
نک مارٹن
جرمنی کے چینی حریف مسلسل جرمن صنعت کے بڑے کھلاڑیوں کے مارکیٹ شیئر کو کم کر رہے ہیں اور دوسری جانب توانائی کی مسلسل بڑھتی قیمتیں، مزدوروں کے زیادہ اخراجات اور حد سے زیادہ نوکر شاہی جیسے مسائل اس بحران میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
جرمنی کے وفاقی شماریاتی دفتر کے مطابق، دو سال کے معاشی جمود کے بعد، گزشتہ سال حقیقی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں صرف 0.2 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ 2025 میں چین کو کی جانے والی برآمدات میں 9.7 فیصد کمی واقع ہوئی، جس میں جرمن گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات کی ترسیل میں ایک تہائی کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ ایسے آثار موجود ہیں کہ جرمن معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، لیکن حکومت کی جانب سے 2026 میں 1.3 فیصد کی معاشی نمو کا تازہ ترین تخمینہ کووڈ وبا سے پہلے کے عروج کے سالوں کے مقابلے میں اب بھی بہت معمولی ہے۔
اس وقتاے ایف ڈی مقبولیت میں جرمنی کی تمام دیگر سیاسی جماعتوں سے آگے ہے۔ ملک کے متعدد معاشی چیلنجز دائیں بازو کی اس جماعت کے عروج کی ایک بڑی وجہ رہے ہیں۔
جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کو ایسے قابل اعتبار اشارے ملے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اے ایف ڈی مجموعی طور پر انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت ہے۔
یہ پارٹی توانائی کے متبادل وسائل کی طرف منتقلی کو ختم کرنے، ٹیکسوں میں کمی کرنے اور یورپی یونین کے معاہدو ں پر دوبارہ بات چیت کر کے جرمنی کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن جیسے وعدے کر رہی ہے۔ جبکہ یہ جماعت ویلفیئر سسٹم میں اصلاحات اور ہجرت (امیگریشن) پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی بھی حامی ہے۔
میرس کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی ترقی کا ہدف
چانسلر فریڈرش میرس کی اتحادی حکومت عوامیت پسند سیاست کے ابھار کو روکنے کے لیے ایک نئی معاشی حکمتِ عملی کی تلاش میں ہے، جس کے تحت حکومت نے چھ ترجیحی شعبوں پر مشتمل اپنا ہائی ٹیک ایجنڈا تشکیل دیا ہے۔
ان ترجیحی شعبوں میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، مائیکرو الیکٹرانکس، بائیو ٹیکنالوجی، صاف ستھری توانائی (بشمول نیوکلیئر فیوژن) اور ماحولیاتی طور پر موافق نقل و حمل شامل ہیں۔
لیبنز سینٹر فار یورپیئن اکنامک ریسرچ (زیڈ ایڈ بلیو) میں ڈیجیٹل اکانومی ریسرچ یونٹ کی سربراہ ارین برٹشیک کا کہنا ہے، ”ان کلیدی جدید ٹیکنالوجیز میں جرمنی کی تحقیق بہت مضبوط ہے، خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ٹیکنالوجیز کے شعبے میں۔‘‘
تاہم، برٹشیک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان تحقیقاتی نتائج سے عملی اور تجارتی فائدہ اکثر بیرونِ ملک اٹھایا جاتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ سب سے آگے ہے اور چین بھی تیزی سے یہ فاصلہ کم کر رہا ہے۔
نئی سرمایہ کاری میں کھربوں کا اضافہ
147 کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے گروہ میڈ فار جرمنی کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں حکومت کے اس منصوبے کی توثیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے 2035 تک 4.1 کھرب یورو کی سرمایہ کاری جذب کی جا سکتی ہے۔
تاہم، اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کا انحصار فوکس ویگن، سیمنز اور بی اے ایس ایف جیسے پرانے صنعتی اداروں سے زیادہ نئے راستوں پر ہو گا۔
آئی ایف او سینٹر فار دی اکنامکس آف انوویشن اینڈ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ڈائریکٹر اولیور فالک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”نئے شعبوں پر فتح حاصل کرنا بنیادی طور پر قائم شدہ کمپنیوں کا کام نہیں ہوگا، بلکہ یہ کام جدید نو وارد ادارے یعنی اسٹارٹ اپس کریں گے۔‘‘
فالک کے مطابق، اصل چیلنج اسٹارٹ اپس کے قیام کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے، جن میں بہترین یونیورسٹیوں سے قربت، نجی سرمایہ تک رسائی اور تجربات کرنے کی مکمل آزادی شامل ہے۔
وہ ابتدائی مرحلے کے خطرناک دور کے دوران سرکاری مالی امداد کی حمایت کرتے ہیں، یہ تحقیق اور تجارتی کامیابی کے درمیان کا وہ غیر یقینی وقت ہوتا ہے جب نجی سرمایہ کاری اکثر نایاب ہوتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی مستقبل کے ترقیاتی شعبوں پر نظریں
اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ یہ تبدیلی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ ڈوئچے بینک اور جرمن اسٹارٹ اپ ڈیٹا بیس ‘اسٹارٹ اپ ڈیٹیکٹر’ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 2026 کی پہلی چھ ماہی میں جرمنی میں 3,000 سے زائد نئے اسٹارٹ اپس قائم ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 88 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی نئے اداروں کا بنیادی فوکس مصنوعی ذہانت پر ہے۔
رواں برس کی پہلی چھ ماہی میں وینچر کیپیٹل کی سرمایہ کاری 44 فیصد بڑھ کر 5.8 ارب یورو تک پہنچ گئی، جس سے نیورا روبوٹکس اور ڈرون بنانے والی کمپنیاں جیسے شٹارک اور کوانٹم سسٹمز مستفید ہوئیں۔
دوسری طرف، امریکی سرمایہ کار جرمنی کی مشہور مٹل اشٹنڈ یعنی اس کے روایتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ان کی مخصوص اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے تیزی سے خرید رہے ہیں۔
برٹشیک نے اس بات پر زور دیا، ”جرمن مٹل اشٹنڈ بے حد جدید ہے۔ اب مصنوعی ذہانت جیسی کلیدی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنا اور قائم شدہ ٹیکنالوجیز کے ساتھ ان کے اشتراک سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا انتہائی ضروری ہے۔‘‘
خاص معاشی زونز کی تجویز
ہائی ٹیک کے نئے شعبوں کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کا ایک اور مشورہ لائبزگ میں واقع فیوچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سوین گیبور جانسکی نے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمنی کو معاشی ترقی کی اگلی لہر کو پکڑنے کے لیے خاص معاشی زونز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
جانسکی نے بتایا، ”چند مخصوص ٹیکنالوجیز کے لیے، آپ قوانین اور پابندیوں کو نرم کریں، پرعزم ورکرز کو بھرتی کریں اور ان زونز میں پیسہ لگائیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ کار سلیکون ویلی، چین کے بڑے شہر شینزن اور شنگھائی کے پوڈونگ ڈسٹرکٹ کی مثالوں پر مبنی ہوگا اور یہ ان حالات کی یاد تازہ کرتا ہے جن کی بدولت دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمن معیشت کی بحالی ممکن ہوئی تھی۔
جانسکی کے نقطہ نظر میں، یہ زونز جرمنی کو پرانی صنعتی طاقتوں سے جڑے رہنے کے بجائے ابھرتے ہوئے شعبوں میں پیش قدمی کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا، ”یورپی یونین کے قوانین اس اقدام کو روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن جرمنی کو ان پر قابو پانا ہوگا تاکہ ہم معیشت کو دوبارہ ترقی دے سکیں۔‘‘
دفاعی اخراجات سے ٹیکنالوجی کی ترقی کو تقویت
جرمنی کے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ان متعدد ہائی ٹیک شعبوں کو بھی تقویت دے گا جنہیں اب ترجیح دی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق، 2026 میں دفاعی بجٹ تقریباً 120 ارب یورو تک پہنچنے کی توقع ہے، جو کہ مجموعی ملکی پیداوار کا تقریباً 2.6 فیصد ہے۔
اس کے نتیجے میں ہونے والی خریداری سے ڈرونز، سینسرز، مواصلاتی نظام اور دیگر دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز کی پیداوار کو زبردست فروغ ملے گا، جن کے شہری اور فوجی دونوں طرح کے استعمال ہوتے ہیں۔
لاگت کا فرق حتمی نقصان دہ نہیں
تاہم، چین جیسے بڑے حریف کو توانائی اور مزدوروں کی نمایاں طور پر کم لاگت اور بھاری سرکاری مالی امداد کا فائدہ بھی حاصل ہے، جس کی وجہ سے جرمنی کو اپنی نئی ہائی ٹیک مصنوعات برآمد کرتے وقت قیمتوں کے معاملے میں اسی طرح کے نقصانات کا سامنا رہے گا۔ لیکن آئی ایف او کے ماہر فالک کے مطابق، اس کا مطلب ناکامی ہرگز نہیں ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی، ”سیمی کنڈکٹر کی صنعت کو ایک مثال کے طور پر لیں۔ پوری سپلائی چین میں برتری حاصل کرنے کا ہدف رکھنا شاید غیر حقیقی ہے۔ لیکن انفرادی اہم مراحل پر آگے رہنا ہی کافی ہے۔‘‘
وہ مزید کہتے ہیں ، ”اور جرمنی بالکل اسی جگہ مضبوط ہے۔ جدید ترین چپ فیکٹریوں کے لیے آلات کے فراہم کنندہ کے طور پر اور پاور سیمی کنڈکٹرز کے ساتھ دنیا کی مصنوعی ذہانت کی ‘گیگا فیکٹریوں‘ کے سپلائر کے طور پر۔‘‘
دوسرے الفاظ میں، ابتدائی پیش قدمی کے فائدے، دہائیوں کے اعلیٰ معیار کے پیداواری ڈیٹا اور مخصوص شعبوں پر توجہ مرکوز کر کے، جرمنی جدید صنعتی اور انجینئرنگ ٹیکنالوجیز میں ایک بڑی طاقت کے طور پر قائم رہ سکتا ہے۔



