پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں بلیو اکانومی کا تاریخی آغاز، شرمپ فارمنگ کا سب سے بڑا منصوبہ عملی شکل اختیار کر گیا

بنجر اور سیم زدہ زمینوں کو پہلی مرتبہ شرمپ فارمنگ کے ذریعے قابلِ استعمال بنایا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں تنوع آئے گا بلکہ زمینوں کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی وژنری قیادت میں صوبہ پنجاب میں بلیو اکانومی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ آبی وسائل سے پائیدار معاشی ترقی کے خواب کو حقیقت میں بدلتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے شرمپ فارمنگ کے بڑے منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جسے پنجاب کی تاریخ میں بلیو اکانومی کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے مطابق اس منصوبے کے تحت سرگودھا اور علی پور میں مجموعی طور پر 5 ہزار 600 ایکڑ اراضی پر جدید شرمپ اسٹیٹس قائم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ بنجر اور سیم زدہ زمینوں کو پہلی مرتبہ شرمپ فارمنگ کے ذریعے قابلِ استعمال بنایا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں تنوع آئے گا بلکہ زمینوں کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

سرگودھا میں تیز رفتار پیش رفت

سرگودھا میں شرمپ فارمنگ منصوبے کی 15ویں یومیہ ترقیاتی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 20 ایکڑ اراضی پر 9 تالاب مکمل طور پر تیار کر لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 ہزار 320 میٹر ڈرینج سسٹم کی تنصیب کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں مزید 10 ایکڑ اراضی کے لیے سروے کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

معیار اور تحقیق پر خصوصی توجہ

شرمپ فارمنگ کے عالمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں قائم کی جانے والی کوالٹی کنٹرول لیبارٹری کا 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسی طرح مظفرگڑھ میں تحقیق اور شرمپ فارمنگ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کی لیبارٹری کا 98 فیصد تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

منصوبے کی کامیابی کے لیے پاکستانی ماہرین کے سعودی عرب اور میکسیکو کے تربیتی دورے بھی مکمل ہو چکے ہیں، جہاں انہوں نے جدید شرمپ فارمنگ تکنیک، بیماریوں سے بچاؤ اور برآمدی معیار کے حوالے سے خصوصی تربیت حاصل کی۔

بین الاقوامی ماہرین کی شمولیت اور افرادی قوت کی تیاری

پنجاب میں شرمپ فارمنگ کی ٹیکنیکل تربیت کے لیے غیر ملکی ماہرین جیفری اور جیمی ڈومین سیک بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ منصوبے کے لیے 100 انٹرنز کے تحریری امتحانات مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ عملے کی فراہمی کا عمل بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

منصوبے کے تحت 32 ٹیوب ویلوں اور 8 ٹرانسفارمرز کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ تحقیقی مقاصد کے لیے 64 تالابوں میں شرمپ کا بیج بھی ڈالا جا چکا ہے۔

بڑے شرمپ اسٹیٹس اور ویلیو چین کی تشکیل

سرگودھا کے چک نمبر 58 میں 124 ایکڑ اراضی پر شرمپ اسٹیٹ اور مکمل ویلیو چین قائم کی جا رہی ہے، جہاں اب تک 57 تالابوں کی کھدائی مکمل ہو چکی ہے۔
اسی طرح رکھ علی ولی، مظفرگڑھ میں شرمپ فارمز کے لیے 2 ہزار 507 ایکڑ اراضی کی صفائی اور ہموار کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جہاں 57 تالابوں اور 50 ٹیوب ویلز کی کھدائی بھی مکمل ہو چکی ہے۔

برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ شرمپ فارمنگ کے آغاز سے پنجاب کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور صوبے کی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور بین الاقوامی معیار کے ذریعے بلیو اکانومی کو فروغ دے رہی ہے، جو صوبے کی معاشی خودمختاری اور پائیدار ترقی کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

پنجاب میں معاشی انقلاب کی نئی بنیاد

ماہرین کے مطابق پنجاب میں شرمپ فارمنگ کا یہ منصوبہ نہ صرف زرعی شعبے میں انقلاب لائے گا بلکہ بلیو اکانومی کے ذریعے آمدن، برآمدات اور روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں یہ منصوبہ پنجاب کی معاشی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہونے کی توقع ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button