
پنجاب بھر میں فضائی آلودگی برقرار، لاہور عالمی آلودہ شہروں میں دوسرے نمبر پر
پاکپتن، ملتان اور سرگودھا میں بھی ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بلند؛ سموگ سیزن سے قبل شہریوں کی صحت کو لاحق خدشات میں اضافہ، بارش کا فوری امکان نہیں
سید عاطف ندیم-ادارت
پنجاب بھر میں فضائی آلودگی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور عالمی سطح پر آلودہ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔ بین الاقوامی فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو ایئر (IQAir) کے لائیو ایئر کوالٹی ٹریکر کے مطابق پیر کے روز لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 199 ریکارڈ کیا گیا۔ سردیوں کے دوران سموگ کے روایتی موسم کی آمد سے قبل فضائی آلودگی میں اضافے نے شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس و دل کے امراض میں مبتلا افراد کی صحت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
فضائی آلودگی صرف لاہور تک محدود نہیں رہی، بلکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی آلودہ ہوا کی سطح بلند ریکارڈ کی گئی۔ صوبائی ماحولیاتی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکپتن، ملتان اور سرگودھا سمیت متعدد شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس لاہور سے بھی زیادہ رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلودگی کا مسئلہ پورے صوبے میں مختلف شدت کے ساتھ موجود ہے۔
لاہور میں فضائی معیار میں اتار چڑھاؤ
آئی کیو ایئر کے مطابق پیر کے روز لاہور کی عالمی درجہ بندی اور فضائی آلودگی کی سطح میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہی۔ 26 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے لاہور کے لیے ایئر کوالٹی انڈیکس 139 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ باریک معلق ذرات پی ایم 2.5 (PM2.5) کو آلودگی کا بنیادی سبب بتایا گیا۔ ان ذرات کی مقدار 51 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تھی۔
امریکی ایئر کوالٹی انڈیکس کے پیمانے کے مطابق 139 کی سطح حساس گروہوں کے لیے غیر صحت بخش زمرے میں آتی ہے۔ اس سطح پر بالخصوص بچوں، بزرگوں اور پہلے سے سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو آلودہ ہوا کے اثرات سے زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
دن کے مختلف اوقات میں فضائی معیار کے اشاریے میں فرق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہوا میں آلودگی کی مقدار مستقل نہیں رہتی۔ موسم، ہوا کی رفتار، فضائی گردش، مقامی اخراج اور دیگر عوامل کے باعث آلودگی کی سطح میں اضافہ یا کمی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے کسی شہر کی عالمی درجہ بندی اور اس کے ایئر کوالٹی انڈیکس کو ایک مخصوص وقت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی آلودگی کی بلند سطح
پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی فراہم کردہ نگرانی کی تفصیلات کے مطابق صوبے کے متعدد شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح خاصی بلند رہی۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکپتن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 210 ریکارڈ کیا گیا، جو فہرست میں سب سے زیادہ سطح تھی۔ ملتان میں یہ شرح 204 اور سرگودھا میں 195 رہی۔
دیگر شہروں میں ریکارڈ کی گئی سطح درج ذیل ہے:
- پاکپتن: 210
- ملتان: 204
- سرگودھا: 195
- وہاڑی: 178
- کوٹ ادو: 176
- ڈیرہ غازی خان: 165
- خوشاب: 160
- منڈی بہاؤالدین: 159
- ساہیوال: 158
- جہلم: 157
- اٹک: 156
- لاہور: 151
- ننکانہ صاحب: 35
ان اعداد و شمار کے مطابق لاہور صوبائی فہرست میں شامل 31 شہروں میں 18ویں نمبر پر رہا، جبکہ ننکانہ صاحب میں سب سے کم ایئر کوالٹی انڈیکس 35 ریکارڈ کیا گیا۔
یہ تقابل ظاہر کرتا ہے کہ فضائی آلودگی کی شدت تمام شہروں میں یکساں نہیں۔ بعض اضلاع میں آلودگی کی سطح لاہور سے زیادہ ہونے کے باوجود عالمی سطح پر لاہور کی نمایاں درجہ بندی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مختلف اداروں کے ڈیٹا، پیمائش کے اوقات اور نگرانی کے طریقہ کار میں فرق ہوسکتا ہے۔
ایئر کوالٹی انڈیکس کیا بتاتا ہے؟
ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ایسا پیمانہ ہے جس کے ذریعے ہوا میں موجود آلودگی کی سطح اور اس سے انسانی صحت کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ امریکی اے کیو آئی پیمانے پر عمومی طور پر صفر سے 50 تک کی سطح اچھی، 51 سے 100 تک معتدل اور 101 سے 150 تک حساس گروہوں کے لیے غیر صحت بخش سمجھی جاتی ہے۔
151 سے 200 تک کی سطح کو غیر صحت بخش قرار دیا جاتا ہے، جبکہ 201 سے 300 تک کا اشاریہ انتہائی غیر صحت بخش زمرے میں شامل ہوتا ہے۔ اس پیمانے پر 301 یا اس سے زیادہ کی سطح شدید خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس تناظر میں لاہور میں ریکارڈ ہونے والی 151 کی سطح غیر صحت بخش زمرے میں آتی ہے، جبکہ پاکپتن میں 210 اور ملتان میں 204 کی سطح انتہائی غیر صحت بخش زمرے میں شمار ہوتی ہے۔
تاہم، مختلف ممالک اور ادارے فضائی معیار کے لیے الگ الگ اشاریے یا پیمائشی طریقے استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی لیے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا تقابل کرتے ہوئے متعلقہ پیمانے، مقام اور وقت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
پی ایم 2.5 کے باریک ذرات صحت کے لیے کیوں تشویش ناک ہیں؟
فضائی آلودگی میں پی ایم 2.5 یعنی ایسے باریک ذرات اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کا قطر 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے کم ہوتا ہے۔ ان کا حجم انتہائی چھوٹا ہونے کی وجہ سے یہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں جسم کے اندر سوزش اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی کے یہ ذرات مختلف ذرائع سے فضا میں شامل ہوسکتے ہیں، جن میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، ایندھن جلانے کے عمل، تعمیراتی سرگرمیاں، سڑکوں کی گردوغبار اور فصلوں کی باقیات جلانے جیسے عوامل شامل ہیں۔ تاہم، کسی مخصوص دن لاہور یا پنجاب کے دیگر شہروں میں آلودگی کے اضافے کے اصل اسباب کا تعین متعلقہ ماحولیاتی اعداد و شمار اور اخراج کی نگرانی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔
طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے سانس کی بیماریوں، دمے کی علامات، پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ پہلے سے بیمار افراد میں علامات زیادہ شدت اختیار کرسکتی ہیں، جبکہ صحت مند افراد بھی آلودگی کی بلند سطح پر آنکھوں میں جلن، کھانسی اور گلے میں خراش محسوس کرسکتے ہیں۔
سموگ سیزن سے قبل موسمی حالات اہم
پنجاب میں سردیوں کی آمد کے ساتھ سموگ کا مسئلہ عموماً زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے۔ اس دوران بعض موسمی حالات، خصوصاً ہوا کی کم رفتار اور فضا کی نچلی تہوں میں آلودگی کے جمع ہونے کے باعث، آلودہ ذرات زیادہ دیر تک زمین کے قریب موجود رہ سکتے ہیں۔
پاکستان محکمہ موسمیات کی پیر کو جاری کردہ پیش گوئی کے مطابق منگل کے روز پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں سردی متوقع تھی۔
پیش گوئی کے مطابق لاہور میں منگل کے روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان تھا۔ بدھ کے روز بھی درجہ حرارت اسی حد میں رہنے کی توقع ظاہر کی گئی، جبکہ اس مدت کے دوران صوبائی دارالحکومت میں بارش کا امکان نہیں بتایا گیا۔
بارش نہ ہونے کی صورت میں فضا میں موجود آلودگی کو بارش کے ذریعے کم ہونے کا موقع نہیں ملتا، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ خشک موسم لازماً فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔ ہوا کے معیار میں تبدیلی کا انحصار ہوا کی رفتار، سمت، فضائی استحکام، آلودگی کے اخراج اور دیگر موسمی عوامل پر بھی ہوتا ہے۔
اسی لیے بارش کی عدم موجودگی کو آلودگی کی سطح میں اضافے کی قطعی پیش گوئی نہیں سمجھنا چاہیے، البتہ آلودگی کے پہلے سے بلند ہونے کی صورت میں مسلسل نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت
فضائی آلودگی کی بلند سطح کے پیش نظر شہریوں کو اپنی صحت کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دمے، پھیپھڑوں یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو آلودہ ماحول میں غیر ضروری وقت گزارنے سے گریز کرنا چاہیے۔
صحت عامہ سے متعلق عمومی رہنمائی کے مطابق آلودگی زیادہ ہونے کے دوران باہر سخت جسمانی سرگرمیاں محدود کرنا، گھروں اور عمارتوں کے اندر آلودہ ہوا کے داخلے کو کم کرنا اور جہاں ممکن ہو مناسب ہوا صاف کرنے والے آلات استعمال کرنا مفید ہوسکتا ہے۔
شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فضائی معیار کی تازہ ترین صورتحال دیکھ کر بیرونی سرگرمیوں کا فیصلہ کریں۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو مقامی طبی اور ماحولیاتی ہدایات کے مطابق مناسب حفاظتی اقدامات اختیار کیے جائیں۔ عام کپڑے کا ماسک یا ہر قسم کا سرجیکل ماسک باریک فضائی ذرات سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا؛ اس لیے آلودگی کی شدت اور دستیاب حفاظتی ذرائع کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔
اگر کسی فرد کو آلودگی کے دوران سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن یا دمے کی علامات میں نمایاں اضافہ محسوس ہو تو اسے طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مستقل اقدامات کی ضرورت
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف موسمی تبدیلیوں یا عارضی اقدامات پر انحصار کافی نہیں۔ اس کے لیے آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی، صنعتی اور ٹرانسپورٹ کے اخراج کی مؤثر نگرانی، گاڑیوں کے دھویں پر قابو پانے، تعمیراتی مقامات پر گردوغبار کم کرنے اور فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل طریقوں کو فروغ دینے جیسے اقدامات اہم ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ فضائی معیار کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، مستند اعداد و شمار عوام تک بروقت پہنچانا اور مختلف اضلاع میں آلودگی کے ذرائع کا الگ الگ جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اس سے حکام کو ایسے اقدامات مرتب کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو مقامی حالات کے مطابق زیادہ مؤثر ہوں۔
نتیجہ: سموگ سے پہلے خطرے کی گھنٹی
پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی بلند سطح اور لاہور کی عالمی درجہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سموگ کے موسم سے قبل فضائی معیار پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ پاکپتن اور ملتان سمیت متعدد شہروں میں غیر صحت بخش سے انتہائی غیر صحت بخش سطح تک پہنچنے والے اشاریے شہری صحت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں فضائی معیار کی صورتحال کا انحصار موسمی حالات، آلودگی کے اخراج اور حکومتی و عوامی اقدامات پر ہوگا۔ شہریوں کو تازہ ترین مستند اعداد و شمار سے باخبر رہنے، غیر ضروری بیرونی سرگرمیاں محدود کرنے اور صحت کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آلودگی کی مسلسل نگرانی اور اس کے بنیادی اسباب پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں۔



