پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

معروف مصنف اور محقق سید حیدر علی کا موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کی کوششوں پر اظہار خیال

عوامی سطح پر آگاہی اور تعاون اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

قاسم بخاری-وائس آف جرمنی اردو نیوز،ریڈیو پاکستان کے ساتھ

معروف مصنف اور محقق سید حیدر علی نے کہا ہے کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور بروقت اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈیو پاکستان کے نمائندے غلام حیدر سے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا، جہاں انہوں نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، حکومت کی پالیسیوں اور مستقبل کے امکانات پر تفصیل سے بات کی۔

موسمیاتی تبدیلی: ایک عالمی چیلنج

سید حیدر علی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا عالمی مسئلہ ہے جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر خشک سالی، سیلاب اور زراعت پر اس کے اثرات زیادہ شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر آگاہی اور تعاون بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام

سید حیدر علی نے پنجاب حکومت کے "گرین کریڈٹ پروگرام” کو ایک اہم اقدام قرار دیا، جس کا مقصد صوبے میں کاربن مارکیٹ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ماحولیاتی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کے مسائل سے نمٹنے اور پائیدار ماحولیاتی طریقۂ کار کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ پروگرام نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ اقتصادی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا، خاص طور پر وہ علاقے جو ماحولیاتی اثرات سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔”

گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت کاروباری اداروں اور کسانوں کو ماحول دوست اقدامات اپنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جو کہ کاربن کے اخراج میں کمی، صاف توانائی کے استعمال اور قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے اہم ہے۔

پائیدار غذائی تحفظ اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت

سید حیدر علی نے پاکستان میں پائیدار غذائی تحفظ کے لیے موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر غذائی تحفظ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کسانوں کو موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلوں کی کاشت کی ترغیب دینی چاہیے اور پانی کے مؤثر انتظام کے حوالے سے آگاہی بڑھانی چاہیے۔

"پاکستان میں پانی کا شدید بحران ہے اور اس کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے زراعت کی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں تو یہ نہ صرف غذائی تحفظ کے مسئلے کو حل کرے گا بلکہ ہمارے کسانوں کی معیشت کو بھی مستحکم کرے گا۔” سید حیدر علی نے مزید کہا۔

ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت

سید حیدر علی نے حکومت کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ، شجرکاری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شجرکاری کے منصوبے نہایت اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ درخت نہ صرف ماحول کو صاف رکھتے ہیں بلکہ سیلاب اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

"پاکستان میں شجرکاری کے پروگرامز کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور حکومت نے اس جانب اہم قدم اٹھائے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں شجرکاری کے منصوبوں کی کامیابی سے نہ صرف ماحولیاتی بہتری آئی ہے بلکہ ان سے معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔”

مربوط قومی پالیسیوں اور عوامی شمولیت کی ضرورت

سید حیدر علی نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے مربوط قومی پالیسیوں، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی شمولیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر کام کریں تو پاکستان موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے کلیدی کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں آگاہ کریں تو مستقبل میں وہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک امید کی کرن

سید حیدر علی نے کہا کہ اگر موجودہ موسمیاتی پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے اور عالمی سطح پر پاکستان کے اقدامات کی حمایت کی جائے تو پاکستان موسمیاتی خطرات پر قابو پا سکتا ہے اور ماحولیاتی پائیداری کے میدان میں ایک علاقائی رہنما کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

"پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زیادہ شدت سے سامنے آ رہے ہیں، مگر اگر ہم ایک موثر اور جامع حکمت عملی اپنائیں تو نہ صرف ہم ان اثرات سے بچ سکتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی پائیداری کے لیے ایک نمونہ بھی بن سکتے ہیں۔”

آگے کی حکمت عملی

سید حیدر علی نے حکومت کی موجودہ پالیسیوں کو سراہا اور کہا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل اور انہیں عملی طور پر نافذ کرنا پاکستان کے لیے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی، شجرکاری، پائیدار زراعت، پانی کے مؤثر انتظام اور قابل تجدید توانائی کے فروغ جیسے اقدامات پاکستان کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم ہیں۔

ان کے مطابق، "پاکستان کی موسمیاتی پالیسیوں میں تسلسل اور تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ہم نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا کے لیے ایک بہتر ماحول تخلیق کر سکیں۔”

اختتام

سید حیدر علی نے آخر میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک طویل اور چیلنجنگ سفر ہے، لیکن اگر تمام شعبے مل کر اس پر کام کریں تو پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کر سکتا ہے اور ماحولیاتی پائیداری کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button