
پاکستان: پنجاب میں پاکستان کے پہلے جدید فلم سٹی کا افتتاح 15 دسمبر کو ہوگا، پنجابی فلموں کے لیے 35 اور اردو فلموں پر 20 فیصد ریبیٹ منظور
فلم سٹی اتھارٹی کے لیے مالی سال 2026-27 میں 58 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد بجٹ کی تجویز، پہلے مرحلے میں 53 منظور شدہ آسامیوں میں سے 26 پر بھرتیوں کا فیصلہ
انصار ذاہدسیال-پاکستان
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت صوبے کو فلم، ڈرامہ، ثقافت اور سیاحت کا بین الاقوامی مرکز بنانے کے لیے پاکستان کے پہلے جدید ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات سے آراستہ فلم سٹی کے آغاز کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ منصوبے کا افتتاح 15 دسمبر کو کیا جائے گا، جبکہ فلمی صنعت کی بحالی، مقامی فلم سازوں کی مالی معاونت، جدید فلم سازی کے فروغ اور پنجاب میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں بننے والی پنجابی فلموں کے لیے 35 فیصد اور اردو فلموں کے لیے 20 فیصد ریبیٹ دینے کی منظوری دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فلم سازوں کے پیداواری اخراجات کا بوجھ کم کرنا، معیاری فلموں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پنجاب کی فلمی صنعت کی جانب راغب کرنا ہے۔
ان فیصلوں کا جائزہ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پنجاب فلم اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں لیا گیا، جس میں فلمی صنعت کی بحالی، لاہور کی روایتی فلمی شناخت کی بحالی، جدید فلم سازی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور پنجاب کی ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مختلف تجاویز کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں فلم سٹی کے قیام، فلم سازوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی، سینما گھروں کی بحالی، نوجوانوں کی تربیت اور فلمی صنعت سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
پنجاب فلم سٹی: جدید فلم سازی کے لیے ایک مکمل نظام قائم کرنے کا منصوبہ
پنجاب حکومت کے مجوزہ فلم سٹی منصوبے کو محض فلم اسٹوڈیوز کی تعمیر تک محدود رکھنے کے بجائے فلمی صنعت کے لیے ایک جامع نظام کے طور پر تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں فلم سازی، موسیقی، تربیت، نمائش، تجارت اور پوسٹ پروڈکشن سمیت مختلف شعبوں کو یکجا کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت فلم اینڈ میوزک اسکول، فلم میوزیم، فلم ٹریڈنگ ہاؤس، پوسٹ پروڈکشن سہولتوں، اسٹوڈیو کمپلیکس، جدید فلم اسٹوڈیوز اور پاکستان کے سب سے بڑے کنونشن سینٹر کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔
فلم اینڈ میوزک اسکول کے ذریعے فلم سازی، موسیقی اور متعلقہ تخلیقی شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کیے جانے کا منصوبہ ہے، جبکہ فلم میوزیم میں فلمی صنعت کی تاریخ، اس کے ارتقا اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اسی طرح فلم ٹریڈنگ ہاؤس فلمی کاروبار، تجارتی روابط اور فلموں کی تیاری و تقسیم سے متعلق سرگرمیوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ پوسٹ پروڈکشن کی جدید سہولتوں سے فلم سازوں کو فلم کی تدوین، آواز، بصری اثرات اور دیگر تکنیکی مراحل میں معاونت فراہم کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
اسٹوڈیو کمپلیکس اور جدید فلم اسٹوڈیوز کے قیام سے فلم سازوں کو شوٹنگ کے لیے موزوں ماحول اور تکنیکی سہولتیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو فلمی صنعت کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور تخلیقی شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پنجابی فلموں کے لیے 35 فیصد اور اردو فلموں کے لیے 20 فیصد ریبیٹ
فلمی صنعت کے لیے اجلاس کا ایک اہم فیصلہ پنجابی اور اردو فلموں کی تیاری پر مالی ریبیٹ کی منظوری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں تیار ہونے والی پنجابی فلموں کے لیے 35 فیصد جبکہ اردو فلموں کے لیے 20 فیصد ریبیٹ دینے کی منظوری دی ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد مقامی فلم سازوں کو مالی سہولت فراہم کرنا اور فلمی منصوبوں کی تیاری کے لیے پنجاب کو زیادہ پرکشش بنانا ہے۔
فلم سازی میں سرمایہ کاری کے لیے مالی وسائل کی دستیابی ایک اہم عنصر ہے۔ فلم کے موضوع اور معیار کے علاوہ شوٹنگ، فنکاروں، تکنیکی عملے، آلات، تدوین اور تشہیر سمیت مختلف مراحل پر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے میں ریبیٹ جیسی سہولتیں فلم سازوں کے لیے مالی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
پنجابی فلموں کے لیے نسبتاً زیادہ ریبیٹ کی منظوری کو علاقائی زبان اور مقامی ثقافت کے فروغ کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے پنجاب کی زبان، روایات، لوک داستانوں، موسیقی اور معاشرتی زندگی کو فلموں کے ذریعے پیش کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔
اردو فلموں کے لیے 20 فیصد ریبیٹ کی منظوری بھی مقامی فلمی پیداوار کو فروغ دینے اور مختلف موضوعات پر معیاری فلمیں تیار کرنے کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔
تاہم ریبیٹ کے عملی نفاذ، اہل فلمی منصوبوں، ادائیگی کے طریقہ کار اور دیگر شرائط کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا مکمل طریقہ واضح ہوگا۔
پانچ سال میں پنجاب کو عالمی معیار کے اسکرین ٹورزم کا مرکز بنانے کا ہدف
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف چاہتی ہیں کہ آئندہ پانچ سال میں پنجاب کو عالمی معیار کے اسکرین ٹورزم کا مرکز بنایا جائے۔
اسکرین ٹورزم سے مراد فلموں، ڈراموں اور دیگر آڈیو ویژول مواد کے ذریعے کسی علاقے کے تاریخی مقامات، قدرتی مناظر، ثقافتی ورثے اور سیاحتی مقامات کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔
مریم اورنگزیب کے مطابق، کیمرے کی آنکھ کے ذریعے دنیا کو پنجاب کی منفرد ثقافت اور نایاب ورثے سے روشناس کرایا جائے گا۔
پنجاب تاریخی عمارتوں، قدیم شہروں، صوفی روایت، روایتی موسیقی، دست کاری، دیہی زندگی اور متنوع ثقافتی ورثے کے حوالے سے ایک نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ ان مقامات کو فلموں اور ڈراموں میں مؤثر انداز سے پیش کرنے سے بین الاقوامی ناظرین کی توجہ حاصل کرنے اور سیاحت کے فروغ کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
فلموں میں دکھائے جانے والے تاریخی مقامات اور قدرتی مناظر بعض اوقات سیاحوں کو ان مقامات کی جانب راغب کرتے ہیں۔ اس لیے فلمی صنعت اور سیاحت کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی حکمت عملی پنجاب کے ثقافتی ورثے کی تشہیر کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے فلم سازوں کو مناسب مقامات تک رسائی، شوٹنگ کی سہولتوں، اجازت ناموں اور تکنیکی معاونت کی فراہمی بھی اہم ہوگی۔
فلم سازوں کے لیے آن لائن ون ونڈو نظام متعارف کرانے کا فیصلہ
اجلاس میں فلم سازوں کو شوٹنگ کے لیے موزوں مقامات کے انتخاب اور متعلقہ سہولتوں تک رسائی دینے کے لیے آن لائن ون ونڈو نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس نظام کا مقصد فلم سازی کے عمل کو آسان بنانا اور مختلف محکموں سے اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے درکار وقت اور انتظامی مشکلات میں کمی لانا ہے۔
فلم سازوں کو کسی منصوبے کے لیے تاریخی عمارتوں، سرکاری مقامات، قدرتی مناظر یا دیگر مقامات پر شوٹنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایسے میں مختلف محکموں سے رابطہ، اجازت ناموں کا حصول اور انتظامی تقاضے وقت اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔
مجوزہ ون ونڈو نظام کے ذریعے ان معاملات کو ایک مرکزی آن لائن پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ فلم ساز اپنی ضروریات کے مطابق مقامات کی معلومات حاصل کر سکیں اور متعلقہ درخواستوں کے عمل کو زیادہ مؤثر انداز میں مکمل کر سکیں۔
یہ سہولت خاص طور پر ان فلم سازوں کے لیے مفید ہو سکتی ہے جو محدود وسائل کے ساتھ فلمیں تیار کرتے ہیں یا پنجاب کے مختلف علاقوں میں شوٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔
اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو اس سے مقامی فلم سازوں کے ساتھ ساتھ پنجاب میں فلم سازی کے لیے آنے والے بیرونی پروڈکشن اداروں کے لیے بھی سہولت پیدا ہو سکتی ہے۔
فلم سٹی اتھارٹی کے لیے 58 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد بجٹ زیرِ جائزہ
پنجاب فلم سٹی اتھارٹی کے مالی سال 2026-27 کے لیے 58 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد کا بجٹ جائزے کے لیے فنانسنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
یہ بجٹ فلم سٹی کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے پیش کیا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری اور مختلف مدات میں اخراجات کی تقسیم سے متعلق تفصیلات الگ مرحلہ ہوں گی۔
فلم سٹی جیسے منصوبے کے لیے جدید اسٹوڈیوز، تکنیکی آلات، تربیتی سہولتوں، انتظامی ڈھانچے اور دیگر بنیادی ضروریات کی تکمیل اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے مالی وسائل کی مناسب منصوبہ بندی اور شفاف استعمال منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
بجٹ کے جائزے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ منصوبے کے مختلف حصوں کے لیے کتنے وسائل مختص کیے جائیں گے اور کن سرگرمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔
فلم سٹی اتھارٹی میں پہلے مرحلے پر 26 بھرتیوں کی منظوری
اجلاس میں فلم سٹی اتھارٹی کی مجموعی طور پر 53 آسامیوں میں سے پہلے مرحلے میں 26 افراد بھرتی کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ بھرتیوں اور برطرفیوں سے متعلق اختیار بورڈ کے پاس ہوگا۔
فلم سٹی اتھارٹی کے لیے انتظامی اور تکنیکی عملے کی دستیابی منصوبے کو فعال بنانے کے لیے اہم ہوگی۔ جدید فلمی سہولتوں کی نگرانی، اسٹوڈیوز کے انتظام، مالیاتی امور، تربیتی پروگراموں اور فلم سازوں کو خدمات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ شعبوں میں افرادی قوت درکار ہوگی۔
پہلے مرحلے میں 26 افراد کی بھرتی کا فیصلہ اس ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو فعال بنانے کی جانب ابتدائی قدم ہے، جبکہ باقی آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے آئندہ مراحل میں ضروریات اور دستیاب وسائل کے مطابق پیش رفت کی جا سکتی ہے۔
اجلاس میں چھ مختلف کمیٹیوں کے قیام اور پنجاب فلم فنڈ کمیٹی کی تشکیل سے متعلق پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ان کمیٹیوں کی ذمہ داریوں اور عملی کردار کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد فلمی صنعت کے لیے حکومتی معاونت کے نظام کو مزید واضح طور پر سمجھا جا سکے گا۔
پنجاب میں رائلٹی قانون بنانے کی منظوری کا ذکر
پنجاب فلم اتھارٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے پاکستان کا پہلا رائلٹی قانون بنانے کی منظوری کا بھی ذکر کیا گیا۔
اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ مجوزہ قانون کو پنجاب فلم اتھارٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔
فلمی صنعت میں رائلٹی کا تصور تخلیقی کام کے استعمال، نشریات، نمائش اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں حقوق رکھنے والوں کے حصے سے متعلق ہوتا ہے۔ اس شعبے میں واضح قانونی قواعد فلم سازوں، مصنفین، موسیقاروں، فنکاروں اور دیگر تخلیقی افراد کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فلموں اور موسیقی کے حقوق کے حوالے سے مؤثر قانونی نظام تخلیق کاروں کو ان کے کام کے استعمال کا معاوضہ دینے اور غیر مجاز استعمال کی روک تھام کے لیے بھی اہم ہو سکتا ہے۔
مجوزہ قانون کو آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ اس معاملے پر مزید غور و خوض اور قانونی مسودے کی تیاری کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم قانون کی حتمی دفعات، دائرہ کار اور نفاذ کا طریقہ کار منظوری کے بعد ہی واضح ہوگا۔
پرانے سینما گھروں کی بحالی اور عوام کے لیے سستی تفریح
فلمی صنعت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اجلاس میں پرانے سینما گھروں کی بحالی، سولر سسٹم کی تنصیب اور عوام کو کم قیمت پر تفریحی سہولتیں فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
اس کے علاوہ سینما گھروں کی بکنگ کا نظام آن لائن بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
پاکستان میں سینما گھروں کی کارکردگی فلموں کی دستیابی، ٹکٹوں کی قیمتوں، بجلی اور دیگر عملی اخراجات، ناظرین کی دلچسپی اور تفریحی سہولتوں کے معیار سمیت مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ پرانے سینما گھروں کی بحالی اور جدید سہولتوں کی فراہمی سے ان کی افادیت بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
سولر سسٹم کی تنصیب سے بجلی کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ آن لائن بکنگ کے ذریعے ناظرین کو ٹکٹ خریدنے اور نشستوں کے انتخاب میں آسانی فراہم کی جا سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے کم قیمت تفریحی سہولتوں پر توجہ دینے کا مقصد فلموں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی دسترس میں لانا اور سینما گھروں میں ناظرین کی دلچسپی بڑھانا ہے۔
تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بحالی کے منصوبوں پر کس رفتار سے عمل درآمد ہوتا ہے، ٹکٹوں کی قیمتیں کس طرح مقرر کی جاتی ہیں اور سینما گھروں میں معیاری فلمیں کس حد تک دستیاب ہوتی ہیں۔
نوجوان فلم سازوں کے لیے بین الاقوامی معیار کی تربیت
پنجاب فلم اتھارٹی کے اجلاس میں نوجوان فلم سازوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک تربیتی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی۔
اس پروگرام کے تحت بین الاقوامی ماہرین نوجوان فلم سازوں کو جدید فلم سازی کی تربیت فراہم کریں گے۔
فلمی صنعت میں تخلیقی صلاحیت کے ساتھ تکنیکی مہارت، کہانی نویسی، ہدایت کاری، کیمرہ ورک، روشنی کے استعمال، آواز کی ریکارڈنگ، تدوین اور ڈیجیٹل پروڈکشن جیسے شعبوں میں تربیت اہم ہوتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے فلم سازی کے طریقے مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کے لیے جدید آلات اور پیشہ ورانہ طریقہ کار سے واقفیت ضروری ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کی تربیت سے مقامی نوجوانوں کو عالمی معیار کے طریقوں سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فلمی صنعت کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے اور نئی نسل کو تخلیقی شعبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
فلم سٹی کے تحت تربیتی سہولتوں، اسٹوڈیوز اور پوسٹ پروڈکشن کے نظام کو یکجا کرنے سے نوجوانوں کو عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
لاہور کی فلمی شناخت بحال کرنے کی کوشش
پنجاب حکومت کے اقدامات کا ایک اہم مقصد لاہور کو دوبارہ فلمی صنعت کا نمایاں مرکز بنانا ہے۔
لاہور طویل عرصے تک پاکستانی فلمی صنعت، خصوصاً پنجابی اور اردو فلموں، موسیقی، اداکاری اور فلمی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ فلم سازی کے طریقوں میں تبدیلی، سرمایہ کاری کی کمی، جدید تکنیکی سہولتوں کی محدود دستیابی اور دیگر مسائل نے مقامی فلمی صنعت کو مختلف چیلنجز سے دوچار کیا۔
مجوزہ فلم سٹی منصوبے کے ذریعے جدید اسٹوڈیوز، پوسٹ پروڈکشن، تربیت اور کاروباری سہولتوں کو ایک جگہ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ فلم سازوں کو اپنے منصوبے تیار کرنے کے لیے زیادہ سازگار ماحول میسر آ سکے۔
پنجابی اور اردو فلموں کے لیے ریبیٹ، نوجوان فلم سازوں کی تربیت، سینما گھروں کی بحالی اور شوٹنگ کے لیے ون ونڈو نظام جیسے اقدامات اس حکمت عملی کے مختلف حصے ہیں۔
اگر یہ سہولتیں مؤثر انداز میں فراہم کی گئیں تو لاہور میں فلمی سرگرمیوں میں اضافے، متعلقہ کاروباروں کی ترقی اور مقامی فنکاروں و تکنیکی عملے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
فلم، ثقافت اور سیاحت کو یکجا کرنے کا منصوبہ
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق، فلم سٹی فلمی صنعت کی بحالی، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے ساتھ عوام کو معیاری اور سستی تفریح فراہم کرنے کے لیے ایک مکمل ایکوسسٹم ثابت ہوگا۔
اس تصور کے تحت فلم سازی کو صرف تفریحی سرگرمی کے بجائے ثقافت، سیاحت، ٹیکنالوجی، تجارت اور روزگار سے منسلک شعبے کے طور پر فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلموں اور ڈراموں کے ذریعے پنجاب کی تاریخی عمارتوں، ثقافتی روایات، موسیقی، دست کاری اور مختلف علاقوں کی منفرد شناخت کو نمایاں کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیاحتی مقامات کی تشہیر میں مدد ملنے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
اسی طرح فلمی منصوبوں کے لیے مقامی ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، ملبوسات، خوراک، تعمیراتی خدمات اور تکنیکی آلات فراہم کرنے والے کاروباروں کی خدمات درکار ہوتی ہیں، جس سے فلم سازی کے ساتھ منسلک دیگر شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔
تاہم پنجاب کو عالمی معیار کا فلمی اور سیاحتی مرکز بنانے کے لیے جدید سہولتوں کی تعمیر کے ساتھ معیاری مواد کی تیاری، نجی سرمایہ کاری، تخلیقی آزادی، پیشہ ورانہ تربیت اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
15 دسمبر کا افتتاح، منصوبے کے عملی سفر کا اہم مرحلہ
پنجاب حکومت کی جانب سے جدید فلم سٹی کا افتتاح 15 دسمبر کو کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو پنجاب کی فلمی صنعت کی بحالی اور ثقافتی و سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
فلم سٹی کے تحت مجوزہ اسٹوڈیوز، فلم اینڈ میوزک اسکول، فلم میوزیم، ٹریڈنگ ہاؤس، پوسٹ پروڈکشن سہولتوں اور کنونشن سینٹر کا قیام ایک جامع فلمی نظام کی تشکیل کی جانب پیش رفت ہے۔
اس کے ساتھ فلم سازوں کے لیے ریبیٹ، آن لائن ون ونڈو نظام، سینما گھروں کی بحالی، ڈیجیٹل بکنگ اور نوجوانوں کی تربیت جیسے اقدامات فلمی صنعت کے مختلف مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف افتتاح پر نہیں، بلکہ جدید سہولتوں کی عملی دستیابی، مالی معاونت کے شفاف طریقہ کار، تربیت یافتہ افرادی قوت، معیاری فلموں کی تیاری اور مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حصول پر ہوگا۔
پنجاب حکومت کا اعلان کردہ فلم سٹی منصوبہ اگر مقررہ اہداف کے مطابق مکمل اور مؤثر انداز میں فعال ہوتا ہے تو یہ لاہور کی فلمی شناخت کی بحالی، پنجابی اور اردو سینما کے فروغ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور پنجاب کے ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔



