
پاکستان اور خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں، سپیکر پنجاب اسمبلی
قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور مقدس مقامات کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے، سپیکر ملک محمد احمد خاں
سید عاطف ندیم-ادارت
قصور :سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کے تناظر میں قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کا تحفظ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ خواہش ہے۔ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن قصور کے انڈیپنڈنٹ گروپ آف لائرز کے جنرل ہاؤس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں پر سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت عام شہریوں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے ان قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی کامیابی کی دعا کی۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں جاری کشیدگی عالمی امن کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ایسے حالات میں سفارتی رابطوں، مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ موٹرویز اور بہتر سفری رابطے کسی بھی علاقے کی معاشی ترقی، کاروباری سرگرمیوں، تعلیم اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے قصور موٹروے منصوبے کو علاقے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی معیشت، زرعی سرگرمیوں اور عوامی رابطوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے قانونی شعبے میں میرٹ، قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنیاد پر مواقع کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان وکلا کو آگے بڑھنے کے مواقع دینے کے لیے نجی اداروں اور کمپنیوں میں قانونی مشاورت سے متعلق تقرریوں کے نظام کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب ضابطہ سازی اور قانون سازی کے امکانات پر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوان وکلا بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم اور قانونی تحقیق کے فروغ کے لیے مجوزہ یونیورسٹی میں سینٹر آف ایکسیلنس فار لیگل اسٹڈیز اور لاء اسکول کے قیام کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جس سے قانونی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔قصور بار کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ وکلا کو باوقار اور معیاری کام کی جگہ، جدید قانون لائبریری، پختہ راستوں اور مناسب پارکنگ سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی ضروری ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے لیے بار اور بینچ کا باہمی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بار ایسوسی ایشنز اور ان کے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ وکلا کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل، فلاح و بہبود اور ادارے کی بہتری کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔



