
پیغامِ اقبالؒ اور ہم……..علی عباس کاظمی
انہیں اس بات کا احساس تھا کہ قومیں صرف وسائل کی کمی سے تباہ نہیں ہوتیں، ان کی اصل کمزوری اس وقت شروع ہوتی ہے
ہم علامہ اقبالؒؒ کو اپنا قومی شاعر کہتے ہیں، ان کے افکار پر فخر کرتے ہیں اور ان کے اشعار سے اپنی تقریروں کو سجاتے ہیں، لیکن ہماری عملی زندگی ان کی تعلیمات سے کس قدر ہم آہنگ ہے؟ ہمارے ہاں علامہ اقبالؒ کی پذیرائی تو بہت ہے، مگر ان کی فکر سے وابستگی کا فقدان نمایاں ہے۔ ان کا نام ہر تعلیمی تقریب، ادبی محفل، سیاسی تقریر اور قومی دن کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے اشعار بڑے جوش سے پڑھے جاتے ہیں، ان کی عظمت کے قصیدے لکھے جاتے ہیں اور ان کے افکار پر عقیدت کے پھول نچھاور کیے جاتے ہیں، لیکن ہماری اجتماعی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ جس خودی کا علامہ اقبالؒ نے درس دیا، ہم اس سے ناواقف ہیں۔ جس خودداری کی تلقین کی، ہم نے اسے مفاد کے ہاتھوں گروی رکھ دیا۔ جس عمل کو زندگی کی بنیاد قرار دیا، ہم نے اس کی جگہ خواہشات، دعووں اور تقریروں کو دے دی۔ آخر یہ کیسی عقیدت ہے جو انسان کے خیالات، کردار اور طرزِ زندگی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتی؟علامہ اقبالؒ کو سمجھنے کے لیے محض ان کے چند مشہور اشعار یاد کر لینا کافی نہیں۔ وہ ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے اپنے عہد کے سیاسی، معاشرتی، مذہبی اور تہذیبی مسائل کا گہرا مطالعہ کیا۔ ان کی شاعری محض جذبات کی ترجمانی نہیں بلکہ ایک فکری دعوت تھی۔ وہ انسان کو اپنی بے عملی، ذہنی غلامی اور احساسِ کمتری سے نکالنا چاہتے تھے۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ قومیں صرف وسائل کی کمی سے تباہ نہیں ہوتیں، ان کی اصل کمزوری اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ سوچنے، سوال کرنے اور اپنے حالات بدلنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں یہی کمزوری مختلف شکلوں میں دکھائی دیتی ہے۔ ہم مسائل پر گفتگو بہت کرتے ہیں، مگر ان کی وجوہات تک پہنچنے کی زحمت کم ہی اٹھاتے ہیں۔ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے میں دیر نہیں لگاتے، لیکن اپنی ذمہ داری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
علامہ اقبالؒ کی سیاسی بصیرت کا ایک نمایاں پہلو برصغیر کے مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں ان کا تصور تھا۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں مسلمانوں کے لیے الگ سیاسی تشخص اور خودمختار خطے کی ضرورت پر آواز اٹھائی جب یہ خیال ابھی عملی سیاست میں پوری طرح جگہ نہیں بنا پایا تھا۔ لیکن ان کی عظمت صرف ایک سیاسی تصور پیش کرنے میں نہیں تھی بلکہ وہ اس تصور کو عملی شکل دینے کے لیے موزوں قیادت کی اہمیت بھی سمجھتے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی صلاحیتوں پر ان کا اعتماد اس بات کا ثبوت تھا کہ علامہ اقبالؒ ذاتی شہرت کے بجائے اجتماعی مقصد کو اہمیت دیتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہر شخص ہر ذمہ داری کے لیے موزوں نہیں ہوتا اور کامیابی کے لیے صلاحیت کی درست پہچان ضروری ہے۔ آج ہمارے سیاسی اور سماجی ماحول میں اس رویے کی شدید کمی ہے۔ ہم اہلیت سے زیادہ وابستگی، دیانت سے زیادہ تعلقات اور قابلیت سے زیادہ خوشامد کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہاں قابل آدمی کو آگے بڑھانے کے بجائے اکثر اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ جب کسی معاشرے میں صلاحیت کے بجائے سفارش ترقی کا معیار بن جائے تو زوال کسی بیرونی سازش کا محتاج نہیں رہتا۔علامہ اقبالؒ کا تصورِ خودی ہماری فکری زندگی کا بنیادی ستون ہے، لیکن ہم نے اس تصور کو بھی اپنی سہولت کے مطابق سمجھ لیا ہے۔ خودی کو بعض لوگوں نے غرور، ضد اور اپنی ذات کی برتری کا نام دے دیا، حالانکہ علامہ اقبالؒ کی خودی انسان کو اپنی صلاحیتوں کی پہچان، کردار کی مضبوطی اور مقصد کے لیے جدوجہد کا شعور دیتی ہے۔ خودی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرے، دوسروں کے سامنے حق بات کہنے کی جرأت رکھے اور اپنے مفادات کے لیے اصولوں کا سودا نہ کرے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس اپنی انا کی حفاظت کو غیرت اور دوسروں کو نیچا دکھانے کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔ جو شخص اپنی غلطی تسلیم کر لے اسے کمزور سمجھا جاتا ہے اور جو اپنی رائے پر نظرثانی کرے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے پھر گیا۔ ایسے ماحول میں خودی کی تعمیر کیسے ممکن ہے جہاں انسان اپنی اصلاح کے بجائے اپنی برتری ثابت کرنے میں پوری توانائی صرف کر دے؟
علامہ اقبالؒ مغربی تہذیب کے اندھے مقلد نہیں تھے اور نہ ہی جدید علم و ترقی کے مخالف۔ ان کا اعتراض اس ذہنیت پر تھا جو مادی کامیابی کو انسانی زندگی کا واحد پیمانہ بنا دیتی ہے۔ وہ مغرب کے علمی عروج، سائنسی تحقیق اور تنظیمی صلاحیت سے واقف تھے، لیکن اس تہذیب کے ان پہلوؤں پر تنقید کرتے تھے جہاں اخلاقی اقدار، روحانی ضروریات اور انسانی ذمہ داریاں مادی مفادات کے تابع ہو جائیں۔ آج ہمارا رویہ اس سے بھی زیادہ متضاد ہے۔ ہم مغرب کی ٹیکنالوجی، سہولتیں اور طرزِ زندگی تو اختیار کرنا چاہتے ہیں، لیکن علم، تحقیق، وقت کی پابندی، قانون کی پاسداری اور ادارہ جاتی نظم جیسی بنیادی خوبیاں اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ ہم ترقی یافتہ معاشروں جیسا معیارِ زندگی چاہتے ہیں مگر ان جیسی محنت اور اجتماعی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ جب تک سوچ کا معیار بلند نہیں ہوگا، ظاہری ترقی اندرونی کھوکھلے پن کو نہیں چھپا سکے گی۔علامہ اقبالؒ کے نزدیک عشق ایک ایسی قوت تھا جو انسان کو مقصد سے وابستہ رکھتی، اس کے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کرتی اور اسے مشکلات کے سامنے ثابت قدم بناتی ہے۔ ان کی رسول اکرم ﷺ سے محبت ان کی فکری اور روحانی زندگی کا مرکزی حوالہ تھی۔ وہ امت مسلمہ کو محض ماضی کی عظمت یاد دلانے کے لیے بے چین نہیں تھے بلکہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے کردار اور عمل سے اسلامی تعلیمات کی حقیقی تصویر پیش کریں۔ مگر ہمارے ہاں مذہبی وابستگی کا اظہار اکثر ظاہری مظاہر تک محدود ہو جاتا ہے۔ ہم اخلاقی تعلیمات پر گفتگو تو کرتے ہیں لیکن کاروبار میں دیانت، معاملات میں انصاف، اختلاف میں برداشت اور کمزور کے ساتھ حسنِ سلوک کو وہ اہمیت نہیں دیتے جس کا تقاضا ہمارا دین کرتا ہے۔ ہم مذہب کو دوسروں کے کردار کا جائزہ لینے کا پیمانہ تو بناتے ہیں، مگر اپنی زندگی کو اس پیمانے پر پرکھنے سے کتراتے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جو مذہبی معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔
علامہ اقبالؒ نے ادب کو محض تفریح، لفظی خوب صورتی اور داد و تحسین کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کے نزدیک شاعر اپنے عہد کے شعور کو بیدار کرنے کی ذمہ داری بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے شاہین کو بلند پروازی، خودداری اور آزادی کی علامت بنایا۔ ان کا پیغام نوجوانوں کو آرام طلبی سے نکال کر جدوجہد کی طرف بلاتا تھا۔ لیکن ہم نے نوجوان نسل کو علامہ اقبالؒ کے اشعار تو پڑھائے، ان کے پیچھے چھپے فکری مطالبات سمجھانے کا اہتمام نہیں کیا۔جس نوجوان کو اپنے معاشرے کے مسائل پر سوچنے کی تربیت ہی نہ دی جائے، اس سے تخلیقی قیادت کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے علامہ اقبالؒ کو مختلف نظریاتی خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ کوئی انہیں صرف مذہبی شاعر سمجھتا ہے، کوئی قومی شاعر، کوئی فلسفی اور کوئی اپنے سیاسی نظریے کا ترجمان۔ ہر شخص ان کے کلام سے اپنی پسند کا مفہوم نکال کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ یہ رویہ کسی مفکر کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنے مفاد کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ علامہ اقبالؒ کے افکار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی تشریح پر علمی بحث بھی ہو سکتی ہے، مگر ان کے مکمل فکری نظام کو نظر انداز کرکے چند اشعار کی بنیاد پر ان کی شخصیت کا فیصلہ کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ زندہ معاشروں میں بڑے مفکرین پر تحقیق ہوتی ہے، ان کے خیالات کو نئے زمانے کے سوالات کے سامنے رکھا جاتا ہے اور ان سے مکالمہ کیا جاتا ہے۔ شخصیت پرستی میں سوال کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے، جبکہ علم کی ابتدا ہی سوال سے ہوتی ہے۔علامہ اقبالؒ کے کلام کا ایک بڑا حصہ فارسی زبان میں ہے، مگر ہماری نئی نسل کا فارسی سے تعلق تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اردو کلام بھی مکمل مطالعے کے بجائے چند مشہور اشعار، سوشل میڈیا پوسٹوں اور تقریری حوالوں تک محدود ہو رہا ہے۔ اس سے زیادہ افسوس ناک بات کیا ہوگی کہ ہم اپنے عظیم مفکر کے نام پر فخر کرتے ہیں لیکن اس کی فکر تک پہنچنے کے لیے بنیادی علمی محنت کرنے کو تیار نہیں۔ دنیا کے مختلف علمی حلقوں میں علامہ اقبالؒ کے فلسفے اور شاعری پر تحقیق ہو رہی ہے، ان کے کلام کے تراجم کیے جا رہے ہیں اور ان کے افکار کو نئے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں مطالعے کی عادت کمزور پڑ رہی ہے۔ کتاب سے دوری صرف ادبی نقصان نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت سے محرومی بھی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ علامہ اقبالؒ کی عظمت کا اعتراف کرنے سے ہماری اپنی فکری حیثیت بلند نہیں ہو جاتی۔ کسی بڑے مفکر کا نام اپنے ساتھ جوڑ لینا آسان ہے، اس کے خیالات کی روشنی میں اپنے کردار کا محاسبہ کرنا مشکل۔ علامہ اقبالؒ کو نصاب میں شامل رکھنا ضروری ہے مگر ان کے مطالعے کو امتحانی ضرورت تک محدود رکھنا نقصان دہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں ان کے افکار پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، ادبی حلقوں میں ان کے کلام کی گہری تشریح ہونی چاہیے اور نئی نسل کو یہ سمجھانا چاہیے کہ خودی، عمل، عشق اور آزادی محض شعری اصطلاحات نہیں بلکہ زندگی کے عملی اصول ہیں۔علامہ اقبالؒ کو زندہ رکھنے کے لیے ہر سال ان کے نام پر تقریبات منعقد کرنا کافی نہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں دیانت، اپنے فیصلوں میں بصیرت، اپنی تعلیم میں تحقیق اور اپنے معاشرے میں انصاف کو جگہ دینا ہوگی۔ ہمیں یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ کسی قابل انسان کی حوصلہ افزائی کیسے کی جاتی ہے، اختلاف کو دشمنی بنائے بغیر مکالمہ کیسے کیا جاتا ہے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی خواہشات پر ترجیح کیسے دی جاتی ہے۔ یہی وہ عملی تبدیلیاں ہیں جن کے بغیر علامہ اقبالؒ کا پیغام ہماری زندگیوں میں بے اثر رہے گا۔علامہ اقبالؒ ہم سے چھینے نہیں جا سکتے، لیکن ہم انہیں خود سے دور ضرور کر سکتے ہیں۔ قومیں اپنے عظیم لوگوں کو صرف اس وقت کھوتی ہیں جب ان کے افکار کتابوں میں محفوظ اور زندگیوں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ہم کب تک علامہ اقبالؒ کے اشعار پڑھ کر اپنے آپ کو بیدار قوم سمجھتے رہیں گے، جب کہ ہمارے فیصلے، ترجیحات اور اجتماعی رویے مسلسل غفلت کی گواہی دے رہے ہیں؟ علامہ اقبالؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے معتبر طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے سامنے اپنی اجتماعی زندگی کا آئینہ رکھیں۔ شاید اس آئینے میں ہمیں علامہ اقبالؒ کی عظمت سے زیادہ اپنی فکری پستی دکھائی دے۔۔۔اور یہی احساس کسی حقیقی تبدیلی کا پہلا قدم بن سکتا ہے۔



