں اضافے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اساتذہ کی تربیت، ان کی پیشہ ورانہ معاونت اور تعلیمی اداروں میں مؤثر انتظامی نظام بچوں کے سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فوزیہ خان نے کمیونٹی کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے والدین، مقامی آبادی، تعلیمی اداروں اور حکومتی محکموں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اس طرح بچوں کو معیاری تعلیم اور وہ علم حاصل کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں جو پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں ان کے مؤثر کردار کے لیے ضروری ہے۔

تعلیم کو معاشی ترقی اور ریاستی صلاحیت سے جوڑنے کی ضرورت

گول میز مباحثے کا ایک اہم پہلو تعلیم اور ریاستی صلاحیت کے درمیان تعلق تھا۔ شرکاء کی گفتگو سے یہ نکتہ سامنے آیا کہ انسانی سرمایہ کی کمزور تشکیل صرف تعلیمی شعبے کا مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ اس کے اثرات ملک کی پیداواری صلاحیت، افرادی قوت کے معیار، ادارہ جاتی کارکردگی اور طویل المدتی ترقی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

معیاری تعلیم نوجوانوں کو روزگار کے لیے ضروری علم اور مہارتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بدلتی ہوئی معاشی صورتِ حال سے نمٹنے کے قابل بھی بناتی ہے۔ اس کے برعکس، جب تعلیم کے دوران بنیادی فہم، جدید مہارتوں اور عملی تربیت پر مناسب توجہ نہ دی جائے تو تعلیم اور روزگار کی منڈی کے درمیان خلا پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

مباحثے میں زیرِ بحث آنے والے نکات کی روشنی میں تعلیمی منصوبہ بندی کو ملک کی مستقبل کی افرادی قوت کی ضروریات، تکنیکی تبدیلیوں اور معاشی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت بھی نمایاں ہوئی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں، پالیسی سازوں، اساتذہ اور متعلقہ شعبوں کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جائے، تاکہ تعلیمی نظام سے حاصل ہونے والی صلاحیتیں قومی ترقی کے اہداف میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

صنفی، جغرافیائی اور معاشی عدم مساوات کے خاتمے پر زور

اختتامی کلمات میں کیس لاہور کے صدر ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے تعلیم کو پاکستان کے انسانی سرمایہ، سماجی ترقی اور معاشی مستقبل کی بنیادی اساس قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صرف اسکولوں تک رسائی بڑھانا کافی نہیں، بلکہ سیکھنے کے معیار کو بہتر بنانا اور ان اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی ضروری ہے جو تعلیم کی فراہمی اور اس کے نتائج کے ذمہ دار ہیں۔

ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے خصوصاً صنف، جغرافیے اور آمدنی کی بنیاد پر تعلیم تک رسائی اور تعلیمی نتائج میں پائی جانے والی دیرینہ عدم مساوات کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق تعلیمی ترقی کے ثمرات اس وقت تک پوری آبادی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک مختلف سماجی اور معاشی پس منظر رکھنے والے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے مواقع کو بہتر نہ بنایا جائے۔

انہوں نے اس بات کی اہمیت بھی اجاگر کی کہ تعلیم کو مہارتوں، روزگار، سماجی تحفظ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ ان کے مطابق مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام وہی ہوگا جو طلبہ کو صرف امتحانات میں کامیابی کے لیے تیار نہ کرے، بلکہ انہیں عملی زندگی، روزگار، معاشی سرگرمیوں اور معاشرتی ذمہ داریوں کے لیے بھی مؤثر طور پر تیار کرے۔

تعلیمی اصلاحات کے لیے تین اہم ترجیحات

کیس لاہور کے صدر نے پاکستان میں تعلیم اور انسانی سرمایہ کی ترقی کے لیے تین بنیادی ترجیحات پیش کیں۔

پہلی ترجیح: تعلیمی نتائج میں بہتری

ان کے مطابق بچوں کے اسکولوں میں داخلے کے ساتھ ساتھ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ معیاری تعلیم حاصل کریں، بنیادی تصورات کو سمجھیں اور عملی زندگی میں استعمال ہونے والی صلاحیتیں پیدا کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے تدریسی معیار، اساتذہ کی استعداد اور سیکھنے کے عمل کی مؤثر نگرانی پر توجہ دینا ہوگی۔

دوسری ترجیح: تعلیمی سرمایہ کاری کو بہتر نتائج میں تبدیل کرنا

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم کے لیے مختص وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ مالی سرمایہ کاری کے نتیجے میں حقیقی تعلیمی بہتری سامنے آئے۔ اس کے لیے منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، ادارہ جاتی کارکردگی اور نتائج پر مبنی نگرانی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

تیسری ترجیح: تعلیم کو طویل المدتی انسانی سرمایہ حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کرنا

ان کے مطابق تعلیم کو پاکستان کی مجموعی ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے، جس میں مہارتوں کی تشکیل، روزگار کے مواقع، سماجی ترقی اور نئی ٹیکنالوجیز سے مطابقت کو مناسب اہمیت حاصل ہو۔ اس حکمتِ عملی کی کامیابی کے لیے پالیسی کا تسلسل اور متعلقہ اداروں کا مستقل عزم ناگزیر ہے۔

ان ترجیحات کے ذریعے تعلیم کو ایک محدود شعبہ جاتی معاملے کے بجائے قومی ترقی، معاشی استعداد اور مستقبل کی ریاستی صلاحیت کی تعمیر کے بنیادی وسیلے کے طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔

اساتذہ کی تربیت، ہوم اسکولنگ اور تعلیمی معیار پر سوال و جواب

تقریب کا اختتام ایک جاندار سوال و جواب کی نشست پر ہوا، جس میں شرکاء نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو درپیش مختلف عملی، مالی اور انتظامی مسائل پر گفتگو کی۔

نشست کے دوران اساتذہ کی تربیت، ہوم اسکولنگ، تعلیمی معیار اور بچوں کے سیکھنے کے عمل سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔ شرکاء نے ان ڈھانچہ جاتی اور مالی مسائل پر بھی تبادلۂ خیال کیا جو تعلیمی اصلاحات کے نفاذ اور ان کے تسلسل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

سوال و جواب کی نشست نے شرکاء کو تعلیمی پالیسی کے مختلف پہلوؤں، تدریسی طریقوں، ادارہ جاتی انتظام اور تعلیمی وسائل کے استعمال سے متعلق اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ گفتگو میں اس امر کی اہمیت نمایاں رہی کہ تعلیمی مسائل کا مؤثر حل تلاش کرنے کے لیے زمینی حقائق، دستیاب وسائل اور مختلف سماجی طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

شرکاء نے کیس لاہور کی جانب سے ایک اہم قومی موضوع پر علمی اور فکر انگیز مباحثے کے انعقاد کو سراہا اور اس نوعیت کی نشستوں کو پالیسی سازی، تحقیق اور تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے مفید قرار دیا۔

پاکستان کے مستقبل کے لیے انسانی سرمایہ میں سرمایہ کاری ناگزیر

گول میز مباحثے کا مجموعی پیغام یہ تھا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے تعلیم کو قومی ترجیحات میں مرکزی مقام دینا ہوگا۔ اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد، تعلیم کے لیے محدود مالی وسائل، سیکھنے کے معیار سے متعلق مسائل اور جدید مہارتوں کی ضرورت ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی درکار ہے۔

ماہرین کی گفتگو سے یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ تعلیمی اصلاحات کی کامیابی صرف پالیسیوں کے اعلان سے ممکن نہیں، بلکہ ان کے مستقل نفاذ، مؤثر نگرانی، اساتذہ کی تربیت، مناسب وسائل اور ادارہ جاتی تعاون پر منحصر ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کو محض اخراجات کے ایک شعبے کے بجائے انسانی صلاحیت، معاشی ترقی اور سماجی استحکام میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھے۔ معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور مساوی مواقع کی فراہمی کے ذریعے ہی ایک ایسی افرادی قوت تیار کی جا سکتی ہے جو مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

کیس لاہور کے اس مباحثے نے تعلیم، ریاستی صلاحیت اور انسانی سرمایہ کے باہمی تعلق کو نمایاں کرتے ہوئے اس ضرورت پر توجہ دلائی کہ پاکستان کی ترقیاتی حکمتِ عملی میں تعلیمی نتائج، ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسی کے تسلسل کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button