بین الاقوامیاہم خبریں

سوڈان کا خونریز تنازعہ: غیر ملکی اثر و رسوخ اور عالمی مداخلت

غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت نے اس تنازعے کو کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہلک بنا دیا ہے

خرطوم: سوڈان میں جاری خونریز تنازعہ ایک نیا موڑ لے چکا ہے، جس کی شدت اور پیچیدگی میں غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت نے مزید اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے باغیوں کی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے دارفور شہر پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں سوڈانی شہریوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں۔ اس وحشیانہ جنگ میں گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سوڈان کی جنگ کو اکثر دو متحارب جرنیلوں کے درمیان داخلی کشمکش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت نے اس تنازعے کو کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہلک بنا دیا ہے۔ سوڈان کی جغرافیائی اہمیت اور وسائل نے اس علاقے کو عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سوڈان کی جغرافیائی اہمیت اور وسائل

سوڈان ایک اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ملک ہے جو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحل پر تقریباً 500 میل کے فاصلے پر واقع سوڈان کا مقام عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ سوڈان میں زرعی زمین کے وسیع ذخائر اور سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو عالمی طاقتوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ سوڈان دنیا میں عربی گم، خوراک، دواسازی، اور کاسمیٹکس کے اجزاء کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے، جس سے یہ عالمی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بن چکا ہے۔

سوڈان کے پانیوں میں بھی ایک اہم حکمت عملی ہے، کیونکہ بلیو نیل کا دریا اس کے علاقے سے بہتا ہے، جو آبی سفارت کاری میں سوڈان کے کلیدی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر سوڈان کے اندر جنگ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

بین الاقوامی مداخلت اور جنگ بندی کی کوششیں

گزشتہ جمعرات کو دارفور میں مبینہ قتل عام پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان، RSF نے چار ممالک کی جانب سے تجویز کردہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ممالک ہیں: امریکہ، متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب، جنہیں عالمی سطح پر "کواڈ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ RSF اور سوڈانی مسلح افواج (SAF) کے ساتھ "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے براہ راست بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔”

امریکی محکمہ خارجہ نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ سوڈانی عوام کی تکالیف کو کم کرنے اور تشدد کو کم کرنے کی فوری ضرورت کے پیش نظر اس جنگ بندی پر اتفاق کریں۔ تاہم، ان ممالک کی مداخلت نے تنازعہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ انہی ممالک پر سوڈان کے تنازعے میں مختلف طریقوں سے مداخلت کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

غیر ملکی طاقتوں کا اثر و رسوخ

کواڈ ممالک میں سے تین – متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر – کے علاوہ روس اور کئی مغربی حکومتوں پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے سوڈان میں تنازعہ کو متاثر کرنے کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی، مالی امداد، لاجسٹک مدد اور سفارتی حمایت فراہم کی ہے۔ ان ممالک نے ابتدائی طور پر سوڈانی فوج کی حمایت کی، خاص طور پر جب سوڈانی فوج نے 2019 میں طویل عرصے سے آمر عمر البشیر کو معزول کیا اور پھر 2021 میں بغاوت کے ذریعے اپنی طاقت مستحکم کی۔

جب جنرل محمد حمدان دگالو، جو RSF کے سربراہ ہیں، اور سوڈانی فوج کے آرمی چیف عبدالفتاح البرہان کے درمیان کشیدگی بڑھنا شروع ہوئی، تو غیر ملکی طاقتوں کو مجبوراً ایک فریق کا انتخاب کرنا پڑا۔ اس کے بعد ان ممالک کی حمایت کا تنازعہ اور شدت اختیار کر گیا۔

متحدہ عرب امارات کا کردار

متحدہ عرب امارات پر سوڈانی باغیوں RSF کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کے گروہ دارفور سے ملنے والے ہتھیاروں کا سراغ متحدہ عرب امارات تک پہنچاتے ہیں، اور امریکی حکومت نے بھی خلیجی ملک میں مقیم کئی کمپنیوں اور RSF باغیوں کے درمیان روابط کا ذکر کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ماہر پینل نے 2022 میں کہا تھا کہ ان الزامات کی "قابلِ اعتبار” بنیادیں ہیں۔

یہ الزام اس وقت مزید تقویت پکڑ گیا جب امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے گزشتہ ہفتے مطالبہ کیا کہ RSF کو سرکاری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے، اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات سمیت دیگر غیر ملکی حمایت کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ سوڈان کے تنازعے میں مداخلت سے باز آئیں۔ کمیٹی نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت روک دے۔

پاکستان اور دیگر عالمی رائے

سوڈان کے تنازعے کے بارے میں عالمی سطح پر مختلف رائے ہیں، اور کئی ممالک نے اس جنگ میں ملوث فریقوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ ایک طرف جہاں عالمی طاقتیں سوڈانی فوج کی حمایت کر رہی ہیں، وہیں دوسری جانب مغربی ممالک اور انسانی حقوق کے گروہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ RSF کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مختلف افریقی ممالک نے بھی اس جنگ کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ سوڈان کا امن پورے افریقی خطے کو متاثر کرتا ہے۔

سوڈانی عوام کی حالت اور عالمی برادری کی ذمہ داری

سوڈان میں جنگ کے دوران عام شہریوں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ سوڈانی عوام نے کئی بار عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ مزید خونریزی اور تباہی سے بچا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بار بار سوڈان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

مقامی سوڈانی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کو تنازعے میں مداخلت کی بجائے سوڈان کی عوامی مفاد کی حمایت کرنی چاہیے۔ دارفور میں ہونے والے قتل عام کی رپورٹس نے دنیا بھر میں سوڈانی عوام کے لئے ہمدردی اور حمایت کے جذبات کو بڑھا دیا ہے، اور اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خونریز جنگ کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدام کرے۔

نتیجہ:

سوڈان میں جاری جنگ ایک پیچیدہ عالمی بحران بن چکی ہے، جہاں غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت نے تنازعے کو مزید سنگین اور مہلک بنا دیا ہے۔ سوڈان کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت نے اسے عالمی سطح پر کئی ممالک کا مرکزِ توجہ بنا دیا ہے، اور اس جنگ میں غیر ملکی حمایت نے فریقین کے درمیان تنازعہ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ عالمی برادری کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ سوڈان کے بحران کا حل صرف انسانی ہمدردی اور امن کی بنیاد پر ممکن ہے، نہ کہ غیر ملکی مفادات کے ذریعے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button