
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایڈمرل نوید اشرف اور ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی جانب سے میجر شبیر شریف شہید کی 54 ویں یوم شہادت پر خراجِ عقیدت
میجر شبیر شریف نے غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو گھیرے میں لے لیا اور دشمن کے کمانڈر میجر نارائن سنگھ کو ہلاک کر دیا۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ
افواج پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام نے میجر شبیر شریف شہید، نشان حیدر کی 54 ویں یوم شہادت کو بڑی عقیدت و احترام سے منایا۔ چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے شہید کی بے مثال بہادری اور مادرِ وطن کے لیے ان کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میجر شبیر شریف کی قربانی اور بہادری نہ صرف پاک فوج کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک عظیم روایت اور قومی فخر ہے۔
میجر شبیر شریف شہید کی بے مثال بہادری: 1965 اور 1971 کی جنگوں میں ناقابلِ فراموش کردار
میجر شبیر شریف شہید نے اپنی بہادری سے نہ صرف پاکستانی فوج کے شجاع سپاہی ہونے کا قائل کرایا بلکہ ان کا نام تاریخ کے سنہری بابوں میں درج ہو گیا۔ 1965 کی جنگ کے دوران، انہوں نے دشمن کے خلاف غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا اور بہادری کے لیے ستارہ جرات حاصل کیا۔ تاہم، 1971 کی جنگ میں ان کی قربانی نے انہیں ایک نیا تاریخی مقام عطا کیا۔
جب 1971 کی جنگ میں سلیمانکی ہیڈ ورکس کے قریب ایک اسٹریٹجک پوزیشن پر قبضہ کرنے کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ڈالی گئی، تو میجر شبیر شریف نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس موقع کو کامیابی کی طرف بڑھایا۔ 5 اور 6 دسمبر کی رات کو، جب دشمن کی فوج نے بھرپور طاقت سے حملہ کیا، میجر شبیر شریف نے غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو گھیرے میں لے لیا اور دشمن کے کمانڈر میجر نارائن سنگھ کو ہلاک کر دیا۔
شہادت کا لمحہ: دشمن کے حملوں کا مقابلہ اور قربانی
6 دسمبر 1971 کی صبح، میجر شبیر شریف نے دشمن کے متعدد جوابی حملوں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر ایک پیچھے ہٹنے والی رائفل کے ساتھ ٹینکوں کی طرف بڑھتے ہوئے دشمن کے حملے کو ناکام بنایا۔ اس دوران وہ نہ صرف اپنے ساتھیوں کی قیادت کر رہے تھے بلکہ دشمن کی پیشقدمی کو روکنے کے لیے اپنے جسم کو سینہ تان کر میدانِ جنگ میں چھوڑ چکے تھے۔ میجر شبیر شریف نے اپنی زندگی کی قربانی دے کر سلیمانکی ہیڈ ورکس کو بھارتی حملے سے بچایا اور آخرکار وہ بھارتی ٹینک کے گولے سے ٹکرا کر شہید ہوگئے۔
آگ میں غیر معمولی قیادت اور بے مثال قربانی
میجر شبیر شریف کی قیادت کی نوعیت اور ان کی قربانی پاک فوج کی بہترین روایات کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی بہادری اور جرات نے نہ صرف ان کے جوانوں کی ہمت بڑھائی بلکہ پوری قوم کو ایک نئی روشنی دی۔ انہوں نے اپنی زندگی کی آخری گھڑی تک اپنے ملک کی حفاظت اور اس کے دفاع میں کمیاب ہونے کی ٹھانی اور اپنی جان وطن کے لیے وقف کر دی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایڈمرل نوید اشرف اور ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ "میجر شبیر شریف کی قربانی پاک فوج کی ایک عظیم روایت اور پاکستانی قوم کے لیے ایک تحریک ہے۔ انہوں نے مادر وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جان دی، اور ان کا یہ عمل نہ صرف پاک فوج کے لیے، بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ ان کی قربانی نے ایک نئی نسل کو وطن کی خدمت کے لیے متاثر کیا اور اس کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔”
شہداء کی قربانیوں کا اعتراف اور قوم کے لیے پیغام
پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی قربانیوں کے بدلے وطن کی آزادی اور خودمختاری کا عہد کرتی ہیں۔ ان کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
یوم شہادت کے موقع پر، فوجی حکام نے شہید میجر شبیر شریف کی بہادری اور قربانیوں کو ایک عظیم علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ بہادر سپاہی پاک فوج کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کا کردار نئی نسل کے لیے ایک سبق ہے۔” ان کے اس عزم اور لگن کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
مسلح افواج نے اپنے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں پاکستان کی بقا کی ضمانت ہیں اور ان کی ہمت و استقامت کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی قربانیوں کو نہ صرف تاریخ میں بلکہ قوم کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔
شہید کی بہادری: قوم کی خدمت میں روشن راہیں
میجر شبیر شریف کی قربانی اور ان کی غیر معمولی قیادت پاکستان کی مسلح افواج کی بہترین روایات کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی جرات، بہادری اور وطن کے لیے دی جانے والی قربانی نہ صرف ان کے ساتھیوں کے لیے ایک تحریک ہے، بلکہ یہ پورے پاکستان کے لیے ایک روشن راہ دکھاتی ہے۔ ان کا نام تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
خلاصہ
یوم شہادت میجر شبیر شریف شہید ایک موقع ہے جب پاکستان کی مسلح افواج اپنے تمام شہداء کو یاد کرتی ہیں جنہوں نے وطن کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میجر شبیر شریف کی قربانی اور قیادت کا درس ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی بہادری کا ورثہ پاکستانی قوم کے لیے ہمیشہ ایک عظیم فخر بن کر رہے گا۔



