
پاکستان میں نئے صوبے کیوں ؟……..پیر مشتاق رضوی
پاکستان میں نئے صوبوں کے بڑے مطالبات کو دیکھا جائے تو سب سے توانا آواز جنوبی پنجاب صوبے کی ہے۔ اس کا مطالبہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر مشتمل ہے
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا نعرہ نہیں بلکہ ملکی تاریخ کے ساتھ جڑا ایک پرانا، حساس اور مسلسل زیر بحث موضوع ہے۔ یہ مطالبہ محض انتظامی تقسیم کا سوال نہیں بلکہ اس کے پیچھے علاقائی شناخت، محرومی کا احساس، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سیاسی نمائندگی جیسے گہرے عوامل کارفرما ہیں۔اگر ہم تاریخی پس منظر پر نظر ڈالیں تو پاکستان کو 1947ء میں برطانوی ہندوستان سے ایک بکھرا ہوا انتظامی ڈھانچہ ورثے میں ملا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے جغرافیائی و سیاسی حالات بالکل مختلف تھے۔ اسی عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے 1955ء میں ون یونٹ اسکیم نافذ کی گئی جس میں مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ملا کر ایک یونٹ بنا دیا گیا۔ اگرچہ اس کا مقصد انتظامی یکجہتی تھا لیکن اس نے لسانی اور علاقائی گروہوں میں شدید بے چینی پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں 1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ کرنا پڑا اور پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔ 1973ءکے آئین نے وفاقی پارلیمانی نظام کو مضبوط کیا اور صوبوں کے اختیارات متعین کیے، جبکہ 2010ءکی اٹھارویں ترمیم نے صوبائی خودمختاری کو تو بے پناہ بڑھا دیا لیکن کوئی نیا صوبہ قائم نہ کر سکی۔ آج بھی جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور کراچی جیسے مطالبات اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے بڑے مطالبات کو دیکھا جائے تو سب سے توانا آواز جنوبی پنجاب صوبے کی ہے۔ اس کا مطالبہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر مشتمل ہے۔ اس کے حامیوں کا موقف ہے کہ لاہور سے انتظامی دوری، ترقیاتی فنڈز کی غیر مساوی تقسیم اور سرائیکی شناخت کا تحفظ اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اسی طرح بہاولپور صوبے کی بحالی کا مطالبہ تاریخی شناخت پر مبنی ہے کیونکہ بہاولپور 1955ء سے پہلے ایک خودمختار ریاست اور پھر صوبے کی حیثیت رکھتا تھا۔ ہزارہ صوبے کا مطالبہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن کے عوام کی لسانی و ثقافتی شناخت اور 2010 ءمیں صوبے کا نام تبدیل ہونے کے بعد پیدا ہونے والے تحفظات سے جڑا ہے۔ جبکہ کراچی یا شہری سندھ صوبے کی تجویز سب سے زیادہ متنازعہ ہے، جسے بعض سیاسی گروہ شہری حکمرانی اور میونسپل مسائل کے حل کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن بڑی سیاسی جماعتیں اسے سندھ کی تقسیم تصور کر کے مسترد کر دیتی ہیں۔
آئینی لحاظ سے نئے صوبے کا قیام کوئی آسان عمل نہیں۔ آئین کا آرٹیکل ون ملک کے علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 239 اس کا اصل دروازہ ہے۔ کسی بھی نئے صوبے کے لیے آئینی ترمیمی بل پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں پیش ہو سکتا ہے لیکن اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں کل اراکین کی دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی رکاوٹ آرٹیکل 239(4) ہے جس کے تحت جس صوبے کو تقسیم کیا جا رہا ہے اس کی صوبائی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت سے منظوری لینا لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آرٹیکل 51، 59، 106 اور 160 کے تحت قومی اسمبلی کی نشستوں، سینیٹ کی تشکیل، نئی صوبائی اسمبلی اور قومی مالیاتی کمیشن (NFC) میں وسائل کی تقسیم پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ یعنی صرف قرارداد یا سیاسی اعلان سے صوبہ نہیں بن سکتا، اس کے لیے وسیع قومی اتفاق رائے درکار ہے۔نئے صوبوں کے حق میں جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ کافی وزنی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چھوٹے صوبے بننے سے عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلہ کم ہوگا، گورننس بہتر ہوگی اور دور دراز علاقوں کی محرومی ختم ہوگی۔ صوبائی حکومت مقامی سطح پر تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر زیادہ توجہ دے سکے گی۔ اس سے پسماندہ علاقوں کو اپنا بجٹ اور منصوبہ بندی کا اختیار ملے گا اور علاقائی شناختوں کو آئینی تحفظ ملے گا۔ وفاقیت زیادہ متوازن ہوگی اور ایک ہی صوبے میں آبادی اور سیاسی طاقت کا ارتکاز کم ہو جائے گا۔ قدرتی آفات کے وقت مقامی فیصلہ سازی سے امدادی کارروائیاں تیز ہوں گی اور عوام اپنے نمائندوں کو براہ راست جوابدہ بنا سکیں گے۔دوسری طرف اس کے خلاف بھی مضبوط دلائل موجود ہیں۔ ہر نیا صوبہ بنانے کا مطلب ہے نئی اسمبلی، گورنر ہاؤس، سیکرٹریٹس، محکمے اور عدالتی نظام، جس سے انتظامی اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اگر صوبے لسانی بنیادوں پر بنے تو یہ نسلی و لسانی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں اور ایک صوبے کے بعد دوسرے صوبے کا مطالبہ زور پکڑ لے گا، جس سے وفاق کمزور ہوگا۔ پانی، بجلی، گیس، ریونیو اور سرکاری اثاثوں کی تقسیم پر نئے جھگڑے جنم لیں گے۔ بہت سے مجوزہ صوبے ابتدائی طور پر اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوں گے اور وفاق سے NFC کے ذریعے مزید فنڈز کے محتاج ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ کہ صرف نیا صوبہ بنا دینے سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر گورننس خود بخود بہتر نہیں ہو جاتی اگر مقامی حکومتی نظام کمزور رہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی جماعتیں اس کارڈ کو صرف انتخابی مہم کے لیے استعمال کرتی ہیں۔اس کے متوازن حل کے سلسلے ماہرین ایک مرحلہ وار اور شواہد پر مبنی نقطہ نظر کی تجویز دیتے ہیں۔ پہلا قدم ایک جامع قومی مکالمہ ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں، صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور متاثرہ علاقوں کو شامل کیا جائے۔ دوسرا، کسی بھی فیصلے سے پہلے انتظامی، مالی اور سماجی اثرات پر تفصیلی تحقیق کی جائے۔ تیسرا، وفاقیت کو مضبوط بناتے ہوئے موجودہ صوبوں کے اندر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔ چوتھا، فوری طور پر نیا صوبہ بنانے کے بجائے علاقائی کونسلوں، خصوصی ترقیاتی پیکجز اور انتظامی اصلاحات سے آغاز کیا جائے۔ اور پانچواں، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے NFC کو مزید فعال اور شفاف بنایا جائے۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں نئے صوبے بنانا ناگزیر ہو چکا ہے؟ میری رائے میں اس کا جواب ہاں اور نہ دونوں میں ہے۔ جی ہاں انتظامی لحاظ سے ناگزیر: ہے پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایک پنجاب کی آبادی کئی یورپی ممالک سے زیادہ ہے۔ اتنے بڑے صوبے کو لاہور سے چلانا عملاً ممکن نہیں۔ راجن پور یا رحیم یار خان کے شہری کو اپنے جائز کام کے لیے 600 کلومیٹر دور لاہور جانا پڑتا ہے۔ اس لحاظ سے جنوبی پنجاب جیسے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت بن چکا ہے، یہ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ گورننس کی مجبوری ہے۔ لیکن سیاسی و آئینی لحاظ سے انتہائی مشکل بھی ہے ناگزیر ہونے کے باوجود فی الحال اس کا قیام آسان نہیں۔ آئین میں دو تہائی اکثریت کی شرط اور متاثرہ صوبائی اسمبلی کی منظوری ایک ایسا سیاسی پہاڑ ہے جسے عبور کرنے کے لیے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور دیگر تمام بڑی جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے، جو موجودہ تقسیم شدہ سیاست میں تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔
نئے صوبے جذبات سے نہیں بلکہ تدبر سے بنیں گے۔ فوری طور پر ایک یا دو نئے صوبوں کا اعلان ملک میں نیا بحران پیدا کر سکتا ہے۔ بہترین راستہ یہ ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب کو بطور انتظامی و مالیاتی خودمختار سیکرٹریٹ کے طور پر مکمل فعال کیا جائے، بہاولپور اور ہزارہ کے لیے خصوصی ترقیاتی اتھارٹیز بنائی جائیں اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔ جب یہ تجربات کامیاب ہو جائیں اور عوامی اعتماد بحال ہو جائے تو پھر آئینی ترمیم کے ذریعے باقاعدہ صوبوں کی طرف بڑھا جائے۔نئے صوبے اگر قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے، محرومی ختم کرنے اور عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف دینے کے لیے بنائے گئے تو یہ ملک کے لیے نیک شگون ہوگا، لیکن اگر یہ صرف لسانی بنیادوں پر اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بنائے گئے تو یہ وفاق کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔


