
انصاف بے بس کیوں؟….علی عباس کاظمی
افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض حکمران عوامی غصے کو نظام کی اصلاح کے لیے استعمال کرنے کے بجائے مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے دکھائی دیتے ہیں
مظلوم کے لیے درد محسوس کرنا انسانیت ہے، مجرم سے نفرت ہونا فطری ردعمل، لیکن اس نفرت کو سزا دینے کا اختیار سمجھ لینا خطرناک ذہنی رویہ ہے۔ پاکستان میں جرائم کے بعد ملزمان پر تشدد، پولیس حراست میں مشکوک ہلاکتوں اور بااثر شخصیات کی جانب سے جوابی تشدد کی حوصلہ افزائی نے انصاف اور انتقام کے درمیان فرق دھندلا دیا ہے۔ جرم پر غصہ اپنی جگہ، مگر اس غصے کو قانون کے تابع رکھنا ہی مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ملتان میں ایک پندرہ سالہ یتیم بچے کی گاڑی تلے کچل کر ہلاکت نے لوگوں کو فطری طور پر غم و غصے میں مبتلا کیا۔ ایک معصوم جان کا ضیاع ایسا سانحہ تھا جس پر جواب دہی کا مطالبہ ہر شہری کا حق تھا۔ لیکن اس کے بعد ملزم پر عدالت میں تشدد اور پھر پولیس حراست میں اس کی پراسرار ہلاکت نے انصاف کے نظام پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ اگر کسی شخص پر بچے کی ہلاکت کا الزام تھا تو ریاست کی ذمہ داری تھی کہ شواہد جمع کرتی، گواہوں کو تحفظ دیتی، مقدمہ مضبوط بناتی اور عدالت سے سزا دلواتی۔ ملزم کی موت سے بچہ واپس نہیں آیا، البتہ حقائق تک پہنچنے اور قانونی ذمہ داری متعین کرنے کا عمل ضرور پیچیدہ ہو گیا۔یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی جرم کی سنگینی ہمیں قانون توڑنے کا حق دے دیتی ہے؟ عوام کا غصہ بے سبب نہیں ہوتا۔ جب مقدمات برسوں زیرِ التوا رہیں، طاقت ور ملزمان اثر و رسوخ سے بچ نکلیں اور عام شہری تھانے سے عدالت تک انصاف کے لیے دھکے کھاتا پھرے تو نظام پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ مگر ریاستی ناکامی کا علاج یہ نہیں کہ شہری بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اگر ہر شخص اپنے غصے، تعصب یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر سزا دینے لگے تو الزام ہی جرم کا ثبوت بن جائے گا اور بے گناہی ثابت کرنے کا حق طاقت ور کے رحم و کرم پر ہوگا۔ پھر انصاف نہیں، طاقت کا راج ہوگا۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض حکمران عوامی غصے کو نظام کی اصلاح کے لیے استعمال کرنے کے بجائے مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے بعض واقعات میں متاثرین کو جوابی تھپڑ مارنے کے مشورے یا ایسے ردعمل کی تحسین اسی طرزِ فکر کی مثال ہیں۔ ممکن ہے اس رویے کے پیچھے مظلوم سے ہمدردی کا جذبہ ہو، لیکن حکمران کی ذمہ داری صرف جذبات کی ترجمانی نہیں، بلکہ ان جذبات کو انصاف کے درست راستے پر ڈالنا بھی ہے۔ عام شہری کے غیر ذمہ دارانہ الفاظ کا اثر محدود ہوسکتا ہے، مگر جب حکمران تشدد کی حمایت کرے تو اس کے الفاظ ریاستی اختیار کی تائید سمجھے جا سکتے ہیں۔ذرا سوچیے، یہ انتقامی عمل کس اصول کے تحت جائز ہوگا؟ کیا پولیس کسی ملزم کو اس لیے گرفتار کرے گی کہ متاثرہ شخص اس سے بدلہ لے؟ اگر جواباً مزید تشدد ہو یا تنازعہ بڑھ جائے تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ حکمران کا کام چند لمحوں کی داد سمیٹنا نہیں، ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں شہری کو تحفظ اور انصاف کے لیے کسی سفارش، سیاسی تعلق یا انتقامی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے۔پولیس حراست میں ملزمان کی ہلاکتیں اس مسئلے کا ایک اور سنگین پہلو ہیں۔ بعض واقعات میں پولیس کا مؤقف سامنے آتا ہے کہ ملزم کو چھڑانے کے لیے آنے والے ساتھیوں کی فائرنگ سے وہ ہلاک ہوگیا۔ ایسا دعویٰ درست بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس کی تصدیق آزادانہ تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد سے ہونی چاہیے۔ ہر پولیس بیان کو بلا تحقیق حتمی حقیقت ماننا درست نہیں، مگر ثبوت کے بغیر ہر اہلکار کو مجرم قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات ہوں، نتائج عوام کے سامنے آئیں اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے منسوب رپورٹ کے مطابق 2025ء کے ابتدائی آٹھ ماہ میں پنجاب کے 670 پولیس مقابلوں کے دوران 924 ملزمان مشکوک حالات میں ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار غیر معمولی سنجیدگی کے متقاضی ہیں۔ انہیں نظر انداز کرنا بھی غیر ذمہ داری ہے اور مکمل قانونی تحقیق کے بغیر ہر واقعے کو ایک ہی نوعیت کا قرار دینا بھی درست نہیں۔ ضروری ہے کہ ان ہلاکتوں کے حالات، شواہد اور قانونی جواز کی آزادانہ جانچ ہو۔ پولیس کا کام خطرے کو قابو کرنا اور ملزمان کو گرفتار کرنا ہے، ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ سنانا نہیں۔اگر کوئی وکیل ملزم کو عدالت میں پیشی کے دوران تشدد کا نشانہ بنائے تو یہ محض ایک شخص پر حملہ نہیں بلکہ اس قانونی اصول کی نفی ہے جس کی حفاظت اس کے پیشے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی ملزم کا جرم ثابت ہونے سے پہلے اسے سزا دینا عدالت کے اختیار پر حملہ ہے۔ کوئی وکیل، پولیس افسر، وزیر یا مشتعل ہجوم قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔اگر قانون کے رکھوالے ہی اپنے غصے کو قانون پر ترجیح دینے لگیں تو پھر قانون کی حرمت کا درس کون دے گا؟ ہم اکثر حقیقت جانے بغیر مجرم اور سزا کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کوئی جذباتی ویڈیو سامنے آتی ہے تو تحقیقات سے پہلے ہی عدالت لگ جاتی ہے۔ کسی پر الزام عائد ہو تو اس کی تذلیل تفریح بن جاتی ہے، جبکہ سخت ترین سزا کا مطالبہ کرنے والے کو زیادہ بہادر اور درد مند سمجھا جاتا ہے۔ اس ماحول میں تحقیق، احتیاط اور قانونی طریقۂ کار کی بات کرنے والا شخص مظلوم کا مخالف قرار پاتا ہے۔ حالانکہ مظلوم کا ساتھ دینے کا مطلب انصاف کے بنیادی اصولوں سے دست بردار ہونا نہیں۔ جذبات کو حقیقت کا متبادل بنانے سے بالآخر اسی کمزور انسان کے حقوق متاثر ہوتے ہیں جس کے لیے انصاف مانگا جا رہا ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عدالتی تاخیر، ناقص تفتیش اور بااثر ملزمان کو ملنے والی رعایتوں پر خاموش رہا جائے۔ ان مسائل پر سخت سوال اٹھانا شہریوں کا حق ہے۔ مقدمات کے بروقت فیصلوں، پولیس کی تفتیش میں بہتری، گواہوں کے تحفظ، فرانزک سہولتوں کی فراہمی اور حراست میں تشدد یا ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو قانونی معاونت ملنی چاہیے اور مقدمات کی پیش رفت پر مؤثر نگرانی ہونی چاہیے۔ انصاف محض سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ ایسا مکمل عمل ہے جس میں جرم ثبوت سے ثابت ہو، بے گناہ محفوظ رہے اور طاقت ور شخص بھی قانون سے فرار اختیار نہ کرسکے۔ ذرائع ابلاغ کو انتقام کو سنسنی خیز تماشا بنانے کے بجائے ذمہ دارانہ شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ حکومت کا فرض بھی یہی ہے کہ قانون پر اعتماد بحال کرے، نہ کہ شہریوں کو یہ احساس دلائے کہ انصاف کے لیے قانون سے باہر نکلنا ضروری ہے۔ملتان کا سانحہ ہمیں ایک بچے کی المناک موت، ایک ملزم کی ہلاکت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا حقیقی سبق تبھی حاصل ہوگا جب شفاف تحقیقات سے حقائق سامنے آئیں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ محض مذمتی بیانات، جذباتی ویڈیوز اور انتقامی نعروں سے معاشرے تبدیل نہیں ہوتے۔ایک مہذب ریاست کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کسی ملزم کو کتنی جلدی ختم کردیتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جرم کو کتنی دیانت داری سے ثابت کرکے قانون کے مطابق سزا دیتی ہے۔ یاد رکھیے۔۔۔جس دن انتقام انصاف کی جگہ لے لیتا ہے، اس دن صرف ملزم نہیں ہارتا، پورا معاشرہ قانون، تہذیب اور انسانیت پر اپنا اعتماد کھو دیتا ہے۔


