
جرمنی کے ہمسایہ اور یورپی یونین کے رکن ملک بیلجیم میں ملکی بجٹ سے متعلق مذاکرات پیر کو علی الصبح ناکام ہو جانے کے بعد وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے اس آئینی بادشاہت کے سربراہ فیلیپے کو اپنے استعفے کی پیشکش کر دی ہے۔
برسلز میں بیلجیم کے شاہی محل کی طرف سے پیر دو نومبر کے روز بتایا گیا کہ وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے بادشاہ فیلیپے کو اپنے استعفے کی پیشکش تو کر دی ہے، تاہم بادشاہ فیلیپے نے ان کو فی الحال ملکی حکومت کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہنے کے لیے کہا ہے۔
شاہی محل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم کے استعفے کی پیشکش کے بعد بادشاہ فیلیپے اس بارے میں فوری طور پر کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔

برسلز میں اس وقت جو مخلوط ملکی حکومت اقتدار میں ہے، بادشاہ فیلیپے کل منگل تین نومبر کو اس میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملیں گے۔ اس ملاقات کے نتائج کی روشنی میں بادشاہ رواں ہفتے جمعے کے دن دوبارہ وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور سے ملیں گے۔
شاہی محل کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، ’’بادشاہ کو اس بات پر افسوس ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت میں اس قابل اعتبار قومی بجٹ سے متعلق مذاکرات میں کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس پر عمل کرتے ہوئے ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔‘‘
ساتھ ہی شاہی محل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’اس واضح جیو پولیٹیکل بے یقینی کی موجودگی میں، جو اس وقت پائی جاتی ہے، اور ان بڑے اقتصادی چیلنجز کی موجودگی میں بھی، جن کا بیلجیم کو اس وقت سامنا ہے، ہمارا ملک کسی طویل سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘

بیلجیم کو اپنے ذمے عوامی قرضوں اور بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کے لیے 2029ء تک 10 بلین یورو (11.2 بلین ڈالر) کے ایک بچتی پیکج کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی موجودہ مخلوط حکومت کو ابھی 2027ء کے لیے وفاقی بجٹ کی منظوری بھی دینا ہے، تاہم اس بارے میں مخلوط حکومت کے وزراء کے ایک مرکزی گروپ کی اتوار اور پیر کی درمیانی شب صبح سویرے تک جاری رہنے والی بات چیت میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔
قدامت پسند نیشنلسٹ وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور ایک ایسی پانچ جماعتی مخلوط حکومت کے سربراہ ہیں، جس میں دائیں بازو سے لے کر بائیں بازو تک کی متنوع سوچ کی حامل سیاسی پارٹیاں شامل ہیں۔



