
دھوئیں کی نگرانی کا ڈرون نظام ناکام، پنجاب کے بڑے شہر سموگ کی لپیٹ میں
لاہور، ننکانہ صاحب اور دیگر شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، مری بھی آلودگی سے محفوظ نہ رہا، اینٹوں کے بھٹوں کی بندش اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
پنجاب میں سموگ کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی فضائی آلودگی نے تشویش ناک صورتِ حال اختیار کر لی ہے، جہاں لاہور، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، نارووال اور دیگر شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک سطح تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ راولپنڈی، اسلام آباد اور سیاحتی مقام مری بھی آلودہ فضا کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔ فضائی آلودگی میں اضافے نے شہریوں کی صحت، معمولاتِ زندگی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب دھوئیں کے اخراج کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا ڈرون نظام بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے، جبکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹوں، پتھر کچلنے والے پلانٹس اور کھلے مقامات پر کچرا جلانے کے خلاف کارروائیاں بھی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
صوبائی حکومت نے فضائی آلودگی میں اضافے کے پیشِ نظر 15 نومبر سے 15 دسمبر تک پنجاب بھر میں اینٹوں کے بھٹے مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کی جانب سے آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف جرمانوں، گاڑیوں کی ضبطی اور صنعتی یونٹس کو سیل کرنے جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، مختلف شہروں میں آلودگی کی بلند سطح اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے صرف وقتی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ آلودگی کے بنیادی ذرائع کی مؤثر نگرانی، قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور متبادل انتظامات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔
لاہور سمیت کئی شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس تشویش ناک
محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے فراہم کردہ جائزے کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 253 سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ شہر کے بعض علاقوں میں یہ سطح 419 تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ فضائی آلودگی کی یہ صورتِ حال شہریوں کے لیے صحت کے سنگین خدشات پیدا کر رہی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں، دمے کے مریضوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے آلودہ فضا میں طویل وقت گزارنا زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ننکانہ صاحب میں ایئر کوالٹی انڈیکس 371 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فیصل آباد میں یہ سطح 290 تک پہنچ گئی۔ راولپنڈی میں ایئر کوالٹی انڈیکس 185 اور اسلام آباد میں 170 سے 172 کے درمیان رپورٹ کیا گیا ہے۔
اسی طرح گوجرانوالہ میں یہ انڈیکس 255، ملتان میں 296 اور نارووال میں 289 ریکارڈ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اٹک میں ایئر کوالٹی انڈیکس 116، چکوال میں 104 اور جہلم میں 156 بتایا گیا ہے۔ صوبے کے معروف سیاحتی مقام مری میں بھی یہ سطح 129 سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف بڑے صنعتی اور گنجان آباد شہروں تک محدود نہیں رہا۔
ان اعداد و شمار میں مختلف شہروں اور مقامات کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے، تاہم مجموعی طور پر صورتِ حال فضائی معیار کی مسلسل نگرانی اور آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس کی سطح میں وقت، مقام اور موسمی حالات کے مطابق تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو مقامی اور تازہ ترین ماحولیاتی معلومات سے باخبر رہنا چاہیے۔
سموگ کیا ہے اور یہ کس طرح بنتی ہے؟
سموگ انگریزی کے دو الفاظ ’’سموک‘‘ یعنی دھواں اور ’’فوگ‘‘ یعنی دھند سے مل کر بنا ہے۔ یہ اصطلاح ایسی فضائی کیفیت کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں دھوئیں، گردوغبار، آلودہ ذرات، مختلف گیسوں اور موسمی حالات کے امتزاج سے فضا آلودہ ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے بیشتر شہری اور صنعتی علاقوں میں اکتوبر سے دسمبر تک سموگ کا مسئلہ زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس دوران درجہ حرارت میں کمی، ہوا کی رفتار میں تبدیلی اور بعض موسمی حالات فضائی آلودگی کو زمین کے قریب جمع ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔ جب فضا میں موجود آلودہ ذرات اور گیسیں مؤثر انداز میں منتشر نہیں ہو پاتیں تو شہری علاقوں میں دھند نما آلودہ تہہ زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔
سموگ کا مسئلہ صرف حدِ نگاہ میں کمی تک محدود نہیں۔ آلودہ فضا میں موجود باریک ذرات اور بعض گیسیں انسانی نظامِ تنفس کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سموگ کے موسم میں شہریوں کو آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور ناک کی تکالیف جیسی شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فضائی آلودگی کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے ایئر کوالٹی انڈیکس استعمال کیا جاتا ہے۔ اس انڈیکس کے ذریعے فضائی معیار کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ شہریوں اور متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ آلودہ فضا صحت کے لیے کس حد تک خطرہ بن سکتی ہے۔
تاہم، صرف ایک مجموعی عدد کو دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔ آلودگی کی نوعیت، باریک ذرات کی مقدار، متعلقہ گیسوں کی موجودگی، پیمائش کا مقام اور وقت بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے فضائی معیار کے جائزے میں مستند مانیٹرنگ اسٹیشنوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
دھان کی باقیات جلانے سے آلودگی میں اضافہ
پنجاب میں سموگ کی شدت کے اسباب میں زرعی باقیات جلانے کا عمل بھی شامل ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ننکانہ صاحب اور گوجرانوالہ میں دھان کی فصل کی باقیات، جنہیں عام طور پر پراالی کہا جاتا ہے، جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔
فصل کی کٹائی کے بعد زمین کو اگلی فصل کے لیے تیار کرنے کی غرض سے بعض کسان باقیات کو آگ لگا دیتے ہیں۔ یہ طریقہ بظاہر تیز اور آسان محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں دھواں اور آلودہ ذرات فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک ہی علاقے میں متعدد مقامات پر فصلوں کی باقیات جلائی جائیں تو مقامی فضائی معیار مزید خراب ہو سکتا ہے۔
زرعی باقیات جلانے کے مسئلے کا حل صرف جرمانے یا قانونی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ کسانوں کو ایسے متبادل طریقوں تک رسائی دینا بھی ضروری ہے جن کے ذریعے فصلوں کی باقیات کو جلائے بغیر مؤثر انداز میں استعمال یا تلف کیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے زرعی مشینری کی دستیابی، باقیات کو زمین میں شامل کرنے کے طریقوں، مناسب انتظامی سہولتوں اور کسانوں کی رہنمائی کو اہمیت دی جا سکتی ہے۔ اگر متبادل طریقے مہنگے ہوں یا بروقت دستیاب نہ ہوں تو کسانوں کے لیے روایتی طریقہ ترک کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
چنانچہ زرعی پالیسی میں ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ کسانوں کے معاشی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کریں اور قابلِ عمل متبادل فراہم کرنے کے لیے زرعی ماہرین اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں۔
دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فضائی آلودگی کا بڑا ذریعہ
شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کی ایک اہم وجہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں ہیں۔ پرانی، ناقص حالت میں موجود یا مناسب دیکھ بھال سے محروم گاڑیاں ماحول میں نقصان دہ اخراج کا سبب بن سکتی ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق گاڑیوں کے ساتھ ریلوے انجنوں، کارخانوں اور صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والا بھاری سیاہ دھواں بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ، گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت اور سڑکوں پر گردوغبار کی موجودگی بھی فضائی معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر گاڑیوں کے انجن، ایندھن کے نظام اور اخراج کو کنٹرول کرنے والے آلات کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو ان سے خارج ہونے والی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے گاڑیوں کے فٹنس معائنے اور اخراج کی جانچ کے نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔ صرف سڑکوں پر گاڑیاں روک کر چالان کرنے کے بجائے ایسے مستقل انتظامات درکار ہیں جن کے تحت گاڑیوں کے مالکان اپنی گاڑیوں کو مقررہ ماحولیاتی معیار کے مطابق رکھنے کے پابند ہوں۔
اس کے علاوہ شہریوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینا، ٹریفک کے غیر ضروری دباؤ میں کمی لانا اور نسبتاً صاف ذرائع نقل و حمل کو ترقی دینا بھی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
صنعتی یونٹس اور اینٹوں کے بھٹوں سے اخراج
پنجاب میں فضائی آلودگی کے اسباب میں صنعتی سرگرمیوں اور اینٹوں کے بھٹوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی شامل ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹے اور پتھر کچلنے والے پلانٹس آلودگی کے خلاف جاری کارروائیوں کی زد میں آئے ہیں۔
صنعتی سرگرمیوں کے دوران پیدا ہونے والا دھواں اور گردوغبار اگر مؤثر طریقے سے کنٹرول نہ کیا جائے تو اردگرد کے علاقوں میں فضائی معیار خراب ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اینٹوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے ایندھن اور بھٹوں کی تکنیکی حالت بھی اخراج کی نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
صوبائی حکومت نے 15 نومبر سے 15 دسمبر تک پورے پنجاب میں اینٹوں کے بھٹے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد سموگ کے موسم میں آلودگی کے ایک ممکنہ ذریعے کو عارضی طور پر محدود کرنا ہے۔
تاہم، بھٹوں کی بندش کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہو گا کہ آیا اس مدت کے دوران آلودگی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے یا نہیں۔ فضائی آلودگی کے متعدد ذرائع ایک ہی وقت میں سرگرم ہوتے ہیں، اس لیے کسی ایک ذریعے کو محدود کرنے سے پورے مسئلے کا خاتمہ ممکن نہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کے لیے صنعتی یونٹس اور بھٹوں کو ایسے طریقوں اور ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہے جن سے نقصان دہ اخراج میں کمی لائی جا سکے۔ اس ضمن میں قانونی تقاضوں پر عمل درآمد، اخراج کی باقاعدہ جانچ اور خلاف ورزیوں کے خلاف یکساں کارروائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ٹائر اور پلاسٹک جلانے کا خطرناک عمل
فضائی آلودگی میں اضافے کا ایک اور تشویش ناک پہلو پرانے ٹائروں، پلاسٹک اور دیگر ناقابلِ استعمال مواد کو جلانا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض مقامات پر پرانے اور ناکارہ ٹائر اور پلاسٹک جلا کر کالا تیل نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔
ایسے مواد کو کھلے مقامات پر جلانے سے دھواں اور مختلف نقصان دہ مادے فضا میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس عمل سے اردگرد کے رہائشی علاقوں میں بدبو، آنکھوں میں جلن اور سانس کی تکالیف جیسی شکایات پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے صرف مواد جلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا کافی نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ناکارہ ٹائروں، پلاسٹک اور صنعتی فضلے کو جمع کرنے، منتقل کرنے، ری سائیکل کرنے اور محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا مؤثر نظام موجود ہو۔
اگر کچرے کو ٹھکانے لگانے کے متبادل انتظامات دستیاب نہ ہوں تو بعض افراد اور کاروبار غیر قانونی طریقے اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کے ساتھ فضلے کی سائنسی بنیادوں پر تلفی اور ری سائیکلنگ کی سہولتوں کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔
کچرا جلانے اور پتھر کچلنے والے پلانٹس کے خلاف کارروائیاں
شہری اور صنعتی علاقوں میں کچرا جلانا اور تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران پیدا ہونے والی گردوغبار بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسکریپ، کوڑا کرکٹ اور دیگر مواد جلانے کے علاوہ پتھر کچلنے والے پلانٹس سے نکلنے والا دھواں اور گرد بھی حکام کی توجہ کا مرکز ہیں۔
پتھر کچلنے کے عمل میں پیدا ہونے والی گردوغبار اگر مناسب انتظامات کے ذریعے کنٹرول نہ کی جائے تو یہ قریبی آبادیوں اور کام کرنے والے افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی طرح غیر قانونی طور پر کچرا جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں مقامی سطح پر فضائی معیار کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی کریں۔ جہاں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہو، وہاں شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے اور ذمہ دار عناصر کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ شہری علاقوں میں کچرا جمع کرنے اور منتقل کرنے کا نظام مؤثر ہو تاکہ کوڑا کرکٹ کو کھلے مقامات پر جلانے کی ضرورت یا ترغیب پیدا نہ ہو۔
دھوئیں کی نگرانی کا ڈرون نظام کیوں اہم ہے؟
سموگ کے موسم میں فضائی آلودگی کے ذرائع کی بروقت نشاندہی ماحولیاتی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے۔ بعض اوقات آلودگی پھیلانے والی سرگرمیاں شہری آبادی سے دور یا ایسے مقامات پر ہوتی ہیں جہاں مسلسل زمینی نگرانی مشکل ہوتی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں ڈرون ٹیکنالوجی نگرانی کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ ڈرون کے ذریعے مخصوص علاقوں کا جائزہ لینے، مشتبہ مقامات کی نشاندہی کرنے اور متعلقہ ٹیموں کو معلومات فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، فراہم کردہ معلومات میں دھوئیں کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون نظام کو ناکام قرار دیا گیا ہے۔ اس نظام کی ناکامی کی مخصوص تکنیکی یا انتظامی وجوہات کی تفصیل دستیاب نہیں، اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ مسئلہ آلات کی خرابی، نگرانی کے طریقۂ کار، عملے کی تربیت یا معلومات کے استعمال سے متعلق تھا۔
اس کے باوجود یہ صورتِ حال اس سوال کو اہم بناتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کے باوجود آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی میں مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہیں ہو رہے۔
اگر ڈرون نظام کو مؤثر بنانا مقصود ہے تو اس کی تکنیکی کارکردگی، نگرانی کے دائرۂ کار، حاصل ہونے والے شواہد اور متعلقہ اداروں کے ردِعمل کا جائزہ لینا ضروری ہو گا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ڈرون کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کس طرح متعلقہ افسران تک پہنچتی ہیں اور ان کی بنیاد پر کارروائی کا طریقہ کیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اسی وقت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جب اس کے نتائج کو عملی اقدامات سے منسلک کیا جائے۔ اگر کسی مقام پر دھواں یا آلودگی کی نشاندہی ہو جائے لیکن اس کے بعد معائنہ، قانونی کارروائی یا اخراج میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے جائیں تو نگرانی کا نظام اپنے بنیادی مقصد کو مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکتا۔
لہٰذا ڈرون نظام کی کارکردگی کا شفاف جائزہ اور اس کی خامیوں کی نشاندہی ماحولیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہونی چاہیے۔
راولپنڈی میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی
راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے ضلع بھر میں فضائی آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان ہدایات میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں، صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹوں، پتھر کچلنے والے پلانٹس، ٹائر جلانے اور کچرا پھینکنے والوں کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔
حکام کو خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر درج کرنے اور بھاری جرمانے عائد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی حوصلہ شکنی اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سیکریٹری کے مطابق دھواں چھوڑنے والی 49 گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں، جبکہ ان پر مجموعی طور پر چھ لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
یہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اخراج کی نگرانی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے مستقل نتائج کا انحصار اس امر پر ہو گا کہ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد بھی معائنہ اور نگرانی کا عمل جاری رہتا ہے یا نہیں۔
گاڑیوں کی ضبطی اور جرمانے فوری طور پر خلاف ورزیوں کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں، لیکن طویل مدتی بہتری کے لیے گاڑیوں کی مرمت، فٹنس سرٹیفکیٹ، اخراج کی جانچ اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
21 اینٹوں کے بھٹے اور پانچ صنعتی پلانٹس سیل
محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران اینٹوں کے 21 بھٹوں اور دھواں خارج کرنے والے پانچ پتھر کچلنے والے پلانٹس کو سیل کیا گیا ہے۔
یہ کارروائیاں فضائی آلودگی کے خلاف جاری انتظامی کوششوں کا حصہ ہیں۔ بھٹوں اور صنعتی پلانٹس کی بندش سے متعلقہ مقامات پر آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم مجموعی فضائی معیار میں بہتری کا انحصار دیگر ذرائع سے خارج ہونے والی آلودگی کو کنٹرول کرنے پر بھی ہو گا۔
ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ کارروائیوں کی بنیاد واضح شواہد اور مقررہ قانونی معیار پر ہو۔ متعلقہ اداروں کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ جن یونٹس کو ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی وجہ سے بند کیا جائے، انہیں مطلوبہ اصلاحات اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
اسی طرح کارروائیوں کی تفصیلات، خلاف ورزیوں کی نوعیت اور بعد ازاں کیے گئے اقدامات سے متعلق معلومات کی مناسب تشہیر عوامی اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
چالان اور جرمانے کیوں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں؟
فضائی آلودگی کے خلاف کارروائیوں میں جرمانے اور قانونی نوٹس اہم حیثیت رکھتے ہیں، لیکن صرف مالی سزاؤں سے اس مسئلے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق حکام نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ چالان اور جرمانوں کے باوجود مسئلے پر قابو پانا مشکل ہے، جب تک آلودگی پھیلانے والے مواد کو سائنسی طریقوں سے ٹھکانے نہ لگایا جائے۔
اس بیان میں ماحولیاتی پالیسی کا ایک بنیادی نکتہ موجود ہے۔ اگر پرانے ٹائر جلانے، صنعتی فضلے کو کھلے مقامات پر تلف کرنے یا فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل دستیاب نہ ہوں تو بعض افراد دوبارہ انہی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر گاڑیوں کی مرمت مہنگی ہو، صنعتی اخراج کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو یا فضلے کو جمع کرنے کا نظام غیر مؤثر ہو تو صرف جرمانے عائد کرنے سے مستقل بہتری حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ماحولیاتی پالیسی میں قانون کے نفاذ اور عملی سہولتوں کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے، وہیں شہریوں، کسانوں اور کاروباری اداروں کو ایسے متبادل بھی فراہم کیے جائیں جو ماحولیاتی معیار کے مطابق ہوں۔
شہریوں کی صحت پر سموگ کے اثرات
فضائی آلودگی کا بڑھتا ہوا دباؤ انسانی صحت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق سموگ کے باعث ناک، کان اور گلے کی تکالیف کے علاوہ آنکھوں میں جلن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
آلودہ فضا میں موجود باریک ذرات سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ان کے اثرات کا انحصار ذرات کی نوعیت، ان کی مقدار، آلودگی کے دورانیے اور متعلقہ فرد کی صحت پر ہوتا ہے۔
بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور پہلے سے سانس یا دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد فضائی آلودگی سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، صحت مند افراد کو بھی شدید آلودگی کے دوران کھانسی، گلے میں خراش یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو سکتی ہے۔
سموگ کے دنوں میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر زیادہ آلودہ مقامات پر وقت گزارنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر بیرونی سرگرمیوں کے دوران آنکھوں میں جلن، کھانسی یا سانس کی تکلیف بڑھنے لگے تو ایسی سرگرمیوں کو محدود کرنا مناسب ہے۔
سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور تجویز کردہ ادویات یا علاج میں خود سے تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر سانس لینے میں شدید دشواری، سینے میں درد یا دیگر سنگین علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماسک، یخنی اور گرم مشروبات سے متعلق طبی احتیاط
ڈاکٹروں نے شہریوں کو سموگ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ماسک پہننے اور گرم مشروبات، سوپ، یخنی اور چائے استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
آلودہ فضا میں باہر نکلتے وقت مناسب حفاظتی ماسک باریک ذرات کی زد میں آنے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، بشرطیکہ ماسک متعلقہ ذرات کے لیے مؤثر ہو اور چہرے پر مناسب طریقے سے فٹ ہو۔ عام کپڑے کے ماسک اور باریک ذرات کو فلٹر کرنے کے لیے بنائے گئے ماسک کی کارکردگی میں فرق ہوتا ہے۔
گرم مشروبات اور یخنی گلے کی خراش میں عارضی سکون اور جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن انہیں فضائی آلودگی سے تحفظ کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مشروبات کے استعمال سے سموگ کے مضر اثرات ختم ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
بنیادی احتیاط یہ ہے کہ آلودہ فضا میں غیر ضروری وقت گزارنے سے گریز کیا جائے، مقامی فضائی معیار سے باخبر رہا جائے اور شدید آلودگی کے دوران بیرونی جسمانی سرگرمیوں کو محدود رکھا جائے۔
گھروں اور کام کی جگہوں پر دھوئیں کے مزید ذرائع پیدا کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو کھڑکیوں اور دروازوں کو ایسے اوقات میں بند رکھا جائے جب باہر کی آلودگی زیادہ ہو، جبکہ اندرونی ہوا کے معیار کو بہتر رکھنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔
کیا بارش سموگ کا مسئلہ حل کر سکتی ہے؟
سموگ کی شدت بڑھنے کے ساتھ متعلقہ محکموں کے حکام کی جانب سے موسلادھار بارش کے لیے دعائیں کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق محکمہ زراعت اگلے جمعہ کو نمازِ استسقاء کا اہتمام کرے گا۔
بارش بعض حالات میں فضا میں موجود ذرات کو زمین پر گرانے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے فضائی آلودگی کی سطح میں عارضی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم، بارش کا اثر اس کی شدت، دورانیے، ہوا کی رفتار اور آلودگی کے مسلسل اخراج جیسے عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر بارش کے بعد بھی گاڑیوں، صنعتی یونٹس، بھٹوں، فصلوں کی باقیات اور کچرے کو جلانے سے آلودگی پیدا ہوتی رہے تو فضائی معیار دوبارہ خراب ہو سکتا ہے۔
اس لیے بارش کو سموگ کے مستقل حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اس کے بنیادی ذرائع کو کم کرنا، ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا اور فضائی معیار کی مسلسل نگرانی کرنا ضروری ہے۔
نمازِ استسقاء اور بارش کے لیے دعا مذہبی و روحانی عمل ہے، تاہم ماحولیاتی مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتظامی، سائنسی اور عملی اقدامات بھی اپنی جگہ ناگزیر ہیں۔
پنجاب میں سموگ پر قابو پانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
پنجاب میں فضائی آلودگی کی موجودہ صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ سموگ کے خلاف اقدامات کو صرف چند ہفتوں کی مہم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں مستقل ماحولیاتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
سب سے پہلے فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع کی نشاندہی مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔ مختلف شہروں میں آلودگی کی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے ہر علاقے کے لیے مقامی حالات کے مطابق حکمتِ عملی تیار کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں ٹریفک، صنعتی اخراج، تعمیراتی گردوغبار اور دیگر شہری سرگرمیوں کا جائزہ اہم ہے، جبکہ زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات کی نگرانی اور متبادل زرعی طریقوں کی فراہمی کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
صنعتی علاقوں میں اخراج کی باقاعدہ جانچ اور ماحولیاتی معیار پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔ اسی طرح اینٹوں کے بھٹوں اور پتھر کچلنے والے پلانٹس کے لیے مؤثر ماحولیاتی انتظامات کی پابندی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسرا اہم قدم ماحولیاتی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اگر کسی شہر یا علاقے میں آلودگی کی سطح اچانک بڑھتی ہے تو متعلقہ اداروں کو اس کے ممکنہ اسباب کی نشاندہی اور ضروری کارروائی کے لیے بروقت معلومات دستیاب ہونی چاہییں۔
اس ضمن میں ڈرون نظام، فضائی معیار ناپنے والے آلات اور زمینی معائنے ایک دوسرے کی معاونت کر سکتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی ٹیکنالوجی کی افادیت کا اندازہ اس کی عملی کارکردگی اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج سے لگایا جانا چاہیے۔
تیسرا اہم پہلو شہریوں کی آگاہی ہے۔ سموگ کے موسم سے پہلے تعلیمی اداروں، صنعتی علاقوں، زرعی برادریوں اور شہری آبادیوں میں آگاہی مہمات چلائی جانی چاہییں تاکہ لوگ آلودگی کے اسباب اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے واقف ہو سکیں۔
چوتھا پہلو فضلے کو سائنسی طریقوں سے ٹھکانے لگانے کا نظام ہے۔ پرانے ٹائروں، پلاسٹک، صنعتی فضلے اور دیگر ناقابلِ استعمال مواد کو کھلے مقامات پر جلانے سے روکنے کے لیے جمع آوری، ری سائیکلنگ اور محفوظ تلفی کے انتظامات بہتر بنانا ضروری ہے۔
پانچواں پہلو اداروں کے درمیان رابطہ ہے۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات، محکمہ زراعت، ٹرانسپورٹ حکام، ضلعی انتظامیہ اور صنعتی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کے بغیر مسئلے کے تمام پہلوؤں پر بیک وقت کام کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
حکومتی کارروائیوں کے نتائج جانچنا کیوں ضروری ہے؟
فضائی آلودگی کے خلاف کسی بھی مہم کی کامیابی کا اندازہ صرف جاری کیے گئے احکامات، کیے گئے چالان یا سیل کیے گئے یونٹس کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان اقدامات کے نتیجے میں آلودگی کے اخراج میں کمی آئی اور شہریوں کے لیے فضائی معیار بہتر ہوا یا نہیں۔
اس مقصد کے لیے مختلف علاقوں میں فضائی معیار کے اعداد و شمار کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر کسی صنعتی علاقے میں متعدد یونٹس سیل کیے جائیں تو اس سے پہلے اور بعد کے فضائی معیار کا تقابل آلودگی کے ممکنہ ذرائع کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اسی طرح گاڑیوں کی ضبطی اور جرمانوں کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی تعداد میں کمی آئی یا نہیں۔ اگر کوئی کارروائی وقتی طور پر مؤثر ثابت ہو لیکن کچھ عرصے بعد صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو جائے تو اس کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہیے۔
ڈرون نظام کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اس کی کارکردگی کو صرف اس بنیاد پر نہیں جانچنا چاہیے کہ کتنی پروازیں کی گئیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کتنے آلودگی پھیلانے والے مقامات کی نشاندہی ہوئی، کتنے معاملات کی تصدیق کی گئی اور ان کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے۔
شفاف نگرانی اور نتائج کی بنیاد پر پالیسی میں بہتری لانے سے حکومتی اقدامات کی افادیت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ عوام کو بھی یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کس حد تک کامیاب ہو رہے ہیں۔
شہریوں اور کاروباری اداروں کی ذمہ داری
فضائی آلودگی پر قابو پانا صرف حکومت یا متعلقہ محکموں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں، کاروباری اداروں، کسانوں اور صنعت کاروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
شہری اپنی گاڑیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کریں، غیر ضروری طور پر دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کا استعمال نہ کریں اور کچرا کھلے مقامات پر جلانے سے گریز کریں۔ اگر کسی علاقے میں بڑے پیمانے پر دھواں یا آلودگی پھیلانے والی سرگرمی جاری ہو تو متعلقہ اداروں کو اس بارے میں اطلاع دینا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے صنعتی اخراج اور فضلے کے انتظامات کو ماحولیاتی تقاضوں کے مطابق بنائیں۔ محض جرمانے سے بچنے کے لیے وقتی اقدامات کرنے کے بجائے ایسی تبدیلیاں لانا ضروری ہے جو مستقل طور پر آلودگی کم کر سکیں۔
کسانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل طریقوں کے بارے میں رہنمائی حاصل کریں۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ زرعی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ کسانوں کو عملی اور معاشی طور پر قابلِ عمل حل فراہم کریں۔
تعلیمی ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی بھی عوامی آگاہی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر شہریوں کو یہ سمجھ آ جائے کہ فضائی آلودگی کے کون سے ذرائع ان کے اپنے ماحول میں موجود ہیں اور وہ کس طرح ان میں کمی لا سکتے ہیں تو اجتماعی سطح پر بہتری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
سموگ کے خلاف مستقل اور مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر
پنجاب میں سموگ کے موسم کے آغاز پر مختلف شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی بلند سطح، صنعتی اور ٹرانسپورٹ کے اخراج، فصلوں کی باقیات جلانے اور کچرے کو غیر محفوظ طریقوں سے تلف کرنے کے مسائل نے ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس کا 253 سے تجاوز کرنا اور بعض علاقوں میں اس کا 419 تک پہنچنا، ننکانہ صاحب میں 371، فیصل آباد میں 290، گوجرانوالہ میں 255 اور ملتان میں 296 کی سطح رپورٹ ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتِ حال سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔
راولپنڈی میں 49 دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی ضبطی اور چھ لاکھ روپے کے جرمانے، اینٹوں کے 21 بھٹوں اور پانچ پتھر کچلنے والے پلانٹس کی بندش، جبکہ پنجاب بھر میں 15 نومبر سے 15 دسمبر تک اینٹوں کے بھٹے بند رکھنے کا فیصلہ انتظامی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم، ڈرون کے ذریعے نگرانی کے نظام کی ناکامی اور جرمانوں کے باوجود آلودگی پر قابو پانے میں مشکلات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ موجودہ اقدامات کا مؤثر جائزہ لینا ضروری ہے۔ فضائی آلودگی کے خلاف کامیابی کے لیے صرف کارروائیوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ آلودگی کے اخراج میں حقیقی اور مستقل کمی لانا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے گاڑیوں اور صنعتی یونٹس کے اخراج کو کنٹرول کرنے، فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل فراہم کرنے، کچرے اور ناکارہ ٹائروں کی محفوظ تلفی، ماحولیاتی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے پر یکساں توجہ دینا ہو گی۔
سموگ محض موسمی دھند نہیں بلکہ ایک ایسا ماحولیاتی مسئلہ ہے جس کے اثرات انسانی صحت، شہری زندگی اور ماحول پر مرتب ہوتے ہیں۔ بارش سے عارضی طور پر فضائی معیار بہتر ہو سکتا ہے، لیکن مستقل حل اسی وقت ممکن ہے جب آلودگی پیدا کرنے والے عوامل پر مؤثر اور مسلسل قابو پایا جائے۔
پنجاب کے شہریوں کو صاف فضا کی فراہمی کے لیے حکومت، متعلقہ محکموں، صنعت کاروں، کسانوں اور عوام کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ ماحولیاتی قوانین پر یکساں عمل درآمد، جدید نگرانی کے نظام کی مؤثر کارکردگی اور سائنسی بنیادوں پر مرتب کردہ پالیسی ہی سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔



