علی عباس کاظمیکالمز

بے حس تماشائی……. علی عباس کاظمی

کسی کے انتقال کی اطلاع ملتی ہے تو افسوس کرتے ہیں، جنازے میں شریک ہوتے ہیں اور واپسی پر پھر اسی رفتار سے زندگی میں لگ جاتے ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

جنازے میں ایک عجیب بات ہوتی ہے۔ ایک شخص دنیا سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے، مگر دنیا اپنے معمول کے مطابق چل رہی ہوتی ہے۔ میت سامنے رکھی ہے، لوگ جمع ہیں، کچھ چہرے غم زدہ ہیں، کچھ سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ذرا غور کیجیے تو کوئی موبائل پر پیغامات پڑھ رہا ہے، کوئی سیاست کے پیچ و خم سلجھا رہا ہے، کوئی کاروباری معاملات طے کر رہا ہے اور کوئی مدت بعد ملنے والے دوست سے خوش گپیوں میں مصروف ہے۔ موبائل فون نے ہماری زندگی کو سہولتیں تو بہت دی ہیں، مگر اس نے ہماری توجہ کو بھی عجیب طرح تقسیم کر دیا ہے۔ ہم کسی کے پاس بیٹھے ہوں تو آدھی توجہ اس کے پاس اور آدھی اسکرین پر ہوتی ہے۔ کوئی بات کر رہا ہو تو ہم سنتے کم اور پیغام زیادہ پڑھتے ہیں۔ انتظار کے چند لمحے بھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑتے، کیونکہ ہم فوراً موبائل نکال لیتے ہیں۔ شاید ہم خاموشی سے گھبرانے لگے ہیں۔ خاموشی میں آدمی کو اپنے خیالات سنائی دیتے ہیں، اپنے فیصلے یاد آتے ہیں اور بعض اوقات اپنے اندر چھپی ہوئی وہ باتیں بھی سامنے آ جاتی ہیں جن سے بچنے کے لیے ہم دن بھر مصروف رہتے ہیں۔ جنازے کی خاموشی بھی کچھ ایسا ہی تقاضا کرتی ہے، مگر ہم وہاں بھی اپنے ذہن کو مصروف رکھنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
موت کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ زندگی کا آخری پڑاؤ ہے، لیکن اس طرح رہتے ہیں جیسے یہ خبر صرف دوسروں کے لیے ہو۔ کسی کے انتقال کی اطلاع ملتی ہے تو افسوس کرتے ہیں، جنازے میں شریک ہوتے ہیں اور واپسی پر پھر اسی رفتار سے زندگی میں لگ جاتے ہیں۔ یہ سب فطری بھی ہے، کیونکہ دنیا کے کام رکتے نہیں۔۔۔ لیکن کیا موت کا مشاہدہ ہمارے اندر ایک لمحے کے لیے بھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا؟ کیا کسی اپنے یا غیر کی رخصتی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتی کہ ہم اپنی زندگی میں کیا کر رہے ہیں، کن باتوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں اور کن ضروری کاموں کو مسلسل کل پر چھوڑ رہے ہیں؟ ہم جنازے میں شریک تو ہوتے ہیں، مگر موت کی حقیقت سے لاتعلق رہتے ہیں۔جنازے کے موقع پر مذہبی معمولات کے حوالے سے بھی بات سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن کسی عمل کو محض رواج کی بنیاد پر دینی عبادت سمجھنا درست نہیں۔ ایسے معاملات میں معتبر علما کی رہنمائی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ تاہم، اگر کسی مخصوص طریقے کو شرعی طور پر ثابت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنازے کے موقع پر خاموشی، دعا اور آخرت کی فکر کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کرنا، اہلِ خانہ سے تعزیت کرنا اور موت سے عبرت حاصل کرنا اپنی الگ اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک غیر ثابت شدہ رسم سے بچنا دینی احتیاط ہے، لیکن اس موقع کو موبائل، غیر ضروری گفتگو اور ہنسی مذاق میں گزار دینا الگ معاملہ ہے۔غلط رسم کو چھوڑنا ضروری ہو سکتا ہے، مگر اس کی جگہ بے حسی اختیار کرنا کسی بھی طرح اصلاح نہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک دلچسپ تضاد بھی ہے۔ ہم آداب کی باتیں بہت کرتے ہیں، لیکن موقع کی مناسبت سے اپنے رویے کو بدلنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔ کسی کے گھر خوشی ہو تو ہم مبارک باد دینے پہنچ جاتے ہیں، کسی کے گھر غم ہو تو تعزیت کے لیے بھی حاضر ہوتے ہیں۔ مگر دونوں مواقع پر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری موجودگی کا ایک مقصد بھی ہے۔ غم زدہ خاندان کو ہماری لمبی گفتگو نہیں، کبھی کبھی صرف خاموش ہمدردی درکار ہوتی ہے۔ کسی کے دکھ کے وقت اس کی بات سن لینا، اس کے پاس خاموشی سے بیٹھ جانا یا اس کے کسی کام آ جانا بھی تعزیت ہے۔ ہر دکھ کا علاج الفاظ نہیں ہوتے، بعض اوقات باوقار خاموشی ہزار جملوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ جنازے میں موجود ہر شخص کے چہرے پر اداسی لکھی ہو۔ انسانی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں، بعض لوگ غم کو خاموشی سے برداشت کرتے ہیں، بعض گفتگو کے ذریعے اپنے آپ کو سنبھالتے ہیں۔ اس لیے ہر مسکراہٹ کو بے حسی اور ہر گفتگو کو بے ادبی قرار دینا بھی درست نہیں۔ لیکن اس رعایت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم موقع کی نزاکت ہی بھول جائیں۔ انسانی شرافت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش اور عادت کو حالات کے مطابق قابو میں رکھ سکے۔ ہر جگہ ایک جیسا برتاؤ کرنا بے تکلفی نہیں، کبھی کبھی دوسروں کے احساسات سے بے خبری بھی ہوتا ہے۔
جنازے میں شرکت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے تعلقات یاد آتے ہیں۔ وہ سوچ سکتا ہے کہ جن لوگوں سے ناراض ہے، کیا ان سے صلح کرنے کا وقت نہیں آ گیا؟ جن کے حقوق اس کے ذمے ہیں، کیا انہیں ادا نہیں کرنا چاہیے؟ جن رشتوں کو مصروفیات کی نذر کر دیا ہے، کیا ان کی خبر گیری ضروری نہیں؟ مرحوم کے لیے دعا کرنا اچھی بات ہے، مگر زندہ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک بھی کم اہم نہیں۔ ہم اکثر کسی کے جانے کے بعد اس کی خوبیاں بیان کرتے ہیں، حالاں کہ ان خوبیوں کی قدر اس کی زندگی میں بھی کی جا سکتی تھی۔ جانے والے کے لیے چند تعریفی جملے کہنے سے بہتر یہ ہے کہ زندہ انسانوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں کہ انہیں اپنی قدر کا احساس ان کی زندگی ہی میں ہو۔ جنازے میں لوگ تھوڑی دیر کے لیے جمع ہوتے ہیں، مگر وہاں سے زندگی کا بڑا سبق لے کر لوٹ سکتے ہیں۔ وہاں کھڑے ہو کر آدمی کو دوسروں کی زندگی کا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی زندگی پر نظر ڈالنی چاہیے۔ ممکن ہے ہم بھی کسی کے جنازے میں موبائل دیکھتے ہوئے اس بات سے بے خبر ہوں کہ وقت ہمیں بھی اسی سمت لے جا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ابھی ہم دیکھنے والوں میں شامل ہیں، ایک دن دیکھے جانے والوں میں ہوں گے۔اب تو نمازِ جنازہ سے پہلے بھی یاد دہانی کرانا پڑتی ہے کہ موبائل فون بند کر دیں،جنازے میں چند لمحے موبائل سے بے نیاز ہو کر گزاریے۔ سوگواروں کے پاس بیٹھئے، مرحوم کے لیے دعا کیجیے اور اس حقیقت پر غور کیجیے کہ زندگی کی مہلت کتنی مختصر اور ہماری مصروفیات کتنی بے شمار ہیں۔ زندگی کی سب سے بڑی بے خبری شاید یہ نہیں کہ انسان موت کو بھول جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ موت کو سامنے دیکھ کر بھی اپنی زندگی پر غور نہیں کرتا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button