
سید عاطف ندیم-ادارت
پشاور: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے وسائل کا ایک ایک پیسہ ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں فوری دور کی جائیں گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق صوبے کو تمام ضروری وسائل فراہم کرے گا، جبکہ قبائلی عوام کے حقوق، انصاف کی فراہمی اور پائیدار امن کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی عمائدین اور عوام نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ مشکلات، بدامنی اور گہرے زخموں کے باوجود قبائلی عوام کی پاکستان سے وابستگی میں کبھی کمی نہیں آئی، اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل اور قبائلی مشران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں، سکیورٹی کی صورتحال، پولیس کی کارکردگی، دہشت گردی کے تدارک، گندم کی دستیابی، قبائلی اضلاع کے مسائل اور عوامی وسائل کے شفاف استعمال سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی کابینہ کے اراکین بھی موجود تھے۔
خیبر پختونخوا کی ترقی کے لیے 160 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل انتظامی اور دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات جلد حاصل ہو سکیں۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد محض وسائل خرچ کرنا نہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانا ہے۔ عوامی فنڈز کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا اور اس بات پر خصوصی توجہ دی جائے گی کہ ترقیاتی سرگرمیوں کے ثمرات صوبے کے دور دراز علاقوں، بالخصوص قبائلی اضلاع تک پہنچیں۔
خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع گزشتہ برسوں کے دوران بدامنی، دہشت گردی، نقل مکانی اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل سے متاثر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، سڑکوں، پانی، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی علاقے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔
قبائلی عوام کی قربانیاں قابلِ تحسین، قومی ترقی میں بھرپور کردار کا اعتراف
وزیراعظم شہباز شریف نے قبائلی عمائدین کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام نے مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان کا ساتھ دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں کے لوگوں نے بھاری قیمت ادا کی، لیکن ملک سے اپنی وابستگی اور وفاداری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے گہرے زخم برداشت کیے اور مختلف مشکلات کا سامنا کیا، تاہم ان کی قومی وابستگی ہمیشہ مضبوط رہی۔ حکومت ان کی قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے اور ان علاقوں میں ترقی، امن، انصاف اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
وزیراعظم کے مطابق قبائلی اضلاع کی ترقی قومی ذمہ داری ہے اور ان علاقوں کے عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی سہولتوں اور انصاف تک مؤثر رسائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے مقامی عمائدین، منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون ضروری ہے، تاکہ ترقیاتی ترجیحات کا تعین زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کے مطابق کیا جا سکے۔
40 منتخب ارکان پر مشتمل قبائلی کونسل کو بااختیار بنانے کا عزم
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 40 منتخب ارکان پر مشتمل قبائلی کونسل کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکومت اس کونسل کو مکمل طور پر بااختیار بنانے اور قبائلی علاقوں میں ترقیاتی امور کی بہتری کے لیے معاونت فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی کونسل کو عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی اور مقامی ضروریات کی ترجیحات کے تعین میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کونسل اور متعلقہ حکومتی اداروں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں اور انصاف کی فراہمی کے لیے بھرپور معاونت کی جائے گی۔ قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دن رات محنت کرے گی، جبکہ مقامی نمائندوں اور عمائدین کو بھی چاہیے کہ وہ عوامی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے فرائض ادا کریں۔
سیاسی اور انتظامی سطح پر قبائلی کونسل کو مؤثر بنانے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مقامی نمائندے اپنے علاقوں کے مسائل سے براہ راست آگاہ ہوتے ہیں۔ ان کی شمولیت سے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، وسائل کی تقسیم اور عوامی ضروریات کے مطابق ترجیحات مرتب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی تعاون، سی ٹی ڈی کو مؤثر بنانے کی ہدایت
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے وفاقی حکومت تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی۔ انہوں نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی اور صوبے میں سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بہتری اور عوام کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانا، ضروری وسائل کی فراہمی اور کارروائیوں میں رابطے کو بہتر بنانا اہم اقدامات ہیں۔
انہوں نے صوبے میں سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل کی بھی ہدایت کی۔ سیف سٹی منصوبوں کے تحت نگرانی کے جدید نظام، کیمروں، کنٹرول رومز اور دیگر تکنیکی سہولتوں کے ذریعے شہری علاقوں کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے جرائم کی روک تھام، مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی اور واقعات کے بعد تفتیشی عمل کو تقویت دینے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے سکیورٹی کے معاملات کو محض قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے انتظامی بہتری اور عوامی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ ان کے مطابق صوبے میں پائیدار امن کے لیے مؤثر سکیورٹی انتظامات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں اور عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت صوبے کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ضرورت کے مطابق ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے اور جرائم کے فوری تدارک کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں پولیس کی کارکردگی اور مجموعی سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران سکیورٹی آپریشنز اور پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے خامیاں سامنے آئی ہیں، جن کا جائزہ لے کر اصلاحی اقدامات کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چوری اور ڈکیتی کے واقعات پر فوری کارروائی کی جائے اور ملزمان کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم کے مطابق عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور پولیس کو شہریوں کی شکایات پر بروقت ردعمل دینا چاہیے۔ جرائم کی روک تھام، مقدمات کی مؤثر تفتیش اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی سے عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خطرات کے ساتھ عام جرائم کی روک تھام بھی ایک اہم انتظامی چیلنج ہے۔ اس تناظر میں پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت، تفتیشی صلاحیتوں میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور ادارہ جاتی نگرانی امن و امان کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے سکیورٹی اور پولیس سے متعلق معاملات میں مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کو درپیش مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ذمہ داریاں پوری کرنے میں غفلت سے گریز کیا جائے۔
گندم کی قلت دور کرنے کے لیے وفاقی تعاون، ذخیرہ اندوزی کے خلاف ہدایت
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گندم کی دستیابی اور ممکنہ قلت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے میں گندم کی قلت دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہونی چاہیے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وفاق کی جانب سے فراہم کردہ قیمت پر عام آدمی کے لیے گندم کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی غذائی اشیا کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں، اس لیے گندم کی مناسب تقسیم، دستیابی اور قیمتوں کی نگرانی ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ طلب اور رسد کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں بروقت اقدامات کریں۔
گندم کی دستیابی پاکستان میں غذائی تحفظ اور عوامی معیشت سے براہ راست منسلک ہے۔ قیمتوں میں غیر ضروری اضافے یا ذخیرہ اندوزی کے باعث کم آمدنی والے طبقوں پر اضافی مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس لیے حکومتی سطح پر فراہمی کے نظام کو مؤثر بنانا اور سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانا اہمیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ صوبے میں گندم کی قلت کے خدشات کو دور کیا جائے اور عوام کو ضروری غذائی اجناس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پانی کے منصوبوں میں 100 ارب روپے کے مبینہ اسکینڈل کا حوالہ
وزیراعظم نے اجلاس کے دوران گزشتہ حکومت کے دور میں پینے کے پانی کے منصوبوں میں مبینہ طور پر 100 ارب روپے کے اسکینڈل کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کوہستان میں 37 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کا ذکر کرتے ہوئے عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت اور احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے وسائل کا ایک ایک پیسہ ترقی اور خوشحالی پر خرچ ہونا چاہیے اور صوبے کے وسائل کی مبینہ لوٹ مار پر قابو پایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور جواب دہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقوم اگر اپنے مقررہ مقاصد کے بجائے دیگر سرگرمیوں میں استعمال ہوں تو اس سے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔
پینے کے پانی کے منصوبے خصوصاً قبائلی اور دور دراز علاقوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جہاں صاف پانی کی فراہمی صحت عامہ اور معیار زندگی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ ایسے منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
تاہم، پانی کے منصوبوں میں 100 ارب روپے اور کوہستان میں 37 ارب روپے کے مبینہ اسکینڈلز سے متعلق حتمی ذمہ داری یا مالی بے ضابطگی ثابت ہونے کے لیے متعلقہ ریکارڈ، تحقیقاتی نتائج اور قانونی کارروائی کی تفصیلات اہم ہوں گی۔ ان معاملات کو حتمی طور پر ثابت شدہ جرم قرار دینے کے بجائے مبینہ الزامات کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی وسائل کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ مختص رقوم سے حقیقی معنوں میں عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
ترقی، سکیورٹی اور انصاف کے لیے مشترکہ حکمت عملی
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور انتظامی امور کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ صوبے میں پائیدار استحکام کے لیے ترقیاتی سرگرمیوں کو مؤثر سکیورٹی انتظامات، قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر دور کرنا، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی استعداد بڑھانا، سیف سٹی منصوبوں کو مکمل کرنا اور گندم کی دستیابی یقینی بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
قبائلی اضلاع میں بنیادی سہولتوں کی بہتری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ بھی اہم ہے، کیونکہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے مقامی آبادی کو بہتر مستقبل کی امید مل سکتی ہے۔ اسی طرح ترقیاتی منصوبوں کی شفاف نگرانی سے وسائل کے ضیاع کو کم کرنے اور عوامی اعتماد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔
قبائلی عمائدین کا وزیراعظم سے اظہارِ تشکر
اجلاس کے دوران قبائلی عمائدین اور مشران نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے اور قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
قبائلی نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ اور امن و امان کی بہتری کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔
قبائلی عمائدین کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کو حکومت اور مقامی نمائندوں کے درمیان رابطوں کے فروغ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ مقامی سطح پر مشاورت اور نمائندوں کی شمولیت سے ایسے منصوبوں کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے جو براہ راست عوامی ضروریات سے متعلق ہوں۔
قبائلی علاقوں میں پائیدار ترقی کے لیے مقامی آبادی کی شمولیت، شفاف وسائل کی تقسیم، مؤثر انتظامی نظام اور بنیادی سہولتوں کی مسلسل فراہمی اہم عوامل ہیں۔ اس لیے حکومتی اقدامات کی کامیابی کا انحصار نہ صرف مالی وسائل کے اعلان پر بلکہ ان کے بروقت اور شفاف استعمال پر بھی ہوگا۔
160 ارب روپے کے اعلان پر عمل درآمد اہم مرحلہ ہوگا
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی اداروں کو وسائل کی فراہمی، سی ٹی ڈی کو مؤثر بنانے، سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل، گندم کی دستیابی اور عوامی وسائل کے شفاف استعمال سے متعلق ہدایات بھی اجلاس کے اہم نکات میں شامل رہیں۔
تاہم، اس اعلان کے عملی اثرات جانچنے کے لیے ضروری ہوگا کہ مختص رقم کی تفصیلات، منصوبوں کی فہرست، فنڈز کے اجرا کا طریقۂ کار اور عمل درآمد کے شیڈول کو واضح کیا جائے۔ اسی طرح منصوبوں کی نگرانی اور نتائج کی جانچ کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا بھی اہم ہوگا۔
قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی، معاشی مواقع کی توسیع اور امن و امان کی بہتری ایک مسلسل عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ترقیاتی وسائل بروقت جاری کیے جائیں، منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں اور عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت برقرار رکھی جائے تو ان اقدامات سے صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود میں مثبت کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی ترقی، قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ اجلاس میں شریک قبائلی عمائدین نے بھی مسائل کے حل کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ اب توجہ ان اعلانات اور فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر مرکوز رہے گی۔



