
اسلام آباد،رپورٹ وائس آف جرمنی:
پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی فراڈز میں سے ایک "بی فور یو” (B4U) سکینڈل نے لاکھوں پاکستانیوں کی جمع پونجی ڈبو دی، ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے اور ملک کے احتسابی نظام کو ایک بار پھر کڑے امتحان سے دوچار کر دیا۔ اس اسکینڈل کے مرکزی کردار سیف الرحمان نیازی کی جانب سے شروع کی گئی کمپنی نے عوام کو غیر معمولی منافع دینے کا جھانسہ دے کر اربوں روپے بٹورے اور آخرکار خود ساختہ سرمایہ کاری نیٹ ورک کا پول کھل گیا۔
’بی فور یو‘: فراڈ کی ایک نئی شکل
تحقیقات کے مطابق ’بی فور یو‘ کمپنی ایک بظاہر کاروباری نیٹ ورک کے طور پر پیش کی گئی، جس کا دعویٰ تھا کہ وہ ریئل اسٹیٹ، آئی ٹی، مائیکروفنانس اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ کمپنی نے عام شہریوں، خاص طور پر متوسط طبقے اور اوورسیز پاکستانیوں کو 6 سے 10 فیصد بلکہ بعض اوقات 15 سے 20 فیصد ماہانہ منافع دینے کا لالچ دے کر متوجہ کیا — ایک ایسا وعدہ جو روایتی کاروباری ماڈلز میں ممکن نہیں ہوتا۔
کمپنی نے مختلف اسکیمیں، پیکجز، ایونٹس، اور سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو ایک مضبوط، قانونی اور محفوظ ادارہ ظاہر کیا۔ عوام کو یقین دلایا گیا کہ ان کی رقوم محفوظ ہاتھوں میں ہیں، اور انہیں ماہانہ منافع باقاعدگی سے ادا کیا جائے گا۔ لیکن درحقیقت، یہ پورا ماڈل ایک پونزی اسکیم پر مبنی تھا — یعنی پرانے سرمایہ کاروں کو نفع دینے کے لیے نئے سرمایہ کاروں سے حاصل کردہ رقوم استعمال کی جاتی تھیں۔
لاکھوں متاثرین، اربوں کا نقصان
نیب اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی تحقیقات کے مطابق اس اسکینڈل میں ملک بھر سے 3 سے 4 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ کئی متاثرین نے اپنی زمینیں بیچ کر، عمر بھر کی جمع پونجی لگا کر، یا بیرونِ ملک سے رقوم بھیج کر سرمایہ کاری کی، لیکن بالآخر سب کچھ گنوا بیٹھے۔
متاثرین میں دکاندار، سرکاری ملازمین، خواتین، بزرگ شہری اور بیرونِ ملک محنت کش سب شامل تھے۔ اس دھوکے کے نتیجے میں نہ صرف لوگوں کی مالی حالت تباہ ہوئی بلکہ کئی خاندان ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوئے۔
ریگولیٹری ادارے تنقید کی زد میں
ایس ای سی پی پر تنقید کی گئی کہ وہ وقت پر حرکت میں نہیں آیا۔ 2019 میں ادارے نے جب بی فور یو کی سرگرمیوں پر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ کمپنی عوام سے ڈیپازٹ لینے اور سرمایہ کاری کی پیشکش کرنے کے لیے درکار قانونی لائسنس کی حامل ہی نہیں تھی۔ متعدد کمپنیاں تو رجسٹرڈ تھیں، مگر ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں تھا۔
ایس ای سی پی نے بعد ازاں کمپنی کو نوٹسز جاری کیے، لیکن تب تک ہزاروں افراد اپنا سرمایہ لگا چکے تھے۔ جب متاثرین کی شکایات میں اضافہ ہوا اور معاملہ میڈیا کی زینت بنا، تو ایس ای سی پی نے معاملہ نیب کے سپرد کر دیا۔
نیب کی کارروائی، سیف الرحمان کی گرفتاری
نیب نے بی فور یو کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا اور یہ انکشاف سامنے آیا کہ یہ مکمل طور پر ایک پونزی اسکیم تھی۔ نیب نے مرکزی ملزم سیف الرحمان نیازی کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن اور فراڈ کے مقدمات درج کیے۔
تحقیقات کے دوران بی فور یو کی پاکستان بھر میں موجود نیٹ ورک، بینک اکاؤنٹس، جائیدادیں، تشہیری مہم، اور مذہبی و سماجی شخصیات کے ذریعے سرمایہ کاروں کو قائل کرنے کی حکمت عملی سامنے آئی۔ نیب نے 56 بینک اکاؤنٹس، درجنوں جائیدادیں اور دیگر اثاثے منجمد کر دیے۔
ریکوری کا عمل شروع: نیب کی تقریب میں 17,500 متاثرین کو ادائیگی
چھ سال کی قانونی کارروائی، تفتیش، اور اثاثہ جات کی نیلامی کے بعد اب نیب راولپنڈی نے متاثرین کو رقوم واپس کرنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے۔ نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں 17,500 متاثرین کو چیک تقسیم کیے گئے۔
نیب کے مطابق اب تک 7 ارب 30 کروڑ روپے کی رقم برآمد کی جا چکی ہے، جس میں سے ابتدائی مرحلے میں 3 ارب 70 کروڑ روپے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق:
10,000 متاثرین کو مکمل رقوم واپس کی جا چکی ہیں۔
7,500 متاثرین کو ان کے واجبات کا 40 فیصد ادا کیا گیا ہے۔
بقیہ 60 فیصد رقم آئندہ چھ ماہ میں نیلام شدہ اثاثوں سے حاصل کر کے دی جائے گی۔
نیب نے آئندہ مرحلوں میں ادائیگیوں کا طریقہ کار مزید سہل بنانے کے لیے متاثرین کو براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ انہیں دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں۔
عدالتی احکامات اور متاثرین کی اُمیدیں
عدالتوں نے نیب اور ایس ای سی پی کو ہدایت دی ہے کہ وہ متاثرین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں اور رقوم کی واپسی کو یقینی بنائیں۔ متاثرین کی بڑی تعداد اب بھی منتظر ہے کہ انہیں مکمل رقوم واپس مل سکیں۔
خلاصہ اور مستقبل کے خدشات
بی فور یو سکینڈل پاکستان میں سرمایہ کاری کے نام پر ہونے والے فراڈز کا ایک نمایاں اور سبق آموز واقعہ ہے۔ اس نے نہ صرف عوام کی مالی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ مستقبل میں ایسے فراڈز سے بچنے کے لیے ریگولیٹری اداروں کو مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ غیر معمولی منافع کے وعدوں سے ہوشیار رہیں، اور کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کریں، تاکہ دوبارہ کسی ’بی فور یو‘ جیسے دھوکے کا شکار نہ ہوں۔



