
پاک چین تعلقات میں نئی پیش رفت، سیاسی و عسکری قیادت کا اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار لیو ہائیکسنگ کی وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں، سیاسی و ادارہ جاتی روابط بڑھانے پر زور، دونوں ممالک نے دیرینہ دوستی اور ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کردیا
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز) چین نے پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سیاسی، سفارتی اور ادارہ جاتی روابط میں وسعت دینے پر زور دیا ہے، جبکہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو قومی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی محکمہ کے وزیر لیو ہائیکسنگ نے اپنے تین روزہ دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین تعلقات کی موجودہ صورتحال، سیاسی و عسکری تعاون، علاقائی اور عالمی سلامتی کے معاملات، اقتصادی شراکت داری اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی عہدیدار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے طویل عرصے سے چین کے ساتھ دوستی کی حمایت کی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک مضبوط اور پائیدار سیاسی بنیاد میسر آئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے درمیان براہ راست تبادلوں اور ادارہ جاتی تعاون کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی پاک چین دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے پاک چین تعلقات کو آہنی، وقت کی آزمائش پر پورا اترنے والی اور ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ باہمی اعتماد، احترام اور دونوں اقوام کے درمیان گہرے عوامی روابط پر استوار ہے۔
وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مستقل سیاسی رابطے اور سیاسی جماعتوں کی سطح پر تبادلوں کا تسلسل دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے درمیان تعاون کو وسعت دینے میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی محکمہ کے کردار کو بھی سراہا۔
شہباز شریف نے چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زرعی شعبے کی جدید کاری میں مشترکہ کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔
انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاک چین اقتصادی اور تجارتی تعاون کے نئے مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ کرسکتے ہیں بلکہ خطے میں معاشی ترقی، رابطوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات بھی پیدا کرسکتے ہیں۔
چین کا پاکستان کے ساتھ سیاسی اور جماعتی روابط بڑھانے پر زور
ملاقات کے دوران لیو ہائیکسنگ نے چینی قیادت کی جانب سے پاکستان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے اعلیٰ سطحی رابطوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تبادلوں کے تسلسل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے روابط دونوں ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعلقات کی مضبوط بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
لیو ہائیکسنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین پاکستان کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان تجربات کے تبادلے، پالیسی سطح پر روابط اور حکمرانی کے معاملات میں تعاون مستقبل کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
دونوں فریقوں نے ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی مشاورت اور رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وفد کے اعزاز میں خصوصی ضیافت کا بھی اہتمام کیا، جس میں پاک چین دوستی اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں اہم ملاقات
وزیراعظم سے ملاقات سے قبل چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار لیو ہائیکسنگ نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں ان کی چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی، مضبوط اور وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترنے والے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل، مضبوط ادارہ جاتی تعلقات اور مختلف شعبوں میں وسیع تر تعاون پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
ملاقات میں علاقائی امن و استحکام، سلامتی کے نئے چیلنجز اور بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں باہمی مشاورت اور تعاون کی اہمیت بھی زیر بحث آئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لیو ہائیکسنگ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف نے ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال، تعاون کے نئے امکانات
لیو ہائیکسنگ کا تین روزہ دورہ پاکستان ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کا سنگ میل منا رہے ہیں۔
گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں کے دوران پاکستان اور چین کے تعلقات نے سیاسی، سفارتی، اقتصادی، دفاعی اور علاقائی تعاون سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں وسعت اختیار کی ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف علاقائی اور عالمی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت اور تعاون کی روایت برقرار رکھی ہے۔
اس تناظر میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار کا دورہ پاکستان محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ بھی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط، اعلیٰ سطحی قیادت کے تبادلے اور حکومتی اداروں کے درمیان تعاون کو مستقبل میں پاک چین شراکت داری کے اہم پہلوؤں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چینی طرز حکمرانی سے پاکستان کے لیے اہم اسباق، اسحاق ڈار کا اظہار خیال
دوسری جانب اسلام آباد میں چینی صدر شی جن پنگ کے پارٹی کی تعمیر اور حکمرانی سے متعلق نظریات پر منعقدہ اعلیٰ سطحی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کا ادارہ جاتی نظم و ضبط، تنظیمی صلاحیت، احتساب اور عوام پر مبنی طرز حکمرانی کا تجربہ پاکستان کے لیے اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے چینی صدر شی جن پنگ کی فکری خدمات اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے تنظیمی و انتظامی تجربات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے پارٹی کی تعمیر، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور مؤثر حکمرانی کے اصولوں کو عملی ترقی اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چینی قیادت کے اس تجربے اور حکمرانی کے ماڈل کا مطالعہ کرتا ہے اور اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اداروں کی مضبوطی، تنظیمی صلاحیت، احتساب اور عوامی فلاح کو ترجیح دینا ترقی کے لیے اہم عوامل ہیں۔
نائب وزیراعظم کے مطابق چین کی ترقی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا نظم و ضبط، تنظیمی استعداد، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور عوام پر مبنی حکمرانی کا نظام اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے چین کی غربت کے خاتمے کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل اور طویل المدتی پالیسی اقدامات کے ذریعے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنا ایک تاریخی کامیابی ہے، جس نے عالمی سطح پر غربت میں کمی کی کوششوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ چین نے معتدل خوشحال معاشرے کی تعمیر کا اپنا پہلا صد سالہ ہدف حاصل کیا اور اب ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے دوسرے صد سالہ ہدف کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔
پاکستان کے لیے ادارہ جاتی مضبوطی اور معاشی انتظام میں تعاون کی اہمیت
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان چین کے ساتھ حکمرانی اور انتظامی تجربات کے تبادلے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بالخصوص قیادت کی تربیت، ادارہ جاتی استعداد میں اضافے، معاشی انتظام، ترقیاتی منصوبہ بندی اور عوامی فلاح کے شعبوں میں چین کا تجربہ پاکستان کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے مضبوط ادارے، مؤثر انتظامی ڈھانچہ، واضح پالیسی ترجیحات اور طویل المدتی منصوبہ بندی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان اس نوعیت کے تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کے تعاون کو روایتی سفارتی اور اقتصادی تعلقات سے آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
پاک چین تعلقات کا مستقبل اور علاقائی اہمیت
تجزیاتی اعتبار سے لیو ہائیکسنگ کے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اور چین اپنے تعلقات کو صرف روایتی سفارتی دوستی تک محدود رکھنے کے بجائے سیاسی، ادارہ جاتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک سطح پر مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط کا فروغ، حکومتی اداروں کے تجربات کا تبادلہ، دفاعی اور سلامتی کے معاملات میں مشاورت اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی تلاش مستقبل کے تعاون کے اہم شعبے ہیں۔
پاکستان کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، زرعی جدید کاری اور علاقائی رابطوں کے تناظر میں بھی نمایاں ہے، جبکہ چین کے لیے پاکستان جنوبی ایشیا اور خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار کا دورہ اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ دونوں جانب سے سیاسی و ادارہ جاتی روابط بڑھانے، باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ اس بات کا مظہر ہے کہ اسلام آباد اور بیجنگ اپنی دیرینہ دوستی کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے خواہاں ہیں۔



