
افغان طالبان پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے بجائے الزامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستان کا مؤقف
افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں پر اقوام متحدہ اور امریکی رپورٹوں کے حوالے، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکام پاکستان کے دیرینہ اور جائز سیکیورٹی خدشات کا مؤثر جواب دینے کے بجائے الزامات عائد کرکے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا افغان طالبان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے محض پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر تنقید یا الزامات عائد کرکے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، ان کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں، معاون نیٹ ورکس اور سرحد پار حملوں سے متعلق خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں، بلکہ بین الاقوامی اداروں اور امریکی حکومتی نگرانی کی رپورٹوں میں بھی ان معاملات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ ان خدشات کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے ان کے بارے میں قابلِ یقین وضاحتیں پیش کی جائیں اور ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جن کی آزادانہ یا قابلِ تصدیق ذرائع سے جانچ ممکن ہو۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کا جائزہ
پاکستان نے اپنے سیکیورٹی خدشات کے حق میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم (Analytical Support and Sanctions Monitoring Team) کی سولہویں رپورٹ، جس کا حوالہ S/2025/796 ہے، کا ذکر کیا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، اس رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جو خطے کی سیکیورٹی صورتِ حال اور افغانستان سے سرگرم مسلح تنظیموں کے معاملے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق بین الاقوامی جائزوں کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی اور اپنے شہریوں کی سلامتی سے متعلق مسلسل خدشات لاحق ہیں۔
تاہم کسی بھی رپورٹ میں بیان کردہ مخصوص نتائج کو اس کے اصل متن اور متعلقہ شواہد کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ دستیاب بین الاقوامی جائزوں کو سامنے رکھتے ہوئے افغان حکام کو دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے بارے میں واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے چاہییں۔
امریکی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور مبینہ حمایت کا ذکر
پاکستان نے امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے کانگریس میں پیش کی گئی جنوری تا مارچ 2026 کی آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل (Operation Enduring Sentinel) رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے اور گروہ کو حاصل مبینہ حمایت اور زیادہ آزادی نے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ سے منسوب تفصیلات کے مطابق، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد کا تخمینہ 4 ہزار سے 6 ہزار کے درمیان لگایا گیا ہے۔ یہ تخمینہ اس تنظیم کی افرادی قوت اور پاکستان کے لیے اس سے وابستہ سیکیورٹی خطرات کے حجم کو سمجھنے کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ ان جائزوں کو افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں اور معاون نیٹ ورکس سے متعلق خدشات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسلام آباد کے مطابق، جب کسی مسلح گروہ کی جانب سے سرحد پار حملوں کا خطرہ موجود ہو تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے اور ان اقدامات کے نتائج کی تصدیق کس طرح ممکن ہوگی۔
افغانستان کی صلاحیت اور ارادے سے متعلق دعوے پر پاکستان کا اعتراض
پاکستانی مؤقف کے مطابق، یہ کہنا کہ افغانستان کے پاس پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی ایسا کرنے میں کوئی دلچسپی، پاکستان کے سامنے موجود سیکیورٹی خدشات کا کافی جواب نہیں ہے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاست کے ارادوں کے بارے میں بیانات اپنی جگہ، لیکن سیکیورٹی پالیسی کا جائزہ زمینی صورتِ حال، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں، سرحدی واقعات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔
پاکستان نے اس سلسلے میں پاک افغان سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہونے کی مسلح دہشت گردوں کی مبینہ کوششوں، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران دہشت گرد گروہوں کے ارکان اور بعض افغان شہریوں کی ہلاکتوں، اور دہشت گرد عناصر کے قبضے سے غیر ملکی ساختہ ہتھیاروں کی برآمدگی جیسے معاملات کا حوالہ دیا ہے۔
پاکستان کے مطابق، ان واقعات کی نوعیت، ان سے متعلق شواہد اور سرحد پار روابط کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ایسے معاملات کو محض سیاسی بیانات کے ذریعے مسترد کرنا مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتا۔
غیر ملکی ساختہ ہتھیاروں کی برآمدگی بھی پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات میں شامل ہے، تاہم کسی ہتھیار کی تیاری کا ملک بذاتِ خود اس کے کسی مخصوص راستے سے افغانستان پہنچنے یا کسی حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے کا قطعی ثبوت نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں ہتھیاروں کی شناخت، ان کی سپلائی چین اور دیگر شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرنا ضروری ہے۔
افغان طالبان حکام کی مبینہ سہولت کاری پر تشویش
پاکستان نے افغان طالبان حکام، بشمول قندھار میں موجود عہدیداروں، کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو مبینہ سہولت فراہم کرنے کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، اگر دہشت گرد گروہوں کو کسی بھی سطح پر پناہ، نقل و حرکت کی آزادی، وسائل یا دیگر معاونت میسر ہو تو اس سے ان کی کارروائیوں کو روکنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو ان الزامات کا جواب واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے دینا چاہیے۔ اس میں دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی، ان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی اور پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی یا تیاری روکنے کے لیے عملی تعاون شامل ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے نزدیک مسئلے کا حل صرف بیانات کے تبادلے میں نہیں، بلکہ ایسے اقدامات میں ہے جن کے نتائج کو جانچا جا سکے اور جن سے سرحد پار دہشت گردی کے خطرے میں حقیقی کمی واقع ہو۔
ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے منسلک گروہوں سمیت ان تنظیموں کے لیے کسی بھی قسم کی رواداری، سہولت کاری یا حمایت کا خاتمہ یقینی بنائے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، افغان سرزمین کو کسی بھی ایسے گروہ کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے جو وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرے، کارروائیوں کی تیاری کرے یا انہیں عملی جامہ پہنانے میں مدد حاصل کرے۔
اس مطالبے کی بنیاد یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم مسلح گروہوں کی کارروائیاں نہ صرف پاکستانی شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے میں استحکام کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی اختلافات یا باہمی الزامات کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی گروہ کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں تو متعلقہ حکام کو ان کی بنیاد پر کارروائی کرنی چاہیے اور اس عمل کو شفاف انداز میں آگے بڑھانا چاہیے۔
پاکستان کے سیکیورٹی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں، اسلام آباد کا مؤقف
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کے سیکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردانہ خطرات ہیں، نہ کہ افغان عوام۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان امن اور استحکام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن، محفوظ سرحدیں اور دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا خاتمہ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغان عوام کے مفاد میں بھی ہے۔
دہشت گردی سے پاک ماحول دونوں ممالک میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، تجارت، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، سرحد پار حملے اور سیکیورٹی کشیدگی دونوں جانب عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان عوام اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان فرق کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ کسی دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں کو پورے افغان معاشرے سے منسوب کرنا درست نہیں، اسی طرح افغان عوام کے مفادات کے نام پر دہشت گردی سے متعلق خدشات کو نظرانداز کرنا بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات ضروری
پاکستان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاک افغان سرحد سے متعلق سیکیورٹی خدشات کے حل کے لیے ایسے انتظامات ضروری ہیں جن کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت، مبینہ محفوظ ٹھکانوں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف عملی کارروائی کی جا سکے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، اس مقصد کے لیے دونوں جانب متعلقہ حکام کے درمیان رابطے، قابلِ اعتماد معلومات کا تبادلہ اور مخصوص واقعات کی تحقیقات میں تعاون اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد چاہتا ہے کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے اپنے وعدوں اور اقدامات کو عملی صورت دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
پاکستان کے مطابق، دہشت گردی سے متعلق الزامات کا مؤثر جواب صرف ان کی تردید نہیں، بلکہ متعلقہ شواہد کی بنیاد پر تحقیقات اور نتائج پر مبنی کارروائی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے باہمی اعتماد کی بحالی اور مستقبل میں سیکیورٹی واقعات کی روک تھام کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان ذمہ دارانہ روابط اور مذاکرات کے لیے تیار
پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ وہ باہمی احترام، قابلِ تصدیق وعدوں اور دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی پر مبنی ذمہ دارانہ روابط کے لیے تیار ہے۔
اسلام آباد کے مطابق، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کے لیے ایسے رابطوں کی ضرورت ہے جو عملی نتائج پر مرکوز ہوں۔ ان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی، معاون نیٹ ورکس کی نشاندہی، سرحد پار دراندازی کی روک تھام اور متعلقہ واقعات کی تحقیقات جیسے امور شامل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ اس مؤقف کے تحت قومی سلامتی کو بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، تاہم ساتھ ہی افغانستان کے ساتھ رابطوں اور قابلِ عمل تعاون کے دروازے کھلے رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
خطے میں امن کے لیے دہشت گردی کے مسئلے کا حل ناگزیر
پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سیکیورٹی معاملات دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں، سرحد پار حملوں کا خطرہ اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانے شامل ہیں، جبکہ ان معاملات پر افغان طالبان حکومت کا مؤقف اور عملی اقدامات اس تنازع کے حل میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو اس بنیادی خدشے کا قابلِ تصدیق حل پیش کرنا چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں یا ان کے لیے سہولت میسر آ رہی ہے۔
خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک الزامات کے تبادلے سے آگے بڑھ کر شواہد، مؤثر سرحدی انتظامات، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور باہمی اعتماد کی بحالی پر توجہ دیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا خطرہ ختم کیے بغیر دوطرفہ تعلقات میں پائیدار بہتری اور علاقائی استحکام کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اس لیے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کو امن، سلامتی اور مستحکم مستقبل کے فوائد حاصل ہو سکیں۔



