
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)
پاکستان کی معدنیاتی ترقی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے پیر کے روز پاکستان اور امریکہ کے درمیان معدنیات کے شعبے میں دو اہم معاہدوں پر دستخط ہو گئے۔ ان معاہدوں کے تحت نہ صرف پاکستان میں پولی مٹیلک ریفائنری قائم کی جائے گی بلکہ ابتدائی مرحلے میں 50 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
یہ معاہدے پاکستان کے معدنیات کے شعبے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح ملاقات، اہم شخصیات کی شرکت
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ معاہدے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران طے پائے۔
اس موقع پر امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کے اعلیٰ سطحی وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں یونائیٹڈ اسٹیٹس اسٹریٹیجک میٹلز اور موٹا-انجل کمپنی کے نمائندگان شامل تھے۔
ملاقات میں پاکستان کی عسکری قیادت اور اقتصادی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ، وزیر تجارت، اور وزیر پیٹرولیم بھی شریک ہوئے۔
پاکستان کے معدنی ذخائر پر تفصیلی بریفنگ
امریکی وفد کو پاکستان میں موجود سونے، کاپر، ٹنگسٹن، اور ریئر ارتھ منرلز کے وسیع و بیش قیمت ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ملاقات کے دوران پاکستان میں معدنیات کی تلاش، پراسیسنگ، اور برآمدات کے سلسلے میں موجود مواقع کو اجاگر کیا گیا۔
وفد نے پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں طویل المدتی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں شمولیت کی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
دو اہم معاہدے طے پا گئے – ریفائنری اور برآمدات کی راہیں ہموار
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو اہم معاہدے ہوئے ہیں:
پہلا معاہدہ یونائیٹڈ اسٹیٹس اسٹریٹیجک میٹلز اور ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) کے مابین ہوا، جس کے تحت دفاع، ٹیکنالوجی اور ایئروسپیس انڈسٹری سے متعلقہ معدنیات کی تلاش اور پراسیسنگ کی جائے گی۔
دوسرا معاہدہ یونائیٹڈ اسٹیٹس اسٹریٹیجک میٹلز کی جانب سے پاکستان میں پولی مٹیلک ریفائنری کے قیام سے متعلق ہے، جو امریکی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائے گی۔
اس ریفائنری کے قیام سے پاکستان نہ صرف مقامی سطح پر معدنیات کی پراسیسنگ کر سکے گا بلکہ عالمی منڈیوں، خصوصاً امریکہ، کو اعلیٰ معیار کے معدنیاتی پراڈکٹس برآمد بھی کر سکے گا۔
برآمدات کا آغاز اور نئی سرمایہ کاری کی راہیں
معاہدے کے تحت پاکستان فوری طور پر امریکہ کو کاپر، سونا، ٹنگسٹن، اور ریئر ارتھ منرلز برآمد کرنا شروع کرے گا۔
یہ ایک ایسا اقدام ہے جو نہ صرف پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرے گا بلکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی مستحکم کرے گا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت 500 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان لائی جائے گی، جو ملک کی معدنیاتی و صنعتی ترقی میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈیجیٹل فریم ورک، جدید ٹیکنالوجی اور مقامی ترقی کا سنگم
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان معاہدوں کے ذریعے پاکستان میں معدنیات کی تلاش و ترقی کو ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت انجام دیا جائے گا، جس میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالسز، اور ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی ترجیح حاصل ہو گی۔
مزید یہ کہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار، ٹیکنیکل تربیت، اور ہنرمندی کے مواقع پیدا ہوں گے، جو ملکی انسانی وسائل کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
دوسرا معاہدہ: این ایل سی اور موٹا-انجل کے درمیان اشتراک
اسی ملاقات کے دوران نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) اور موٹا-انجل کمپنی کے درمیان بھی ایک اہم معاہدہ طے پایا، جس کے تحت معدنیات کی نقل و حمل، ترسیل، اور لاجسٹک سپورٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اشتراک کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدوں کو سراہتے ہوئے کہا:
"یہ معاہدے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔ معدنیات کے شعبے کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے سے پاکستان اپنے قدرتی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال میں لا سکے گا، اور نوجوان نسل کے لیے روزگار و خوشحالی کے نئے در کھلیں گے۔”
انہوں نے امریکی وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نئی جہت
اعلامیے کے مطابق ان معاہدوں سے نہ صرف اقتصادی اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات بھی ایک نئی، مضبوط اور بامقصد جہت اختیار کریں گے۔
دونوں ممالک کے عوام کو معاشی استحکام، روزگار، اور ٹیکنالوجی کے تبادلوں کی صورت میں براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
خلاصہ: معدنی ترقی کی جانب عملی پیش رفت
پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں کی جانے والی یہ سرمایہ کاری نہ صرف وسائل کے مؤثر استعمال کی ضامن ہے بلکہ یہ ملک کو معاشی خودمختاری، برآمدات کے فروغ، اور عالمی سطح پر صنعتی رابطوں میں ایک نئی قوت عطا کرے گی۔





