بین الاقوامیاہم خبریں

ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا پھر دوٹوک اعلان

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون نے ایران پر حملے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے مختلف آپشنز رکھ دیے ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ریاض : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
ٹرمپ نے جمعے کو نیویارک کی ریاست کے شہر سیراکیوز میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تہران کو اس وقت بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے ساتھ ’’مثبت بات چیت‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم انہوں نے نومبر میں امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر ایک اور حملہ کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا کہ ہم ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں سب پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایران کو معاشی اور عسکری طور پر انتہائی خراب صورت حال کا سامنا ہے، جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی پوری شدت کے ساتھ برقرار رہے گی۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون نے ایران پر حملے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے مختلف آپشنز رکھ دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان آپشنز میں نومبر کے انتخابات سے قبل ایران کے ٹھکانوں پر محدود اور ہدفی حملے کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ذرائع نے اشارہ دیا کہ موجودہ منصوبے میں تقریباً 3 روز تک جاری رہنے والی مختصر مگر شدید فوجی کارروائی شامل ہو سکتی ہے، جس میں ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے جنگ کے ابتدائی مراحل کے بعد ان ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ دوبارہ تیار کر لیا ہے۔ممکنہ اہداف کی فہرست میں ایران کی توانائی کی تنصیبات اور پاسداران انقلاب کے کمانڈ مراکز بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ وہ دھمکیوں اور دباؤ سے دور رہتے ہوئے رعایتیں دینے کے بجائے بالواسطہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ایرانی حکام نے اس کے ساتھ ہی زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کا دفاع کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button