کالمزسید عاطف ندیم

غزہ پٹی: نیا سال اور امن کی امیدیں……سید عاطف ندیم

2025 میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کے درمیان لڑائیوں نے غزہ میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا، مکانات تباہ ہو گئے، ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے

غزہ پٹی، جسے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے بحران اور جنگی تنازعات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، 2026 کے آغاز پر پھر سے ایک نیا سوال اٹھا رہا ہے: آیا یہ سال غزہ کے عوام کے لئے امید کی کرن بنے گا؟ ہر سال کی طرح، غزہ کے باشندے اس نئے سال میں بھی اپنی زندگی کی بقا کے لئے لڑنے کی طاقت اور حوصلہ رکھتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کے دل میں یہ خوف بھی ہے کہ شاید ایک اور سال پھر سے بے امیدی، جنگ، اور تشویش کا سامنا کر کے گزر جائے گا۔

غزہ پٹی میں تقریباً دو ملین افراد رہائش پذیر ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ، دہشت گردی، اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ غزہ کی سرزمین میں زندگی گزارنا ایک طویل عرصے سے ایک عذاب بن چکا ہے، اور 2025 میں حالات مزید سنگین ہوگئے۔ اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں نے نہ صرف غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا بلکہ غزہ کے عوام کی زندگیوں میں مزید مشکلات ڈال دیں۔

غزہ پٹی کی موجودہ صورتحال عالمی سطح پر ایک سنگین انسانی بحران کے طور پر پہچانی جا رہی ہے۔ روزمرہ کی زندگی کو جاری رکھنا غزہ کے باشندوں کے لئے ایک انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔ غزہ میں پانی، بجلی، صحت کی سہولتیں اور تعلیم کی فراہمی کے بحران کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کو بنیادی ضروریات کے لئے جنگ کا سامنا ہے، اور یہ بحران بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت ہر عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔

غزہ کی معیشت کا دارومدار امدادی فنڈز اور بین الاقوامی مالی مدد پر ہے، لیکن یہ امداد مستقل اور کافی نہیں ہے۔ بے روزگاری کی شرح انتہائی بلند ہے، جس کی وجہ سے غزہ کے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا۔ غزہ کے نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے، روزگار کے مواقع تلاش کرنے اور بہتر زندگی گزارنے کے لئے بیرون ملک جانے کا خواب دکھایا گیا تھا، لیکن ان کے راستے میں اسرائیل کی پابندیاں اور عالمی سیاسی معاملات ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آتی ہیں۔

2025 میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کے درمیان ہونے والی جنگ نے غزہ میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا، مکانات تباہ ہو گئے، اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ غزہ کے علاقے میں صحت کی سہولتوں کی کمی کے باعث مریضوں کو علاج کے لئے نہ صرف بیرون ملک جانا پڑا بلکہ ان کا علاج بھی بہت مشکلات کا شکار ہو گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حالیہ ملاقات نے غزہ کے عوام کے دلوں میں ایک ہلکی سی امید کی کرن روشن کی تھی۔ فلوریڈا میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے پر بات چیت کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن قائم کرنے کے لئے مزید بات چیت اور مشترکہ حل تلاش کیا جائے گا۔

اس ملاقات کے بعد کچھ امید کی کرن نظر آئی تھی کہ شاید یہ بات چیت غزہ کے عوام کے لئے بہتر نتائج کا باعث بن سکے گی، لیکن غزہ کے باشندوں کے درمیان اس منصوبے کے بارے میں گہری تشویش اور خوف بھی موجود ہے۔ غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امن کے وعدوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن عملی طور پر کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی۔ احمد ابو صالح، جو غزہ کا مقامی شہری ہے، نے کہا: "ہمیں ہر بار امید دی جاتی ہے کہ کچھ بہتر ہوگا، مگر ہر بار حالات بدتر ہو جاتے ہیں۔ نیا سال شروع ہو رہا ہے، مگر ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ سال ہمارے لیے کوئی خوشی لے کر آئے گا۔”

غزہ کے شہریوں کی تشویش یہ ہے کہ ماضی میں جو امن منصوبے پیش کیے گئے تھے، وہ محض کاغذوں تک محدود رہے اور عملی طور پر ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ غزہ میں گزشتہ کئی سالوں میں مختلف امن منصوبے پیش کیے گئے، جن میں کئی بار اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کے درمیان مذاکرات کی تجویز دی گئی، لیکن ان میں سے کوئی بھی عملی طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔ مذاکرات اکثر اتنی کمزور بنیادوں پر شروع ہوئے تھے کہ ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اور غزہ کے عوام کو وہی پرانی حالت میں واپس آنا پڑا۔

غزہ کے عوام کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں اور دونوں فریقین میں ایک حقیقی سیاسی حل نہیں نکلتا، تب تک امن کا خواب محض ایک افسانہ رہے گا۔ غزہ کے شہریوں نے عالمی سطح پر ہونے والی مدد اور کوششوں کے باوجود کبھی بھی کسی حقیقی تبدیلی کو محسوس نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کی جانے والی کوششیں اور بیانات محض وقت کا ضیاع ہوتے ہیں، جو غزہ کے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد نہیں کر رہے۔

غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے امن کے وعدوں کا سامنا کر چکے ہیں، لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں بدلا۔ "ہمیں ہر بار امید دی جاتی ہے کہ کچھ بہتر ہوگا، مگر ہر بار حالات بدتر ہو جاتے ہیں،” غزہ کے ایک مقامی شہری احمد ابو صالح نے کہا۔ "نیا سال شروع ہو رہا ہے، مگر ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ سال ہمارے لیے کوئی خوشی لے کر آئے گا۔”

غزہ کے لوگ ہمیشہ امن کی دعا کرتے ہیں، لیکن ان کی نظر میں امن کے وعدے صرف کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ "ہمیں ہمیشہ یہی کہا گیا کہ امن آئے گا، لیکن ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ یہ وعدے کبھی پورے نہیں ہوئے۔ ہمیں یہ یقین ہے کہ جب تک ہم خود اپنے حقوق کے لئے نہیں لڑیں گے، کوئی بھی بیرونی طاقت ہماری مدد نہیں کرے گی،” غزہ کی ایک نوجوان طالبہ فاطمہ نے کہا۔

غزہ میں امن قائم کرنے کے لئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے بار بار کوششیں کی ہیں، لیکن غزہ کے عوام محسوس کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی مداخلت صرف سطحی اور وقتی ہوتی ہے۔ فلسطینی رہنما اور حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تک کوئی حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان فریقین کے درمیان ایک طویل مدتی سیاسی حل نہ نکلے۔

غزہ کے عوام کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنی آزادی کے لئے مستقل جدوجہد کرنی ہوگی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر امدادی کارروائیاں جاری رہتی ہیں، لیکن جب تک ان کے سیاسی حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، تب تک کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔ "ہم امن کی دعا کرتے ہیں، لیکن ہمیں خود اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا،” غزہ کے ایک نوجوان طالب علم فاطمہ نے کہا۔

غزہ کی معیشت کا دارومدار امدادی فنڈز اور بین الاقوامی مالی مدد پر ہے، لیکن یہ امداد مستقل اور کافی نہیں ہے۔ بے روزگاری کی شرح انتہائی بلند ہے، اور تعلیمی اداروں میں بھی بے شمار مشکلات کا سامنا ہے۔ غزہ کے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح منصوبہ نظر نہیں آتا۔ غزہ کے علاقے میں بے روزگاری کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے، اور کئی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

غزہ کے لوگ ایک نئی روشنی کی امید میں ہیں، لیکن ان کی زندگی کا مستقبل عالمی سیاست اور طاقتور ممالک کے فیصلوں کے تابع ہے۔ آیا نئے سال میں غزہ کے عوام کے لیے کوئی خوشی کی خبر آ سکے گی یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غزہ کے عوام کی حالت بہتر بنانے کے لیے عالمی سطح پر ایک جامع اور حقیقی سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

غزہ کی سرزمین پر امن کے آثار تب ہی نظر آئیں گے جب دونوں فریقین، اسرائیل اور فلسطینیوں، کے درمیان ایک حقیقی اور دیرپا معاہدہ طے پائے گا، جس سے نہ صرف غزہ کے باشندوں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک روشن اور محفوظ مستقبل کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button