
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وائس آف جرمنی اردو نیوز: پاکستان اور چین نے اطلاعات کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے، مستند خبروں اور تجزیوں کے تبادلے کو مؤثر بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے انفارمیشن کوریڈور کے نام سے ایک نئے انتظام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے میڈیا اداروں، تجارتی حلقوں، تحقیقی مراکز اور ثقافتی شعبوں کے درمیان رابطوں کو وسعت دینا اور درست معلومات کی بروقت فراہمی کے لیے مشترکہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق، اس انفارمیشن کوریڈور کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان خبروں، تجزیوں اور اہم امور سے متعلق معلومات کے تبادلے کے لیے ایک منظم طریقہ کار تشکیل دیا جائے گا۔ اس سے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے حالات، معاشی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور دوطرفہ تعلقات کے بارے میں مستند معلومات تک رسائی فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس اقدام کو بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں درست معلومات کی فراہمی کاروباری اعتماد اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سی پیک کے منصوبوں اور کاروباری معلومات کے تبادلے پر توجہ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انفارمیشن کوریڈور کا ایک اہم مقصد سی پیک سے متعلق کاروباری معلومات، تجزیوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا ہے۔
سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے میڈیا اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے مؤثر تبادلے کو اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ منصوبوں سے متعلق معلومات کی ترسیل بہتر بنائی جا سکے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق، انفارمیشن کوریڈور کے ذریعے سی پیک سے متعلق معلومات اور تجزیوں کی فراہمی کے لیے ایک بہتر مواصلاتی نظام تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔ اس نظام کے تحت کاروباری مواقع، سرمایہ کاری کے امکانات اور مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق معلومات کو زیادہ مؤثر انداز میں متعلقہ حلقوں تک پہنچایا جا سکے گا۔
اس انتظام سے سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون سے متعلق پیش رفت سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس اقدام کے عملی نتائج کا انحصار معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار، اداروں کے درمیان تعاون اور فراہم کردہ خبروں کی صحت پر ہوگا۔
چار اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کا منصوبہ
پاکستان اور چین کے درمیان قائم کیے جانے والے انفارمیشن کوریڈور کے تحت چار اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔ ان میں میڈیا، تجارت، تھنک ٹینکس اور ثقافت و سیاحت سمیت نوجوانوں سے متعلق امور شامل ہیں۔
میڈیا کے شعبے میں تعاون: دونوں ممالک کے میڈیا اداروں کے درمیان خبروں، تجزیوں اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد مستند اطلاعات کی فراہمی اور دونوں ممالک کے متعلقہ امور کی بہتر تفہیم کو فروغ دینا ہے۔
تجارت اور اقتصادی سرگرمیاں: تجارتی معلومات اور کاروباری تجزیوں کے تبادلے سے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تھنک ٹینکس اور تحقیقی ادارے: پالیسی سازی، اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق تحقیقی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس سے مختلف معاملات پر تحقیق، تجزیے اور علمی تبادلے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کے امور: دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے، ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے تعاون کے مواقع پیدا کرنے کو بھی اس انتظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس شعبے میں تعاون سے پاکستان اور چین کے معاشروں کے درمیان باہمی آگاہی اور ثقافتی روابط کو وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
حکام کے مطابق، ان چاروں شعبوں میں روابط کی بہتری سے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے، جبکہ عوامی سطح پر تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
18 پاکستانی اور چینی میڈیا اداروں پر مشتمل ورکنگ گروپ
انفارمیشن کوریڈور کے تحت ایک ورکنگ گروپ بھی اہم کردار ادا کرے گا، جس میں پاکستان اور چین کے مجموعی طور پر 18 میڈیا ادارے شامل ہوں گے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس گروپ میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں طرح کے میڈیا اداروں سے تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ خبروں اور تجزیوں کے دوطرفہ تبادلے کے لیے مؤثر روابط قائم کیے جا سکیں۔
اس ورکنگ گروپ کی اہم ذمہ داریوں میں مستند خبروں کے تبادلے، معلومات کی تصدیق کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے میڈیا اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے جیسے امور شامل ہو سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں۔ تاہم اس رفتار کے ساتھ غلط، نامکمل یا غیر مصدقہ اطلاعات کی اشاعت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں میڈیا اداروں کے درمیان تعاون اور معلومات کی تصدیق کے لیے مشترکہ کوششیں اہم سمجھی جاتی ہیں۔
انفارمیشن کوریڈور کے ذریعے اگر خبروں کے ذرائع کی جانچ، متعلقہ حقائق کی تصدیق اور معلومات کی بروقت ترسیل کے مؤثر طریقہ کار کو فروغ دیا جاتا ہے تو اس سے دونوں ممالک میں عوام تک پہنچنے والی اطلاعات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسلام آباد سے انفارمیشن کوریڈور کا آغاز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان انفارمیشن کوریڈور کا آغاز اسلام آباد سے کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق، چین کے معروف خبر رساں ادارے ژنہوا، بڑے چینی میڈیا گروپس اور پیپلز ڈیلی بھی اس انتظام کا حصہ ہوں گے۔ ان اداروں کی شمولیت سے دونوں ممالک کے میڈیا کے درمیان براہ راست رابطوں، خبروں کے تبادلے اور مشترکہ تعاون کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
چینی میڈیا اداروں کی شرکت کو اس منصوبے کا اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے پاکستان سے متعلق خبروں اور تجزیوں کے چینی ذرائع ابلاغ تک پہنچنے اور چین سے متعلق معلومات کے پاکستانی میڈیا میں تبادلے کے لیے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ پاکستانی میڈیا اداروں کی شمولیت بھی اہم ہوگی تاکہ مقامی حالات، اقتصادی منصوبوں، تجارتی سرگرمیوں اور عوامی دلچسپی کے معاملات سے متعلق معلومات کو مناسب تناظر میں پیش کیا جا سکے۔
ماؤ ننگ کا فیک نیوز اور غلط معلومات کے مسئلے پر اظہارِ خیال
انفارمیشن کوریڈور کے آغاز کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بھی شرکت کی۔ تقریب کا انعقاد اسلام آباد کے پاک چین فرینڈشپ سینٹر میں کیا گیا، جہاں پاکستان اور چین کے درمیان اطلاعاتی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے اس اقدام کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔
ماؤ ننگ نے اپنے خطاب میں غلط معلومات اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اب بھی غلط معلومات اور فیک نیوز پر مبنی جھوٹے دعوؤں کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق، انہیں یقین ہے کہ اس نوعیت کا انتظام جعلی خبروں اور غلط معلومات کے مسئلے سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماؤ ننگ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین بھی معلومات کی درستگی اور خبروں کے تبادلے کو دوطرفہ تعاون کے اہم پہلوؤں میں شمار کرتا ہے۔ تاہم غلط معلومات کی روک تھام کے لیے کسی بھی نظام کی افادیت کا انحصار شفافیت، آزادانہ تصدیق، مختلف ذرائع سے معلومات کی جانچ اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر ہوگا۔
چینی سفیر کا مثبت رائے عامہ اور عملی تعاون پر زور
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے بھی تقریب میں شرکت کی اور انفارمیشن کوریڈور کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور عملی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
ان کے مطابق، یہ کوریڈور دونوں ممالک کے درمیان مثبت رائے عامہ اور سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دے گا، جو سی پیک کے اگلے مراحل کے لیے ضروری ہے۔
چینی سفیر کے بیان کے مطابق، اطلاعاتی تعاون کو بہتر بنانے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
سی پیک کے مستقبل کے مراحل میں سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، تجارت اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مختلف منصوبوں کی پیش رفت اہمیت رکھتی ہے۔ ان منصوبوں کے بارے میں بروقت اور درست معلومات کی فراہمی سے متعلقہ اداروں، کاروباری حلقوں اور عوام کو پیش رفت سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات میں اطلاعاتی تعاون کی اہمیت
پاکستان اور چین کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جن میں سفارتی، دفاعی، اقتصادی اور تجارتی تعاون نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک نے ان تعلقات میں اقتصادی ترقی، رابطوں اور سرمایہ کاری کے پہلوؤں کو مزید اہمیت دی ہے۔
انفارمیشن کوریڈور کا قیام ان تعلقات میں میڈیا اور اطلاعاتی تعاون کو ایک منظم شکل دینے کی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان روابط بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اس اقدام کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ خبروں کے تبادلے میں حقائق کی تصدیق، ذرائع کی شفافیت اور صحافتی اصولوں کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ اسی طرح تجارتی اور اقتصادی معلومات کی فراہمی میں درست اعدادوشمار اور مستند دستاویزات کا استعمال بھی اہم ہوگا۔
میڈیا کے ساتھ ساتھ تحقیقی اداروں، کاروباری تنظیموں، ثقافتی اداروں اور نوجوانوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے سے اس منصوبے کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ اس طرح انفارمیشن کوریڈور محض خبروں کے تبادلے تک محدود رہنے کے بجائے دوطرفہ تعلقات کے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
عملی نتائج اور مستقبل کے امکانات
پاکستان اور چین کے درمیان انفارمیشن کوریڈور کا آغاز دونوں ممالک کے اطلاعاتی تعاون میں ایک نئی پیش رفت ہے۔ اس کے تحت 18 پاکستانی اور چینی میڈیا اداروں پر مشتمل ورکنگ گروپ کی شمولیت، معروف چینی خبر رساں اداروں کی شرکت اور تجارت، تحقیق، ثقافت اور نوجوانوں سے متعلق شعبوں پر توجہ اس منصوبے کے نمایاں پہلو ہیں۔
تاہم اس اقدام کے حقیقی نتائج کا اندازہ اس وقت ممکن ہوگا جب خبروں کے تبادلے، معلومات کی تصدیق، مشترکہ سرگرمیوں اور ادارہ جاتی تعاون کے عملی طریقہ کار کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔
اگر اس کوریڈور کے تحت مستند معلومات کی بروقت فراہمی، آزادانہ حقائق کی جانچ اور میڈیا اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو یقینی بنایا جاتا ہے تو یہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں بہتر ابلاغ، اقتصادی شراکت داری اور عوامی روابط کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز کے مطابق، پاکستان اور چین کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر غلط معلومات اور فیک نیوز کے چیلنجز کے باعث مستند صحافت، معلومات کی تصدیق اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔



