پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

سمیڈا کی تنظیمِ نو کا فیصلہ، چار ہفتوں میں جامع اصلاحاتی منصوبہ وزیراعظم کو پیش ہوگا

ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت اجلاس، چھوٹے کاروباروں کو مالی وسائل اور کاروباری سہولیات تک رسائی دینے پر زور، خواتین اور پسماندہ علاقوں کے کاروباری افراد ترجیح ہوں گے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید قاسم بخاری-پاکستان

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی تنظیمِ نو اور ادارے کو مؤثر، فعال اور ملک گیر سطح پر قابلِ رسائی بنانے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں سمیڈا کی تنظیمِ نو، ادارہ جاتی اصلاحات، کاروباری سہولیات میں بہتری اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سمیڈا کی تنظیمِ نو کے لیے بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار اور کامیاب ادارہ جاتی ماڈلز کا مطالعہ کیا جائے گا، تاکہ پاکستان کی معاشی ضروریات اور کاروباری ماحول سے مطابقت رکھنے والا ایک جامع اور قابلِ عمل اصلاحاتی منصوبہ تیار کیا جا سکے۔ کمیٹی اپنی سفارشات اور تنظیمِ نو کا منصوبہ چار ہفتوں کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

اجلاس میں اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ سمیڈا کی خدمات کو بڑے شہروں اور کاروباری مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے دور دراز علاقوں، چھوٹی آبادیوں اور دیہی خطوں تک پہنچایا جائے، تاکہ چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا پہلے سے جاری کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے خواہش مند افراد حکومتی معاونت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

سمیڈا کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے حکومتی اقدام

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ سمیڈا کئی سال تک غیر فعال رہا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور ہدایات کے تحت ادارے کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمیڈا میں پاکستان کے کاروباری شعبے کو مضبوط بنانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ترقی دینے اور قومی معیشت میں ان کا کردار بڑھانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ ان کے مطابق، ادارے کو مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنانا حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔

ہارون اختر خان نے زور دیا کہ سمیڈا کی تنظیمِ نو محض انتظامی تبدیلیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد کاروباری افراد کے مسائل حل کرنا، انہیں عملی معاونت فراہم کرنا اور ان کے لیے کاروبار شروع کرنے اور وسعت دینے کے مواقع بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کی کارکردگی، خدمات کے معیار، عوامی رسائی اور کاروباری ضروریات کے مطابق معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ضروری ہے، تاکہ سمیڈا قومی سطح پر چھوٹے کاروباروں کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔

خواتین اور دیہی علاقوں کے کاروباری افراد پر خصوصی توجہ

ہارون اختر خان نے بتایا کہ وزیراعظم نے سمیڈا کی خدمات مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں تک وسیع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں خواتین کاروباری افراد اور دیہی و پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والے کاروباروں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو کاروبار شروع کرنے یا اپنے موجودہ کاروبار کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن مالی وسائل، کاروباری رہنمائی اور ادارہ جاتی معاونت تک محدود رسائی ان کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

ان کے مطابق، حکومت کی کوشش ہے کہ ان رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور چھوٹے کاروباری افراد کو ایسی سہولیات فراہم کی جائیں جن سے وہ اپنی معاشی سرگرمیوں کو وسعت دے سکیں۔

خصوصاً خواتین کاروباری افراد کے لیے معاونت کی دستیابی اور دیہی علاقوں میں کاروباری مواقع کی فراہمی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ملک گیر سطح پر خدمات کی مؤثر فراہمی سے زیادہ افراد کو کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہونے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مالی وسائل، مشاورت اور ادارہ جاتی معاونت کی فراہمی

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چھوٹے کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے مالی وسائل تک رسائی کے ساتھ ساتھ کاروباری مشاورت اور ادارہ جاتی معاونت بھی ضروری ہے۔

ہارون اختر خان کے مطابق، سمیڈا کی خدمات کو نچلی سطح تک پہنچانے کا مقصد یہ ہے کہ کاروباری افراد کو صرف معلومات فراہم کرنے کے بجائے ان کے عملی مسائل کے حل میں بھی مدد دی جائے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو اپنے کاروبار کے آغاز، انتظام، توسیع اور پائیداری کے لیے مختلف نوعیت کی معاونت درکار ہوتی ہے۔ اس تناظر میں مالی سہولیات تک رسائی، کاروباری منصوبہ بندی سے متعلق رہنمائی اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں مدد اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے سمیڈا کی تنظیمِ نو کے ذریعے ایسی سہولیات کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ کاروباری افراد کو اپنی ضروریات کے مطابق معاونت میسر آ سکے۔

تاہم، اس سلسلے میں عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اصلاحاتی منصوبے میں کون سے اقدامات شامل کیے جاتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے کس نوعیت کا نظام تشکیل دیا جاتا ہے۔

تنظیمِ نو کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

وزیراعظم نے سمیڈا کی تنظیمِ نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی غرض سے کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں سمیڈا کے بورڈ ممبران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد ادارے کے تجربات، انتظامی ضروریات، عملی مسائل اور مختلف متعلقہ فریقوں کی تجاویز کی روشنی میں مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی منصوبہ تیار کرنا ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ کمیٹی کو سمیڈا کی کارکردگی بہتر بنانے، ملک بھر میں اس کی رسائی بڑھانے اور خدمات کے معیار اور دستیابی کو مؤثر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تنظیمِ نو کے دوران ایسے اقدامات تجویز کیے جائیں جو ادارے کو زیادہ جواب دہ، فعال اور کاروباری برادری کی ضروریات کے مطابق کام کرنے کے قابل بنائیں۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار اور کامیاب ادارہ جاتی ماڈلز کا جائزہ لے کر ان عناصر کی نشاندہی کی جائے گی جنہیں پاکستان کے کاروباری اور معاشی حالات کے مطابق اختیار کیا جا سکتا ہے۔

کمیٹی چار ہفتوں کے اندر اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کے بعد اصلاحاتی منصوبے کے آئندہ مراحل اور مجوزہ اقدامات کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آ سکے گی۔

رانا عتیق کی تعیناتی کو رابطہ کاری کے لیے اہم قرار

مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے ایس ایم ایز رانا عتیق کی تعیناتی کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے کے لیے رابطہ کاری مضبوط بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس تعیناتی سے متعلقہ شعبے میں معاونت اور رابطوں کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

چھوٹے کاروباروں کے لیے مختلف سرکاری اداروں، مالی سہولیات اور کاروباری معاونت کے نظام کے درمیان مؤثر رابطہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں رابطہ کاری کو بہتر بنانے سے کاروباری افراد کو دستیاب سہولیات تک رسائی میں مدد مل سکتی ہے۔

اجلاس میں شریک حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو سمیڈا کی تنظیمِ نو کے عمل میں مشاورتی کردار ادا کرنے اور ادارے کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔

اجلاس میں اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں کی شرکت

سمیڈا کی تنظیمِ نو سے متعلق اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے ایس ایم ایز رانا عتیق، وفاقی سیکریٹری صنعت و پیداوار احسان علی مانگی اور وفاقی سیکریٹری تجارت جواد پال نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ سمیڈا بورڈ کے ممبران، چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا نادیہ جے سیٹھ، ایڈیشنل سیکریٹری صنعت و پیداوار حمیرا ضیاء مفتی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

متعلقہ حکام کی شرکت کا مقصد ادارے کی موجودہ صورت حال، تنظیمی ضروریات اور اصلاحاتی عمل کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرنا تھا، تاکہ مجوزہ منصوبے میں ادارے کی کارکردگی اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز شامل کی جا سکیں۔

ایس ایم ایز پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں

ہارون اختر خان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاشی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز پاکستان کے مجموعی کاروباری اداروں کا تقریباً 99 فیصد ہیں اور روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کی تقریباً 78 فیصد افرادی قوت کے روزگار کا تعلق اس شعبے سے ہے۔ ان کے مطابق، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مضبوط بنانا روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور معاشی ترقی کے ثمرات کو زیادہ وسیع کرنے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان میں چھوٹے کاروبار مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ اس لیے ان کی ترقی کے لیے بہتر کاروباری ماحول، مالی وسائل تک رسائی اور معاون اداروں کی مؤثر خدمات اہم سمجھی جاتی ہیں۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے سے کاروباری مواقع بڑھانے اور معیشت میں زیادہ افراد کی شمولیت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان کے مطابق، سمیڈا کو مؤثر بنانا اس وسیع تر مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ ادارے کی خدمات حقیقی کاروباری ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور ملک کے مختلف علاقوں میں ان تک رسائی ممکن بنائی جائے۔

حکومت کا سمیڈا کو عوامی ضروریات کے مطابق بنانے کا عزم

ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سمیڈا کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور عوامی ضروریات کے مطابق کام کرنے والا ادارہ بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کی تنظیمِ نو کا مقصد کاروباری افراد کو سہولیات فراہم کرنا، مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے میں معاونت کرنا اور ملک بھر میں کاروباری ترقی کو فروغ دینا ہے۔

ان کے مطابق، سمیڈا کی خدمات کو دور دراز علاقوں تک وسعت دینے اور خواتین سمیت مختلف طبقات کے کاروباری افراد پر توجہ مرکوز کرنے سے کاروباری معاونت کے دائرے کو وسیع کیا جا سکے گا۔

سمیڈا کی تنظیمِ نو کے لیے چار ہفتوں میں اصلاحاتی منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ اس عمل کا اہم مرحلہ ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ کمیٹی کی سفارشات میں ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے، مالی و کاروباری معاونت تک رسائی بڑھانے اور ملک گیر سطح پر خدمات کی فراہمی کے لیے کون سے عملی اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔

وزیراعظم کو پیش کیے جانے والے منصوبے اور اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے واضح ہوگا کہ سمیڈا کو پاکستان کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے کس حد تک مؤثر معاون ادارے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button