
بیٹری اسٹوریج سسٹم سے پاور کوالٹی بہتر اور بجلی کی فراہمی میں استحکام آئے گا: صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر
صوبائی وزیر توانائی کو پنجاب کے تین بڑے صنعتی علاقوں میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے پائلٹ پراجیکٹس شروع کرنے پر بریفنگ
سید عاطف ندیم-ادارت
صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر کی زیرِ صدارت بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (Battery Energy Storage System) کے مجوزہ پائلٹ پراجیکٹس کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صنعتی علاقوں میں سولر انرجی اور بیٹری اسٹوریج سسٹم کے ذریعے بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے، صنعتی پیداواری لاگت میں کمی لانے اور توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری توانائی محمد اجمل بھٹی سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر توانائی کو مجوزہ منصوبے کے تکنیکی خدوخال، سولرائزیشن، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی تنصیب اور صنعتی شعبے کو بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مجوزہ پائلٹ پراجیکٹس کے لیے رحیم یار خان، وہاڑی اور قائداعظم بزنس پارک کے صنعتی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں جدید توانائی نظام کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے معیار اور استحکام کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر نے ہدایت کی کہ پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (پیڈمک) کے ساتھ مل کر تینوں صنعتی علاقوں میں سولرائزیشن کے لیے موزوں زمین کی نشاندہی کی جائے اور منصوبے کے عملی نفاذ کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ منصوبے میں پاور کوالٹی کو بہتر بنانے، توانائی کے وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور صنعتی ضروریات کے مطابق قابلِ عمل حل تجویز کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعتوں کو سستی، معیاری اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ صنعتی شعبہ ملکی معیشت، روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے صنعتوں کو توانائی کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم اور سولرائزیشن کا مؤثر امتزاج صنعتی اداروں کو بجلی کی فراہمی میں استحکام لانے، پاور کوالٹی بہتر بنانے اور توانائی کے متبادل ذرائع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
سی ای او قائد اعظم سولر پاور لمٹیڈ محمد بدر المنیر نےبریفنگ میں بتایا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے ذریعے چار گھنٹے تک بیک اَپ فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مزید برآں، مجوزہ توانائی ماڈل میں 12 گھنٹے آف گرڈ جبکہ 12 گھنٹے نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی کا تصور پیش کیا گیا، جس کا مقصد صنعتی علاقوں میں توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنا ہے جبکہ منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں، بجلی کی فراہمی کے نظام اور سولر انرجی کے استعمال کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پی ایف اے ایس سے احمد قاضی نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیڈمک کے اشتراک سے ٹیکنیکل ٹیم نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے حوالے سے جامع رپورٹ تیار کی ہے، جس میں مجوزہ منصوبوں کے تکنیکی پہلوؤں اور صنعتی علاقوں میں ان کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پائلٹ پراجیکٹس کے ذریعے اس نظام کی افادیت کا جائزہ لینے کے بعد نتائج کی روشنی میں منصوبے کو پنجاب کے دیگر صنعتی علاقوں تک وسعت دینے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔



