کاروبارتازہ ترین

کراچی میں مائیکروفنانس کانفرنس، مالی شمولیت کے فروغ پر زور

کانفرنس میں مالیاتی خدمات تک رسائی سے آگے بڑھ کر صارفین کی معاشی ترقی، مالی استحکام اور قابلِ پیمائش نتائج کے حصول پر توجہ دی گئی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

احسان احمد-ادارت
پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک (پی ایم این) کی 10ویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس کراچی میں اختتام پذیر ہوگئی، جس میں حکومتی عہدیداروں، مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز، ترقیاتی شراکت داروں اور ماہرین نے مالی شمولیت کے فروغ کے لیے آئندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔
کانفرنس اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (یونیڈو) کے تعاون سے یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری پروگرام ’پیڈار‘ کے تحت منعقد کی گئی۔ اس کا موضوع ’’جامع ترقی کی راہیں: مشترکہ مواقع سے استفادہ‘‘ تھا۔
کانفرنس میں مالیاتی خدمات تک رسائی سے آگے بڑھ کر صارفین کی معاشی ترقی، مالی استحکام اور قابلِ پیمائش نتائج کے حصول پر توجہ دی گئی، بالخصوص خواتین، کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور دیہی علاقوں کی محروم آبادی کے لیے مالی سہولیات بڑھانے پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس مرحلے پر مالی شمولیت کا فروغ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی فراہمی میں اثاثوں کو ضمانت بنانے کے بجائے قرض لینے والوں کی آمدن اور نقد بہاؤ کو بنیاد بنایا جائے۔
انہوں نے زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں تک مالی سہولیات پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل قرضوں اور متبادل ڈیٹا کے استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق مائیکروفنانس کی کامیابی صرف قرضوں کی تعداد یا حجم سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ناپی جانی چاہیے کہ قرض لینے والوں کی معاشی حالت میں کتنا بہتری آئی، کتنے روزگار پیدا ہوئے اور خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کس حد تک بڑھی۔
کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے پی ایم این کے چیئرمین اور ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو افسر عامر خان نے کہا کہ مائیکروفنانس کو الگ نظام کے طور پر چلانے کے بجائے وسیع تر مالیاتی نظام کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مائیکروفنانس کے شعبے کی آئندہ دہائی کی کامیابی کا جائزہ صرف مستفید ہونے والے افراد کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بنیاد پر بھی لیا جانا چاہیے کہ صارفین اپنے کاروبار کو کس حد تک وسعت دیتے ہیں، اثاثے بناتے ہیں اور مالی خودمختاری حاصل کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button