پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب حکومت کا غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی شناخت، نگرانی اور گرفتاری کے لیے مربوط مہم شروع کی جائے گی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکی شہریوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں پنجاب پولیس، محکمہ داخلہ، اسپیشل برانچ، ضلعی انتظامیہ اور حساس اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں امن و قانون کی مجموعی صورتحال، غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی اور سکیورٹی خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔


غیر قانونی افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے جامع لائحہ عمل

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی شناخت، نگرانی اور گرفتاری کے لیے مربوط مہم شروع کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی غیر ملکی کو پراپرٹی کرایے پر دینے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور روزانہ کی بنیاد پر ان کارروائیوں کی رپورٹ وزیراعلیٰ آفس میں پیش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پٹواری، نمبردار اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں غیر ملکیوں کو کرایے پر دی جانے والی جائیدادوں کی تفصیلات جمع کریں اور بروقت رپورٹ پیش کریں۔


چہرے سے شناخت کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا تاکہ غیر قانونی باشندوں کی مؤثر نشاندہی ممکن ہو سکے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ فیس ریکگنیشن سسٹم اور ڈیجیٹل ویریفکیشن ٹولز کے ذریعے افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کی شناخت کا عمل تیز کیا جائے۔

عوامی تعاون کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ مساجد کے ذریعے اعلانات اور آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر سکیں۔


45 ہولڈنگ سینٹرز کے قیام کا فیصلہ

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ صوبے بھر میں 45 ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جہاں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو عارضی طور پر رکھا جائے گا۔

یہ مراکز پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ہوں گے، اور یہاں موجود افراد کے دستاویزی ریکارڈ، بائیو میٹرک تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد متعلقہ حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، صوبے کے تمام بڑے شہروں — لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور پشاور سے ملحقہ اضلاع — میں ان ہولڈنگ مراکز کی تیاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔


قانونی کارروائیاں اور مقدمات کا اندراج

پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں غیر قانونی افغان باشندوں کو پراپرٹی کرایے پر دینے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

صرف خانیوال میں اب تک پانچ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت دی کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، اور تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے منصفانہ طور پر کی جائیں۔


غیر قانونی ملازمتوں پر پابندی اور انتہاپسند عناصر کے خلاف کارروائی

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر کام کرنے والے افغان باشندوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کو انتہاپسند جماعتوں کے لیے پرچار کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف جاری آپریشنز سے بھی آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو نفرت انگیز مواد یا انتہاپسند نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔


وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا مؤقف: "منصفانہ مگر مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے”

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس کے دوران کہا:

“غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی مکمل طور پر قانون کے مطابق ہوگی۔ کسی بے گناہ شخص کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا، لیکن ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسے تمام اقدامات کرے گی جو انصاف اور سکیورٹی کے درمیان توازن پیدا کریں۔


پنجاب حکومت کا عزم

پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق، صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پولیس، محکمہ داخلہ، اور نادرا کے درمیان کوآرڈی نیشن کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، ضلعی انٹیلیجنس کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی نگرانی کریں گی۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ غیر قانونی غیر ملکی باشندے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ بعض کیسز میں جرائم، اسمگلنگ اور شدت پسندی سے بھی منسلک ہیں، جن کے خاتمے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔


خلاصہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبائی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل ہوگا۔

تاہم، تمام اقدامات قانونی، منصفانہ اور انسانی حقوق کے احترام کے ساتھ انجام دیے جائیں گے تاکہ نہ صرف صوبے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے بلکہ عوام میں اعتماد اور تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button